فیس بک پر ایک صاحب کا بیان دیکھا کہ فضل اللہ کی ناکامی کے بعد حاجی منعم بھی ناکام ہیں۔ بھائی ہمیں فضل اللہ سے بیر ہے اور نہ حاجی منعم سے۔ ہمارے لیے دونوں قابل احترام ہیں۔ یہ تو ویسے ہی ذکر چڑھا۔
پیر محمد خان (مرحوم) کے شانگلہ کے صحافیوں پر کافی احسانات ہیں، لیکن حقائق حقائق ہوتے ہیں۔ آپ بیس سال کی کارکردگی کا موازنہ دس مہینوں کی کار کردگی سے نہ کریں۔ ہمیں اس سے اتفاق ہے کہ عوامی توقعات بہت زیادہ تھیں اور تاحال ہیں۔ حاجی منعم ایک مشکل پچ پر کھیل رہے ہیں اور انھیں ڈھیر سارے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بہ حیثیت صحافی کسی کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرنا میں صحافتی بد دیانتی گردانتا ہوں۔ در اصل ہم اتنے باشعور نہیں کہ بعض باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ فلاں صاحب ایم پی اے ہیں، بر سر اقتدار ہیں، یہ جو چاہیں چھٹکی بجا کر کر سکتے ہیں، لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں کہ منتخب نمایندے پوری طرح عوامی توقعات پر پورا اتریں گے۔ جھوٹ کون نہیں بولتا،کیا یہ غیر منتخب نمایندے جو سیاست کے نام پر عوامی خدمت کے دعوے دار ہیں،کس حد تک عوام کی فلا ح و بہبود میں پیش پیش ہیں؟ اتنے جلد مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اور پھر ایک سیاسی آدمی کو اس قسم کے ریمارکس سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی باتیں عوام پر اچھا تا ثر نہیں چھوڑتیں۔ عوام ابھی اتنے بھی مایوس نہیں ہوئے ہیں، تاہم اگر رویے میں تبدیلی نہیں لائی گئی، تو پھر اس قسم کی باتیں کرنے والے کوئی دلیل رکھتے ہوں گے، لیکن فی ا لحال اتنی مایوسی نہیں جتنی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گو حاجی منعم صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں، لیکن ڈیڈک چیئرمین اور پارلیمانی سیاست میں نئے اضافے نے عوامی تو قعات کو حد سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ پی کے ستاسی سے ہمارا نمائندہ محمد رشاد خان ہیں، جو کہ (مرحوم) ظاہر شاہ لا لا کے فرزند ارجمند ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر انتخابات کے بعد صرف ایک بار انھیں الپوری میں دیکھا ہے۔ حکومت میں ہونا ہمارے خیال میں عوامی خدمت کے لیے ضروری نہیں،جنھوں نے مئی دوہزار تیرہ میں شکست کھائی ہے، ان سے کوئی گلہ نہیں۔ انتہائی خوش قسمت ہونے کے باوجود ہم بد قسمت ہیں،قومی اسمبلی میں ہماری نمائندگی موجود ہے۔ وہ بھی کچھ کرنا چاہیں گے۔ شائد سب کچھ بجٹ کے بعد ہوگا۔ پھر پورے شانگلہ کی نظر منعم پر کیوں ہے، ہمیں یہ معلوم نہیں کہ منعم نے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے کوئی منصو بہ بندی بھی کی ہے یا وہ محض وقت گزاری پر اکتفا کر رہے ہیں۔ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اگر پانچ سال گزارنے ہیں، تو پھر تو سہی ہے، لیکن اگر پارلیمانی سیاست میں مستقل رہنا ہے، تو پھر وقت کے تقا ضے مختلف ہیں۔ حالات کے تیور پر کوئی بھروسا نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پانچ سال میں شانگلہ کو کیا کچھ دیا جاتا ہے۔ وفاق سے شانگلہ کی کتنی خدمت کی جاتی ہے اور صوبے کی جانب سے کتنی؟ یہ دونوں نمائندوں کے لیے ایک مشکل امتحان ہے، جب کہ حاجی منعم کے لیے تو زرا بڑھ کر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت وہ انجینئر امیر مقام سے زیادہ شانگلہ کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں کہ صوبے میں بر سر اقتدار پارٹی ان کی ہے اور عوامی جمہوری اتحاد کے لیے خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ تحریک انصاف کے لیے عوامی جمہوری اتحاد اہم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس پارٹی کو چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن دن رات ایک کرنا ہوگا۔ شانگلہ کے مسائل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اس کی نشان دہی کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ گراؤنڈ پر دکھا نا ہوگا۔ انفرادی کاموں کے بجائے ایسے کام کرنا ہوں گے، جن سے پورا شانگلہ مستفید ہو۔ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے صبر و تحمل اور علاقے کے مشتر کہ مفادات کے لیے ذاتی انا کی قربانی دینا پڑے گی۔ عوام اب بھی اتنے مایوس نہیں، جتنا کہ ہمارے کالم کے آغاز میں ذکر شدہ محترم کا خیال ہے۔ مزید بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ بہتری منتخب نمائندوں میں آپ کے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
شانگلہ کے مشترکہ مفادات کے لیے ہمیشہ لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ عوام اب بھی بہتری کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ این جی اوز کی طرف سے شانگلہ کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں،اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ایک کلاس فور ملازم تک وہ اپنے ساتھ دیگر اضلاع سے لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی خرابیاں ہیں جو خصوصی توجہ کی مستحق ہیں اور وہ تمام تر خرابیاں تعلق بھی صوبائی حکومت سے
رکھتی ہیں۔ اگر عوام کے لیے کچھ کیا گیا، تو نتائج بھی اچھے ہوں گے۔ یہ وقت ضائع کرنے کا نہیں ہے۔ بروقت ہر کام نمٹانا چاہیے۔
اس طرح کول مائنوں میں کام کرنے والے شانگلہ کے مزدور سب سے ذیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ ان کے مسائل بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں،بلکہ شانگلہ کی پوری سیاسی قیادت کو اس مسئلے میں دل چسپی لینے کی ضرورت ہے۔
922 total views, no views today


