سوات، یو این ڈی پی کے بین الاقوامی وفد خیبر پختونخواہ میں ایک مشن آرگنائز کیا۔ ان کا سوات، بونیر اور پشاور آنے کا مقصد مقامی ممبران، متعلقہ افسران اور عدالتی سٹاف سے ملنا اور قانون کو سمجھنا تھا اور ساتھ ہی صوبے میں امن و انصاف کو فروغ دینا تھا۔ ضلع بونیر کے سول کورٹس کے تجدید کے افتتاح کے موقع پر کنٹری ڈاریکٹر مارک اینڈری فرانچ کا کہنا تھا “بحیثت شہری انصاف تک رسائی ہمارا بنیادی حق ہے اور اس کے وصول کیلئے حکومت پاکستان اور یو این ڈی پی کے باہمی تعارف سے مقامی و صوبائی سطح پر ایک ایسا ماحول ترتیب دینا ہے جس کے زریعے انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے
یو این ڈی پی کے پروجیکٹ رول آف لاء نے ضلع ڈگر کے سول کورٹس، ڈسٹرکٹ پبلک پروسیکیوٹر کے دفتر اور انفارمیشن سنٹر کے بحالی کی حمایت کی۔پاکستان میں یہ پروجیکٹ یو این ڈی پی کے ہمہ گیر حکمت عملی ہے۔ جس کا انصاف کے ذریعے غربت وافلاس کو کم کرنا ہے۔ حکومت خیبر پختونخواہ کے مالی امداد کی حمایت سے ملاکنڈ ریجن کے سات اضلاع میں اس منصوبے پر کام شروع کیا گیا جس کو بعد میں جنوبی خیبر پختونخواہ کے تین جبکہ ہزارہ ڈیویژن کے ایک ضلع تک توسیع دی گئی۔ بین الا قوامی وفد نے علاقے کا دورہ کیا اور سوات، بونیر اور پشاور کے مقامی برادری سے ملاقات بھی کی۔ یو این ڈی پی پاکستان میں عدلیہ کی مدد، متبادل تنازع کے حل کے طریقہ کار کو پروان چڑھاتا ہے، قانونی امداد کی حمایت اور شہریوں تک انصاف کی رسائی فراہم کرتا ہے۔حکومت خیبر پختونخواہ کے اشتراک سے نیدرلینڈ اور سوِس ایجنسی فار ڈویلپمنٹ اینڈ کوپریشن اور یو این ڈی پی کمیونٹی اور ادارتی سطح پر انصاف کے شعبے کی اصلاح کرتا ہے۔یہ پروجیکٹ غربت کی لکیر سے نیچے اور مستحق افراد کو لیگل ایڈکلینک اور بار ایسوسیئشن کے زریعے قانونی خدمات فراہم کرتا ہے۔ان کلینکس کے زریعے مستحق افراد کو ان کے بنیادی حقوق اور انصاف و قانون تک رسائی کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔اب تک 546 سے زایئد لیگل ایڈکلینکس منعقد ہوے جس میں 12056عورتوں سمیت 26569 افراد مستفید ہوئے ہیں۔ عورتوں کی شرکت کا تناسب ایک سال میں42 فیصد سے بڑھ کر 47فیصد رہا ہے۔ یو این ڈی پی کی حمایت سے خیبر پختونخواہ جڈیشنل اکیڈمی کے زریعے ریگولر ٹریننگ دیئے گئے جس میں اب تک 236 ججز، 150کورٹ سٹاف، 203 پولیس آفیشلز اور 72 پروسیکیوشن افسران کو تربیت دی گئی تاکہ ان کے سروس کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اس پروجیکٹ کے تحت ضلع ملاکنڈ میں پولیس خدمات کی فراہمی کو متعارف کروایا گیا تاکہ نوجوانوں کی پولیس میں اعتماد کو بڑھایا جا سکے اور ساتھ ہی دور درازعلاقوں کے لئے پاکستان میں پہلی بار موبائل عدالت کا آ غاز بھی کیا گیا۔ اس کی علاوہ سوات میں فارسینک سائینس لیبارٹری تعمیر کی گئی اور فیمیل وکلاء کے قانونی پریکٹس کے مرکزی دھارے میں داخل ہونے کی حوصلہ آفزائی کیلئے وضائف بھی مقرر کئے گئے تاکہ گریجویشن کی بعد اپنے پریکٹس کو جا ری رکھ سکیں۔ بین الاقوامی وفد نے خیبر پختونخواہ حکومت اور یو این ڈی پی کے باہمی اقدام اور تعاون کو سراہا۔
503 total views, no views today


