سوات،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مظہر عالم خان میاں خیل نے کہا ہے کہ عوام کو سستا انصاف کی فراہمی میں ججوں کے ساتھ ساتھ وکلاء پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، ملاکنڈ ڈویژن میں جوڈیشل افسران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا ، بہت جلد ملاکنڈ ڈویژن لیبر کورٹ قائم کردیا جاجا ئیگا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ بار ایسو سی ایشن کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا
اس سے پہلے مینگورہ بینچ کے بلڈنگ میں مختلف دفاتر اور مسجد کے افتتاح بھی کیا ، بار کے نومنتخب صدر فضل غفور ایڈووکیٹ نے کہا کہ بار اور بینچ کے درمیان فاصلے ختم ہوچکے ہیں ،ہمارے بھر پور جدوجہد ہونگے کہ یہاں ٹاؤٹزم کا مکمل خاتمہ کردیا جائیگا تاکہ کسی کو بھی انصاف کی فراہمی میں دشواری نہ ہو ، وکلاء بھی ٹاؤٹزم کے خاتمے میں ہمارے ساتھ اپنا کردار ادا کریں ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مظہر عالم خان میاں خیل نے کہا کہ مینگورہ بینچ کو درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے ، ایڈیشنل رجسٹرار اس سلسلے میں مکمل سمری بناکر مجھے ارسال کردے اس پر ہم بھر پور کاروائی کریں گے ، انہوں نے کہا کہ شرعی نظام عدل 2009 میں ترامیم کرنے کے سلسلے میں متعلقہ حکام کو اگاہ کیا جائے گا تاکہ اس میں جو خامیاں ہے وہ دور ہوسکے ، اس سے پہلے چیف جسٹس نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ وقت میں آزاد عدلیہ ہے تو وہ صرف اور صرف میڈیا کے بدولت ہے ، موجودہ دورہ میں میڈیا کے کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
563 total views, no views today


