تعلیم نسواں کے بارے میں اگر بات کی جائے، تو درحقیقت آج کے دور میں یہ بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔‘‘
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام میں عورتوں کو مردوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا کہا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں لڑکیوں کی تعلیم کو لڑکوں کی تعلیم سے نہایت کم اہمیت حاصل ہے جوکہ سراسر ناانصافی ہے۔ لڑکیوں میں تعلیم کی کمی کے کئی نقصانات ہیں۔ سب سے پہلے یہ کمی معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ ایسی لڑکیاں جو تعلیم سے محروم ہوتی ہیں، ان کو باآسانی ورغلایا جاسکتا ہے، اور یہ عمل جب طول پکڑتا ہے تو معاشرے میں فحاشی و عریانی پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔
تعلیم نسواں کی کمی کی وجہ سے ملک میں ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچے کو مہذب شہری بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لے لیں، تو یہاں ان گھرانوں کے بچے لکھت پڑھت میں آگے ہوتے ہیں، جہاں تعلیم یافتہ عورتیں بیاہی گئی ہوتی ہیں۔
اس طرح ایک اور پہلو بھی زیادہ متاثر کن ہے اور وہ یہ کہ اگر ایک لڑکی اچھی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور وہ آگے جاکر ڈاکٹر بنتی ہے، تو پھر وہ اپنے جیسی دوسری عورتوں کی مسیحائی کرنے میں بھی کامیاب ہوتی ہے۔ ایک عورت ذات کو عورت ہی بہتر سمجھ سکتی ہے۔ اگر کوئی عورت تعلیم یافتہ ہو، تو وہ حاملہ خواتین کی بہتر راہ نمائی کرسکتی ہے اور ان کے شکوک و شبہات کو دور کرسکتی ہے۔ اس طرح ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اپنے بچوں کی بہتر پرورش کرپاتی ہے اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ جو خاندان کسی تعلیم یافتہ بڑے کے زیر نگرانی ہو وہاں لڑکیوں کی تعلیم کو لڑکوں کی طرح فوقیت دی جاتی ہے، مگر ایسے گھرانے ہمارے معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
اس ضمن میں حکومت کی دل چسپی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر حکومت عام عوام کو اس حوالے سے آگاہ کرے، تو کوئی امر مانع نہیں کہ ہمارا معاشرہ پڑھا لکھا ہو اور وہ کل ملک کی مجموعی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
1,112 total views, no views today


