مینگورہ، سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے الیکشن میں عوام سے جو وعدے کئے تھے اور جو ان کا منشور تھا ان میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ، پچھلے تین سالوں سے صوبائی حکومت کا بجٹ لیپس ہورہا ہے جو کہ آئین کے کاردکردگی کا منہ بھولتا ثبوت ہے ، تعلیم اور صحت کے دعویدار وں نے اس مد میں کوئی اصلاحات نہیں کی ، ہسپتالوں کے حالت بے زار ہے ، ہزاروں طلباء کالج داخلوں سے محروم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران تبدیلی کے دعوے کرنے والوں نے عوام کو رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ایمرجنسی کے بلند وبالا نعروں سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں پہنچا ، ہسپتالوں کی حالت پہلے سے زیادہ بد تر ہوگئی ہے ، عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں یو اے ای کے تعاؤن سے 90 بیڈز پر مشتمل کیجولٹی تعمیر کی گئی تھی جس میں اپریشن تھیٹر کیلئے 350 سٹاف درکار ہے جوکہ تین سال گزرنے کے باجود حکومت کے عدم توجہ کے باعث کروڑوں روپئے کے مشینری خراب ہورہی ہے یہ کیسی صحت کی ایمرجنسی ہے اور یہ کیسا صحت کا انصاف ہے کہ ابھی اس کیجولٹی میں سٹاف کو نہیں لگا یا جاسکا ، دوسری طرف تعلیم کا یہی حال ہے کہ پچھلے دو سال سے ہزاروں کے تعداد میں طلباء و طالبات کالجوں میں داخلے نہ ملنے کے وجہ سے انکا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے اور ان میں مسلسل محرومی بڑھتی جارہی ہے ، موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ جہانزیب کالج ، ڈگری کالج مینگورہ ، مٹہ کالج اور کبل کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرکے ان طلباء و طالبات کا مستقل تباہ ہونے سے بچائیں ، اس کے علاوہ ہائر سکینڈری سکولوں میں بھی سیکنڈ شفٹ شروع کئے جاسکتے ہیں کیونکہ بیشتر پروفیسر اور پی ایچ ڈی کرنے والے بے روز گار بیٹھے ہیں ان کو بھی روزگار مل جائیگا اور ان طلباء و طالبات کو علم کی روشنی مل سکے گی ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سوات کے دورے کررہے ہیں اور جو افتتاح وہ اپنے دوروں کے دوران کرتے ہیں وہ ہمارے دور میں ہو چکے ہیں جس میں سوات یونیورسٹی اور دیگر ادارے شامل ہیں ، حکومت کو چاہیئے کہ وہ نئے پراجیکٹ شروع کریں ہم اپوزیشن میں ہے ہم ان کا بھر پور استقبال کریں گے ، عوام کے بہتر مفاد میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔
646 total views, no views today


