نصاب کے لئے انگریزی میں لفظ cirriculm استعمال کیا جاتا ہے جو یونانی زبان کے لفظ curreeسے اخذ کیا گیا ہے، جس کے معنی رن وے یا وہ راستہ جس پر دوڑ ا جاتا ہے کے ہیں۔ اگر کسی ملک کے بچوں کے لئے راستے ہی الگ الگ چنے جائیں، تو ان کی منزل کیسے ایک ہو سکتی ہے؟ وہ کیسے ایک سوچ کے مالک بن سکتے ہیں؟ صوبۂ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کی اصلاح کے لئے پُرعزم ہے۔ صحت کے شعبے میں تو کافی بہتری نظر آ رہی ہے، البتہ تعلیم کے شعبہ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ چونکہ نصاب تعلیمی نظام کا ایک اہم عنصر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم سے وابستہ پاکستانی اسکالرز اور ماہرین تعلیم، حکومت کی رہنمائی کے لئے نصاب کی اہمیت اور مقاصد پر اظہار خیال کریں اور تعلیم کوغیر ملکی این جی اوز کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جائے۔
اب اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی صوبے میں ایک ہی نصاب یعنی یکساں نصاب کا ہونا ضروری ہے۔ دورِ نبویﷺ سے لے کر مغل حکومت تک اگر نظر دوڑائی جائے، تو یہ بات صاف ہے کہ اس وقت میں نصاب سب کے لئے ایک تھا۔ امیر اور غریب طبقہ کے لئے کوئی علیحدہ نصاب نہیں تھا۔
اس طرح پاکستان حاصل کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تمام شہریوں کو تعلیم حاصل کرنے،زندگی کی دوسری آسانیاں حاصل کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں، مگر افسوس چھیا سٹھ سال گزرنے کے باوجود یکساں تعلیمی نظام ہی رائج نہ ہو سکا۔ انگلش اور اردو میڈیم سکولوں سے فارغ طلبہ میں بھی ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں یکساں طرز تعلیم ہواور تعلیم ایسی ہو جو ہماری قومی اور اسلامی اقدار کے عین مطابق ہو۔ نصاب تعلیم ایسا ہو جو شعور دے سکے۔ سوچنے اور فکر کرنے کی صلاحیت دے سکے۔ طالب علم کودنیا کائنات اور اس کے عوامل پر غور و خوض کرنے کے قابل بنائے اور اس کے اندر سمجھنے، سمجھانے اور تسخیر کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ اس وقت میٹرک اور ایف اے، ایف اے سی ایک جیسا ہے مگر نرسری تا مڈل نصاب میں بہت زیادہ فرق ہے۔
حکومت وقت سے گزارش ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر نصاب کی اپنی اپنی خواہش کے مطابق اپنائی جانے والی روش کو فی الفورختم کیا جائے۔ہم جانتے ہیں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے لیکن نا ممکن بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ایک ہی جست میں ایسا کرنا تصادم کی فضا قائم کر دے گا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں رہنے والے با شعوراور تجربہ کارافراد کو یہ کام سونپا جائے جو فرض شناسی کے ساتھ نصاب کی تبدیلی اور درج بالاعوامل کو سامنے رکھتے ہوئے غور و خوض کریں اور مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے والی قوم کے معماروں کے لئے حتی الامکان بہتر سے بہتر نصاب تجویز کریں۔
730 total views, no views today


