مینگورہ، غیرسرکاری تنظیم سیاد کے نمائندوں اسماعیل اورحارث بدرنے کہاہے کہ خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کی سیاسی سماجی اور معاشی خود مختیاری اور انہیں خوشحالی دلانے اور ان کی مہارتیں بڑھانے کیلئے طویل مشاورت اور نوجوانوں کی بھر پور نمائندگی سے تشکیل دی جانے والی یوتھ پا لیسی کی منظوری میں مزید تاخیر خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو مایوس اور نا امیدی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز دیگرساتھیوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخواہ کے تمام اراکین اسمبلی سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی وابستگی کو بالا طاق رکھتے ہوئے صوبائی اسمبلی سے یوتھ پالیسی کو منظور کرائیں ، ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد یوتھ پالیسی کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرکے صوبے میں نوجوانوں کی خوشحالی، مہارتیں بڑھانے اور انہیں سیاسی ، سماجی اور اقتصادی طور پر با اختیار بنانے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں،انہوں نے کہاکہ روزگار میں لڑکیوں کے لئے کوٹہ مختص کیا جائے، نوجوانوں کی مشادات کیلئے اضلاع کی سطح پر ہیلپ لائن سروس شروع کی جائے ، صحت مند انہ سرگرمیوں کے فروغ کیلئے نوجوانوں کو مقامی سطح پر کھیل کے میدان اور دیگر سہولیات فراہم کئے جائیں،انہوں نے کہاکہ غریب اور ہونہار طلباء و طالبات کو تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنے کیلئے وظائف فراہمی کا مربوط نظام بنایا جائے، ناخواندہ نوجوانوں کیلئے تعلیم بالغاں کی کلاسز شروع کئے جائیں اور انہیں ہنر مند بنا کر خود روزگار کیلئے انہیں بلا سود قرضے آسان شرایط پر فراہم کئے جائیں ، انہوں نے کہاکہ جیلوں میں بند نوجوانوں کو کارآمد شہری بنانے کے منصوبے شروع کئے جائیں اورکم عمری کی شادیاں روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔
684 total views, no views today


