سوات، سوات کے حلقہ پی کے86کے ضمنی انتخابات کے لئے اے این پی نے جے یو آئی ف کے امیدوار علی شاہ ایڈوکیٹ کے لئے مشترکہ انتخابی مہم چلانے کا اعلان کردیا ،حلقے میں اے این پی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے ڈاکٹر حیدرعلی کو شکست دینے کے لئے اے این پی نے اپنے امیدوار کو جے یو آئی ف کے حق میں دستبردارکردیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری محمد زیب خان نے بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے
،ضمنی الیکشن کے حوالے سے جے یو آئی ف کے ضلعی دفتر امانکوٹ میں جے یو آئی ف اور اے این پی کے ضلعی قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جے یو آئی ف کے ضلعی امیر مولانا حجت اللہ اور جنرل سیکرٹری قاری شمس الرحمن کے علاوہ جے یو آئی کے امیدوار علی شاہ ایڈوکیٹ اور اے این پی کے قائدین سابق صوبائی وزیر ایوب خان،سابق ایم پی اے شیر شاہ خان اور دیگر نے شرکت کی ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ علی شاہ ایڈوکیٹ اب جے یو آئی ف اور اے این پی کے مشترکہ امیدوارہیں اور دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر ان کے لئے انتخابی مہم چلائیں گی اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی جبکہ تحصیل چارباغ اور خوازہ خیلہ کی سطح پر بھی کمیٹیاں بنائی جائیں گی،اس حلقے سے 2013کے عام انتخابات میں اے این پی کے امیدوار سابق ایم پی اے ڈاکٹر حیدرعلی تھے جنہوں نے حال میں اے این پی کو چھوڑ کر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کیا تو اے این پی نے اپنے امیدوار عدالت خان کو جے یو آئی ف کے امیدوار علی شاہ ایڈوکیٹ کے حق میں دستبردار کرکے اتحاد کرلیا ہے تاکہ اے این پی کو چھوڑنے والے ڈاکٹر حیدرعلی کو شکست دیا جاسکے اسی طرح ڈاکٹر حیدرعلی کو ٹکٹ دیے جانے پر تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری محمد زیب خان بھی بغاوت کرکے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا اور ن لیگ میں شامل ہوگئے ہیں جس کے باعث اب پی ٹی آئی سے الیکشن لڑنے والے ڈاکٹر حیدرعلی کو شدید اپوزیشن کا سامنا ہے ،اس حلقے سے 9امیدوار میدان میں ہیں تاہم سیاسی پھنڈت کہتے ہیں کہ اصل مقابلہ مسلم لیگ ن کے سردارخان ،جے یو آئی اور اے این پی کے امیدوار علی شاہ ایڈوکیٹ اور پی ٹی آئی کے ڈاکٹر حیدرعلی کے مابین متوقع ہے تاہم پیپلزپارٹی کے امیدوار شاہی خان بھی ٹف ٹائم دے سکتے ہیں ۔
422 total views, no views today


