عالئی مرتبت، ہز ایکسی لینسی حضرت پٹواری صاحب کی اتھارٹی کے بارے میں سابق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری قدرت اللہ شہابؔ اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں بہ طورِ خاص ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صدر ایوب خان کی جائیداد میں حضرت پٹواری نے ہیرا پھیری کی۔ ڈرانے دھمکانے پر مسئلہ حل نہ ہوا، تو صدر کے ذاتی منشی نے شکایت کی۔ انکوئری کا حکم جاری ہوا، جو درجہ بہ درجہ ہوتا ہوا پٹواری کی پٹاری تک پہنچا۔ انکوائری کے جواب میں جو ’’پڑھت‘‘ پٹواری صاحب نے اوپر والوں کو پڑھائی، وہی سے درجہ بہ درجہ ہوتی ہوئی فیلڈ مارشل تک پہنچی اور نقل بہ مطابق اصل پہنچی، تب فیلڈ مارشل نے ’’لینڈ مارشل‘‘ کا جیب گرمایا اور اپنی گلو خلاصی کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر پاکستان سے ’’پٹواری پاکستان‘‘ زیادہ با اختیار تھے۔ ایوب خان نے خود کو ’’فیلڈ مارشل‘‘ کہا اور پٹواری کا عہدہ ’’لینڈ مارشل‘‘ نہ کرکے زیادتی کی ، جس کی تلافی آج کے حکم ران بھی کر لیں، تو ’’حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو جائے گا۔‘‘ یہ تو خیر جملہ ’’غیر معترضہ‘‘ نہ تھا، یہاں فِٹ نہیں، اس لیے ’’معترضہ سا‘‘ بن گیا۔
پھر یوں ہوا کہ’’نظامِ عدل‘‘ سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا اور زیادہ تر فیصلے’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘ کے زریں اُصولوں کے تحت ہونے لگے۔ بس مخالف فریق پر ’’ضیاشنکوپ‘‘ کے راونڈ چلا کر ’’جنت رسید‘‘ کراؤ، کچھ عرصہ مفرور بن کر دکھلاؤ، مڈل مین کے ذریعے پولیس کے ساتھ مک مکا کراؤ، اَپن پر قابلِ ضمانت دفعات لگوانا ثابت کراؤ، پھر عزت سے اپنی ضمانت کراؤ اور گھر بیٹھ کر با اثر افراد کے ذریعے ’’شہید‘‘ ہونے والے کے پس ماندگان اور لواحقین کے ساتھ صلح کراؤ۔ قانونِ ’’قرونِ اولیٰ‘‘ سے تھوڑی سی ’’رغبت‘‘ رکھنے والے ہر دو متاثرہ فریقوں یعنی ’’مدعا علیہ اور علیہم‘‘ کو انصاف کی بھیک مانگنے کی بجائے اس راستے کے انتخاب کی وکالت کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے قاتلوں، مقتولوں، مؤکلوں اور ’’معدلوں‘‘ کا کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔ نارمل حالات میں ایڈووکیسی فیسوں کی عمومی قسطوں کی ادائیگی کی بجائے یک مشت ادائیگی کے چانسز خصوصی طور پر روشن ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ’’شہادت‘‘ کے کیسوں میں ’’انسٹالمنٹ‘‘ میں ادائیگی کا رواج پہلے تھا، نہ ا ب ہے۔ تنازعے عموماً اُن علاقوں میں زیادہ ہوتے ہیں، جہاں با ضابطہ طور پر جائیداد کی تقسیم کا عمل مکمل نہ ہوا ہو یا جہاں سرکار ی املاک موجود ہوں، وہاں ہر چلتا پھرتا انسان کسی نہ کسی طرح زمین کا کوئی ٹکڑا فی سبیل اللہ ’’گریب‘‘ کرنے کے چکر میں اپنی توانائیاں خرچ کرنے میں مگن رہتا ہے۔ اپر سوات میں زمین کی تقسیم کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ سرکار کی اپنی املاک بھی یہاں موجودہیں اور وہ قبضہ مافیا کے روپ میں بعض لوگوں کی زمینوں پر قابض بھی ہے۔ اس لیے یہاں پر یہ تنازعات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ روئے زمین پرواقع وادئ سوات، واقعی واحد جگہ ہے، جہاں اس ایشو پر حاکم بھی انصاف کا طلب گار ہے اورمحکوم بھی۔ منصف اور ملزم بھی فیصلوں سے منکر اور فیصلے ماننے والے بھی، حتیٰ کہ بولنے والے اور لکھنے والے بھی۔ پھر یوں ہوا کہ تنازعات کی بھرمار اور طوالت نے متعلقین کو ذہنی، جسمانی اور مالی طور پر دیوالیہ بنا دیا۔ اس پر طرہ یہ کہ ریاستی عدم دل چسپی نے لوگوں میں ناامیدی اور مایوسی کی تاریکیاں پھیلا دیں۔
تاریخ کہتی ہے کہ سوات میں یہ تنازعے سابق والئی سوات کے دور سے شروع ہوئے۔ جب زمینوں کے بٹوارے کے لیے ایک پیچیدہ طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ اس طریقے کے مطابق زمین کو پیداواری لحاظ سے مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا اور اسی کی بنیاد پر تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا، جس کی وجہ سے تنازعات سلجھے تو نہیں، البتہ اُلجھے۔ انصاف کے طالبوں کے مطالبے بڑھے، تومعاملے کی نزاکت کو بھانپنے کے واسطے خوابیدہ حکومت، خوابِ خرگوش سے بیدار ہوئی اور دوبارہ خرگوش بننے سے پہلے عوام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، اکتوبر انیس سو ستر میں ایک کمیشن بنا یا اور اس کو ذمے داری سونپی کہ وہ سوات میں زمینوں کی ملکیت اور اس کی منصفانہ تقسیم میں حائل رکاوٹوں کی نشان دہی کرے اور اس بار ے میں جامع سفارشات بنا کر بس داخل دفتر کرے۔ تاکہ سند تو ضرور رہے لیکن بوقت ضرورت کام نہ آئے۔
کمیشن کی سفارشات تمام ہوئیں، لیکن اُنھیں نا تمام مانا گیا اور اس ڈاکومنٹ پر ایک اور ہائی کمیشن کے’’کومنٹس‘‘ لینے کا فرمان نازل ہوا، پھر جب جمہور جاگی تو جگالی میں ایک اور سُپریم کمیشن عنایت کیا گیا، کاغذات کالے ہوتے گئے، فائلیں بھرتی گئیں، قلم کی سیاہیاں سوکھتی گئیں، انگریزی زبان کے پرخچے اُڑتے رہے، آئین و قانون کے آرٹیکلز و شقوں سے شغف کا اظہار کیا گیا او ر آخر ہوا وہ،جو ہونا نہ تھا۔ تریالیس سال ’’ایویں‘‘ گزر گئے، لیکن حاکموں کی مخمور آنکھیں صرف خندہ زن ہیں۔۔۔!
یاروں کی کارکردگی اتنی سی ہے نسیم
کچھ دیر کاغذات کو کالا کیا گیا
اور طالبانِ انصاف کو گویاانڈیکیٹر دیا کہ
دومرہ اُجاڑہ مظلومہ چی جڑا جڑا کی مڑ شی
دَ انصاف پہ رنز بیمار ئی، دَ دے دلتہ علاج نشتہ
یعنی اے مظلوم اتنا رو لو کہ روتے روتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھو، یہاں انصاف نامی بیماری کا موت کے علاوہ اور کوئی علاج نہیں۔
(جاری ہے)
2,065 total views, no views today


