محترم عمران خان صاحب نے ایک اندھے کنویں میں پھر گیارہ مئی کی دھاندلی کا ڈھول ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں ایک سال کے بعد اُن کو پھر دھاندلی کا غم اور درد کیوں ستانے لگا؟ سوال یہ ہے کہ وہ احتجاج اور مظاہروں سے کیا کچھ حاصل کرسکے گا؟ پہلے تو یہ معلوم کرنا از حد ضروری ہے کہ وہ چاہتا کیا ہے اور اُس کا ایجنڈا کیا ہے؟ کیا وہ مڈ ٹرم الیکشن چاہتا ہے؟ کیا وہ بعض حلقوں پر انتخابات کالعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کرانا چاہتا ہے؟ میرے خیال میں وزیراعظم بننے کا دکھ وہ وہاں تک بھی نہیں بھولے۔ یہ غم اُس کو ابھی تک ستا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ دراصل خان صاحب ایک سال کے بعد دھاندلی کا ڈھول بجا کر عوام کی توجہ خیبر پختون خوا کے مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایک سال کے بعد انھیں پختون خوا کے گونا گوں مسائل اور اپنی اہلیت اور ساتھ پارٹی کی اہلیت کا پتہ چل چکا ہے کہ ہم سے یہ بیل منڈھی نہیں چڑھے گی۔ آئے دن اپنے وزیروں کو برخاست کیا جا رہا ہے۔ آئے دن پروگرام بدلتے رہتے ہیں۔ مؤقف بدلتے رہتے ہیں۔ پرویز خٹک صاحب، شہباز شریف صاحب کی چال سیکھتے سیکھتے اپنی چال بھول گئے۔ پختون خوا کے مسائل کے لیے جتنا بیدار مغز اور تیز رفتار وزیراعلیٰ چاہیے پرویز خٹک صاحب کے فرشتے بھی اُس سے نا آشنا ہیں۔ میرے خیال میں یہ ساری صورت حال عمران خان سمجھ گئے ہیں اور اب وہ گیارہ مئی کی دھاندلی کا راگ الاپ کر سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں۔ وہ پنجاب میں ہی احتجاج کریں گے۔ پختون خوا میں تو احتجاجی تحریک نہیں چلاسکتے، ایک تویہاں اپنی حکومت ہے، دوسری یہ کہ یہاں تو سارے فرشتے ہیں،یہاں تو دھاندلی ہوئی ہی نہیں ہے۔ لہٰذا جب خان صاحب پنجاب میں گڑ بڑ کریں گے، تو اُس کا رد عمل پختون خوا میں ضرور ظاہر ہوگا۔ کیوں کہ پختون خوا میں بھی خان صاحب کی خاصی مخالفت ہے۔ پی پی پی کی طاقت، مسلم لیگ ن، اے این پی، قومی وطن پارٹی اور پھر سب سے بڑھ کر جمعیت العلمائے اسلام کی طاقت کی صورت میں یہاں اچھا خاصا رد عمل ہوگا۔ پختون خوا میں ان سیاسی طاقتوں کے احتجاج سے اور تحریکوں سے عمران خان کی حکومت کا بستر گول ہوسکتا ہے اور میرے خیال میں یہی کچھ وہ چاہتے ہیں۔
سیاسی صورت حال کے حوالے سے دوسرا رُخ یہ ہے کہ اگر وہ پنجاب میں احتجاجی تحریک چلانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور نتیجے کے طور پر مڈ ٹرم انتخابات ہوتے ہیں یا یہ کہ چند حلقوں پر دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں، تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ خان صاحب کی پارٹی وہ ضمنی انتخابات یا مڈ ٹرم کے الیکشن اتنی اکثریت سے جیت جائے گی کہ اس میں خان صاحب وزیراعظم بن جائیں گے۔ کیوں کہ پنجاب کے عوام دوبارہ انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہوئے پختون خوا میں خان صاحب اور اُس کی پارٹی کی کارکردگی کو تو ضرور دیکھیں گے کہ وہاں تحریک انصاف نے کون سے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں، جو الیکشن میں جیتنے کے بعد پنجاب میں بھی گاڑ دیں گے۔ کیا تحریک انصاف جیت کی صورت میں شہباز شریف کی ترقی کی رفتار کو اوورٹیک کرسکے گی؟ اس لیے ہم انھی کالموں میں بار بارتحریک انصاف کو یہی مشورہ دیتے آئے ہیں کہ اس وقت سب کچھ بھول کر پختون خوا کے مسائل کی طرف توجہ دیجیے، کیوں کہ خواہ جو بھی ہو اگلے کسی بھی سیاسی معرکے میں آپ کی فتح میں پختون خوا کی ترقی اور کارکردگی اہم رول ادا کرے گی۔ یہ یاد رکھیے کہ اب ایک سال گزرنے کے بعد تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی پختون خوا کے حوالے سے اب کوئی معذرت نہیں سنی جائے گی۔ نہ کوئی بہانا ہی سنا جائے گا۔ نہ رونا دھونا کسی کام آئے گا۔ وہ وقت اب گزر چکا ہے۔ ایسی چیزیں اقتدار کے پہلے چند دنوں تک محدود ہوتی ہیں۔ اب اگر یہ لوگ حکومت چھوڑتے ہیں یا کسی احتجاج یا سیاسی غلطی کی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے اقتدار کی بھاگ ڈور پھسلتی ہے، تو دونوں صورتوں میں تحریک انصاف اور اس کی قیادت ذمے دار گردانی جائے گی۔ یہ ان کی نا اہلی تصور ہوگی اور ان کی نالائقی شمار ہوگی۔ سیاست میں ایک دفعہ گرنے کے بعد بہت مشکل سے اُٹھاجاتا ہے۔ اگر عوام کی نظروں سے گر گئے، تو پھر اٹھنا ناممکنات میں سے ہوگا۔
عمران خان ایک بار لفٹ سے گرے تھے، پھر بھی صحت یاب ہوکر اُٹھ گئے، لیکن خیال رہے وہ سیاسی لفٹ نہیں تھی۔ سیاسی لفٹ سے گرنے کے بعد اٹھنا محال ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خان صاحب کا حامی و ناصر ہو۔
1,006 total views, no views today


