سوات،ضلع سوات کے علاقہ گلی گرام میں سرکاری ڈسپنسری گھر میں تبدیل، ڈسپنسری سے چاردیواری تعمیر کیا جانے لگا، گلی گرام ڈسپنسری 1989 میں تعمیر کیا گیا تھا، جس پر پانچ دیہات کا انحصا ر تھا لیکن ابھی تک محکمہ صحت نے اس میں نہ تو کوئی ڈاکٹر ز اور نہ میڈیکل ٹیکنیشن تعینات کئے گئے ، عرصہ دراز سے خالی رہنے والی عمارت کے قریب پڑی زمین کو ادریس نے خرید لیا اور زمین اور ڈسپنسری کو اپنے گھر کیساتھ شامل کرلیا،
مقامی لوگوں کے مطابق اس گھر کی ایک خاتون نیلم پولیس میں ہے یہی وجہ ہے جبکہ نیلم کے بھائی ادریس کے مطابق یہ ڈسپنری پچھلے بیس سال سے خالی تھی جس کے دیوار خستہ ہال ہوچکی ہیں اس ڈسپنری پر جتنا خرچہ میں نے کیا ہے حکومت وہ مجھے واپس کردیں اور ایک نوکری دیں تو یہ عمارت ہم خالی کرلیں گے، انہوں نے کہا کہ اس ڈسپنسری کا راستہ بھی نہیں ہے ،دوسری طرف اہلیان علاقہ کے رہائشی افضل خان اور سردارعلی کے مطابق کئی مرتبہ ضلعی حکومت ، پولیس انتظامیہ اور محکمہ صحت کو درخواستیں دیں ہیں لیکن ابھی تک ا س ڈسپنسری پر کوئی تعیناتی نہیں ہوسکی ہے،اہلیان علاقہ نے کہا کہ اب ادریس نے اس دسپنسری پر قبضہ کرلیا ہے جس سے پانچ دیہاتوں کے دس ہزار ابادی سرکاری ڈسپنسری سے محروم کیا جارہا ہے۔قائمقام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر انعام کیساتھفون پر رابطہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ڈسپنسری پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی ،اس سلسلے میں حلقہ پی کے اکیاسی کے ممبر صوبائی اسمبلی عزیز اللہ گران نے کہا کہ اس عمارت پر خاتون پولیس اہلکار نے قبضہ کیا ہے، میرے حلقہ میں جس نے بھی سرکاری عمارت پر قبضہ کیا ہے اس کو ہر صور ت میں خالی کرینگے، اور عوام کے فلاح وبہبود کیلئے استعمال کرینگے۔
557 total views, no views today


