سوات،ضلع سوات کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال سنٹرل ہسپتال کے کیجولٹی وارڈ میں میل نرس خواتین کے ای سی جی کرنے لگے، رات کو ڈاکٹر ز اور نرسز مریضوں کیساتھ مذاق کرکے ان کے جذبات کیساتھ کھیلنے لگے، گندگی کے ڈھیر اور مختلف گروپوں کی وجہ سے نیا کیجولٹی قبرستان بن گیا، میل اور فی میل نرس کیلئے مریضوں کے رشتہ دار در در کی ٹکریں کھانے پر مجبور ہیں، ایم ایس ڈاکٹر مقصود، کیجولٹی انچارج ڈاکٹر محمد خان فون نہیں اٹھارہے نہ ہی میسیج کا جواب دیتے ہیں، تین اضلاع کیلئے قائم ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سنٹرل ہسپتال کے کیجولٹی (حادثات اتفاقیہ) کا کوئی پرسان نہیں، رات کو فی میل نرس ، میل نرس اور ڈاکٹرز کا رویہ انے والے مریضوں کیساتھ انتہائی غیر مہذبانہ ہوتا ہے، میل نرس ، فی میل نرس نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کی ای سی جی کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ میل نرس کی جانب سے ہسپتال مین موجود فی میل نرس سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ انکار کردیتے ہیں، جبکہ فی میل ڈاکٹرز کی بات بھی نہیں مانتے،رات کے وقت کیجولٹی انے والے مریض فی میل نرس کو ڈھونڈتے ڈھونتے تک جاتے ہیں، جبکہ رات کے عملے کی شکایت کے حوالے سے ہستپال انتظامیہ سے رابطہ کیا جاتا ہے، تو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مقصود کا فون نمبر 09469240126 کو اس کا اسسٹنٹ اٹھا کر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر میٹنگ کیلئے پشاور گء ہیں، اور وہ کیجولٹی انچارج ڈاکٹر محمد خان کا نمبر دیتے ہیں ، ڈاکٹر محمد خان اپنا موبائل نمبر 03005744022 نہیں اٹھاتے اور نہ ہی میسیج کا جواب دیتے ہیں، کیجولٹی میں رات کے وقت انے والے مریضوں کا کوئی پرسان نہیں ، جبکہ میل اور فی میل وارڈ کی صفائی سے لگتا ہے کہ یہ کوئی گندگی پھینکنے والی جگہ ہے، ہسپتال انے والے مریضوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال اکر ایک بیماری کے بعد متعدد بیماریاں اور لگ جاتی ہے، انصاف حکومت تو دعوے کرتے ہیں کہ ہسپتال میں انتظامات بہت بہتر ہیں لیکن حال یہ ہے کہ ٹی ایم اے کے گندگی پھینکنے کی جگہ ہے، اسی ہسپتال پر رات کے وقت متعدد بار تحریک انصاف کے ممبر صوبائیا سمبلی اور ڈیڈیڈک چیئرمین فضل حکیم نے چھاپے بھی مارے ہیں، ہسپتال انتظامیہ نے بار بار یقین دہانی بھی کرائی کہ سسٹم ٹھیک کیا جائیگا لیکن حال یہ ہے کہ فی میل نرس ای سی جی نہیں کرتے جس کیلئے میل ننرس ای سی جی کرنے پر مجبور ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ یورپ ہے، عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی اور سیکرٹری ہیلتھ سے بھر پور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہپستال کا پورا عملہ میں جس میں چیف ایگزیکٹیو ، ایم ایس سمیت تبدیل کیا جائے تاکہ ڈویژن کے اس سب سے بڑے ہسپتال کا نظام ٹھیک ہو سکے۔
952 total views, no views today


