مینگورہ، سوات میں لیڈی ڈاکٹروں نے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا،حاملہ خواتین کے وقت سے قبل اپریشن بھی کئے جاتے ہیں،ایک ایک مریض سے بیس اورپچیس ہزارروپے فیس وصول کی جاتی ہے، قبل ازوقت اپریشنوں سے زچہ وبچہ مختلف امراض مبتلا ہونے لگے، حکومت سے توجہ دینے کا مطالبہ ،معلوم ہوا ہے کہ مینگورہ ،سیدوشریف اور دیگر علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر مریض خواتین سے بے تحاشہ فیس وصول کررہی ہیں اوراپنی فیس کی خاطر حاملہ خواتین کا قبل ازوقت اپریشن بھی کرتی ہیں جس کے سبب زچہ وبچہ مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ،عوام کاکہناہے کہ لیڈی ڈاکٹرز اپنی لیبارٹریوں میں مریضوں سے غیر ضروری خون ٹیسٹ اورالٹراساؤنڈ بھی کراتی ہیں جن مین اکثر ٹیسٹوں کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہوتی ،ایک ایک حاملہ خاتون سے اپریشن اورٹیسٹوں کی مد میں بیس سے لے کرپچیس ہزاراوربعض اوقات اس سے بھی زیادہ فیس وصول کی جاتی ہے مگر اس طرف ابھی تک کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی ہے جس کے سبب ان لیڈی ڈاکٹروں کے حوصلے مزید بلندہورہے ہیں اور وہ بلا خوف وخطر مریضوں سے خودساختہ فیسیں وصول کررہی ہیں ،اس کے علاوہ بیشتر لیڈی ڈاکٹروں نے اپنی کلینکوں اورپرائیویٹ ہسپتالوں میں میڈیکل سٹور بھی کھول رکھے ہیں اور مریضوں کو وہاں سے ادویات خریدنے کی ہدایت دیتی ہیں، عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ان ڈاکٹروں کو ایک مناسب فیس کا پابند بنائے۔
560 total views, no views today


