سوات، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کوئی ڈیڈلاک نہیں مذاکراتی عمل تھوڑی مشکلات درپیش ہیں جوجلد دور کی جائیں گی طالبان شوری سے حکومتی اور طالبان کمیٹی کے مابین ملاقات کے لئے کوشیش جاری ہیں او ر طالبان شوری سے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے ملاقا ت
کے لئے جلد جگہ اور وقت کا تعین کیا جائیگا اُنہوں نے کہا فوج کے حملوں سے آمن آسکتاہے اور نہ آئیگا جبکہ طالبان کے مسلح جدوجہد سے بھی شریعت نافذ نہیں ہوسکتی اُنہوں نے کہاکہ بامقصد مذاکرات کے زریعہ ہی آمن کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے دورہ سوات کے موقع پر جماعت اسلامی کے مرکز الخدمت بنڑ میں میڈیا سے بات چیت اور ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کانفرنس سے مشتاق احمد خان ، ڈاکٹر فضل سبحان اور حافظ اسراراحمد نے بھی خطاب کیا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہاکہ 23اپریل کو وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ حکومتی اور طالبان مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات ہوئی تھی اور اس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ جلد ہی بامقصد مذاکرات کے لئے حکومتی اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کی طالبان شوری سے ملاقات ہوناتھی لیکن بد قسمتی سے کچھ معاملات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی اُنہوں نے کہاکہ فوج اور طالبان کے مابین جاری کارراوائیوں میں دونوں جانب سے ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع کے علاوہ ہزاروں بے گناہ عوام بھی اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں پہلی دفعہ موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کے تشکیل شدہ پالیس میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جو کہ ایک خوش آئند بات ہے اُنہوں نے کہا کہ یہ جنگ فوج نے شروع کردی ہے اور اب اس جنگ کے خاتمے میں سب سے اہم کردار فوج کا بنتا ہے اگر فوج اس مذاکراتی عمل میں اپنی ذمداریوں کو پورا نہیں کریگی تو خدشہ ہے کہ مذاکرات کا یہ عمل پٹڑی سے اُتر سکتاہے ہم نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن ہماری اس درخواست پر تاحال غور نہیں کیا گیابدقسمتی سے گزشتہ کچھ دنوں سے طالبان اور فوج کے طرف سے کارروائیاں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مسائل پیداہورہے ہیں لیکن ہمیں اُمید ہے کہ مذاکراتی عمل بہت جلد دوبارہ شروع ہوگا عمران خان کے دگیارہ مئی کے احتجاج کے حوالے سے اُنہوں نے کہاکہ عمران خان نے طاہرالقادری کے احتجاج میں شامل ہونے کااعلان کرکے اُن کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے اُنہو ں نے کہا کہ عمران خان نے ہمارے پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا ہے اور نہ مشاورت کی ہے اُنہوں نے کہاکہ عمران خان کے احتجاج میں صوبائی حکومت کے شامل ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔
433 total views, no views today


