میں روز صبح سویرے اپنی ملازمت کے سلسلے میں مینگورہ کے مین بازار میں سے ہو کر گزرتا ہوں۔ عین اسی بازار میں ’’سروس‘‘ اور ’’باٹا‘‘ کی دکانوں کے سامنے مجھے بڑی تعداد میں دیہاڑی مار اور مزدور نظر آتے ہیں۔ اُن کے خزاں رسیدہ چہرے، پٹھے پرانے کپڑے، بجھی ہوئی آنکھیں، جن میں نااُمیدی اور حسرت ویاس کی پرچھائیاں واضح طور نظر آتی ہیں۔ وہ وہاں بیٹھے ہر آنے جانے والے راہ گیر کو اپنا ’’مسیحا‘‘ سمجھ کر انھیں تاک رہے ہوتے ہیں، مگر سوائے مایوسی اور نا اُمیدی کے، انھیں کچھ نہیں ملتا۔ میں یہ منظر روز دیکھتا ہوں، روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں۔ جب بھی میرا یہاں سے گزرہوتا ہے، تو آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ مگر اس سے کیا ہوگا؟ آنکھیں بند کرنے سے حقیقت تو نہیں بدلے گی۔ اگر کبھی کوئی غلطی سے وہاں آجائے اور اپنے کسی کام کے سلسلے میں اُسے کوئی دیہاڑی مار مزدور کی ضرورت ہو، تو سارے مزدور اچانک اُس کے پاس آجاتے ہیں اور اُس سے التجا کرنے لگتے ہیں کہ ’’مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ، میں بہت محنت سے کام کرتا ہوں۔‘‘ کوئی کہتا ہے کہ ’’مجھے ایک ہفتے سے دیہاڑی نہیں ملی، گھر میں ماں بیمار ہے۔ کمائی والا کوئی نہیں، مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ، دعائیں دوں گا۔‘‘ کہیں سے آواز آنے لگتی ہے کہ گھر میں کئی دن سے فاقے ہورہے ہیں، کام نہیں مل رہا، اللہ آپ کا بھلا کرے، مجھے ساتھ لے لیجیے، خدا کے واسطے۔۔۔ایسی کئی درد بھری آوازیں آپ کے کانوں سے ٹکرا کر آپ کو رُلانے پر مجبور کر دیتی ہیں ان لمحات میں انسان سوچتا ہے کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ سب ہی بے رحم حالات کے تھپیڑے سہتے سہتے زندگی گزارنے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
’’یوم مزدور‘‘ ہر سال آتا ہے اور دبے پاؤں رُخصت ہوجاتا ہے۔ اس سال بھی یہ دن چپکے سے آیا اور بغیر کسی کو کچھ کہے بنا چلا گیا۔ اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ ہم بڑے مزے سے میٹھی نیند سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا ٹھنڈے کمروں بیٹھ کر آئس کریم ’انجوائے‘‘ کرتے ہیں، مگر افسوس کہ یہ دن جن مزدوروں کے لیے منایا جاتا ہے، وہ بے چارے اس روز بھی صبح سویرے منھ اندھیرے محنت مزدوری کے لیے کمر بستہ ہوتے ہیں، یہ وہ بدنصیب ہیں، جو اس روز بھی اپنی حسرتوں کے مزار کے زینے پر بیٹھ کر آنسو بہاتے رہتے ہیں۔ وہ اس روز بھی آرام کرسکتے ہیں نہ ’’انجوائے‘‘ کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے وہ اس دن بھی کام کرتے رہتے ہیں۔ کام نہیں کریں گے، مزدوری نہیں کریں گے، تو غربت، افلاس، بیماری، فاقے اُن کے در پر حسب معمول دستک دیتے رہیں گے۔ ’’یوم مزدور‘‘ منایا جارہا تھا۔ میں نے ایک لاغر، سوکھا سہما اور غریب بوڑھا شخص دیکھا۔ اُس کی خمیدہ کمر اور خزاں رسیدہ چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ زندگی نے اُس پر بہت مظالم ڈھائے ہیں۔ وہ بے چارہ اس روز بھی زندگی سے لڑ رہا تھا اور جسم و جاں کا رشتہ بہ حال رکھنے۔ دوسری طرف اس روز بڑے بڑے ہوٹلوں کے یخ بستہ ہالوں میں بڑے بڑے ’’نام نہاد‘‘ سیمینار جاری تھے۔ ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا تھا۔ وہی بلند بانگ دعوے، وہی دوغلا پن، وہی پالیسیاں، مگر۔۔۔ ان سیمیناروں سے غریب مزدور کی زندگی میں کبھی سویرا نہیں آسکتا۔ یوم مزدور، ہر سال آتا ہے۔ ہر سال اس طرح کا دکھاوا ہوتا ہے، خالی خولی تقریریں ہوتی ہیں، وعدے ہوتے ہیں، دعوے کیے جاتے ہیں، مگر ہوتا وہی ہے جو ان غریب لوگوں کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ باتیں کرنے والے کسی کام کے نہیں ہوتے، جو کچھ کرنے کی سعی کرتے ہیں، وہ خاموشی سے اپنا کام کرتے چلے جاتے ہیں۔ صبح سویرے مین بازار کے وسط میں ان بے چارے مزدوروں کی حالت زار قابل دید ہوتی ہے۔ کسی میں ہمت ہو، تو ایک روز یہاں سے ہوکر گزرے۔معلوم ہوگا کہ غربت و افلاس بے روزگاری اور مجبوری کس بلا کا نام ہے۔
بہ قول محسنؔ نقوی محسنؔ غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے
1,873 total views, no views today


