مینگورہ،آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن ایپکاضلع سوات کے زیر اہتمام بھوک ہڑتالی کیمپ کے تیسرے اور آخری روز صبح 9 بجے سے ضلع بھر کے کلرکس اپنے بھوک ہڑتالی قائدین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ضلع ہیڈ کوارٹر افسرز کے باہر لگے ہوئے کیمپ میں جمع ہونا شروع ہوئے ، کلرکس کی ایک بڑی تعداد بھوک ہڑتال میں شامل رہی ، اور مختلف تنظیموں کے نمائندگان ،سیاسی لیڈرزوکا رکنان ،عمائدین شہر
اور صحافی حضرات بھوک ہڑتالی کیمپ کا درورہ کرتے رہے ،اور ایپکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہے ، دن 12 بجے پروگرام کے مطابق کلرکوں نے اپنے لیڈران کے قیادت میں بھوک ہڑتالی کیمپ میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی اور سینکڑوں کے تعداد میں کلرکوں کے علاوہ دیگر سرکاری ملازمین نے مارچ کرتے ہوئے زبردست نعرہ بازی کی اور سوات پریس کلب مکانباغ کے سامنے مظاہرہ کیا ، جہاں پر غلام احد ، محمد طاہر ، محمد طارق ، سید خطاب ، مشتاق احمد ، برکت علی ، فضل سبحان ، عالم خان ،شاہ عادل خان ، ایپکا کے صدر علی رحمن اور فضل معبود نے مظاہرین سے خطاب کیا ، مقررین نے ملک میں کمر توڑ مہنگائی ، سرکاری ملازمین پر مہنگائی کے براہ راست اثرات اور ملازمین کے مسائل مشکلات اور مطالبات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حکومت کی منفی روئیے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن ضلع سوات کے صدر علی رحمان نے کہا کہ ایپکا کے مرکزی اور صوبائی قائدین نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے مطالبات پیش کی ہیں ، اور ہم ہر طرح سے کوشش کرتے چلے ارہے ہیں کہ معاملات میز پر بیٹھ کر حل کئے جائیں ، مگر حکومتوں کے طرف سے سرد ہری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، ملک میں مہنگائی کی طوفان آپ کے سامنے ہے اور حکومت کیطرف سے مہنگائی کو کنڑول کرنے کا کوئی ٹھوس مظاہرہ ہوتا نظر نہیں ارہا ، حالانکہ حکومت کیطرف سے معیشت کی مضبوطی کے دعوے ہورہے ہیں ، ڈالر سستے ہونے کا ڈرامہ چایا جارہا ہے ، مگر ان سے کا عوام کو کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں ارہا اور سرکاری ملازمین اور غریب عوام کو وسائل کی کمی کا بہانہ بناکر ٹرخایا جارہا ہے ، جبکہ بر سر اقتدار طبقہ سرکاری خزانے اور وسائل کو شہر مادر سمجھ کر لوٹ رہے ہیں اور حکومت کے غلط معاشی پالیسیوں کے وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے ، اور نتیجتاً پاکستان میں ہر سال غریب کے لکیر سے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جس سے مجبور ہوکر غریب عوام خودکشیاں ، خودسوزیاں یہاں تک کہ اپنے بچے اور جسمانی اعضاء فروخت کررہے ہیں ، مگر ہمارے حکمران اور حزب اختلاف کرسی کرسی کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ، ایک طرف تو ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے ساتھ عرصہ دراز سے حل طلب پڑا ہے اور ہمارے تنخواہوں کے دعویدار حکومتی پارٹی نے تبدیلی کا عمل اپنے ممبران کے تنخواہوں میں تین گنا اضافہ کرکے شروع کیا ہے ، یعنی ہمارے لئے تو ضابطے اور طریقہ کار لیکن اپنا اضافہ بہ یک اواز ، واہ اے تبدیلی لانے والے حکمرانوں آپ کا بھی جواب نہیں ، انہی حالات کے تناظر میں ایپکا ملکی سطح پر بھر پورتحریک شروع کررہی ہے ، جوکہ حقوق کے حصول تک جاری رہیگی ، اور اس مسئلے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ۔
476 total views, no views today


