بریکوٹ( ریاض احمدسے) اے این پی پی کے 86سے ضلعی کونسلرفضل وہاب عرف قجیر خان نے 2018کے الیکشن کے ٹکٹ کے لئے درخواست جمع کرکے مظبوط طور پر سامنے آگئے ہیں ۔اسی حلقہ سے موجودہ ایم پی اے ڈاکٹر حیدر علی خان اے این پی کے پلیٹ فارم سے 2008کا الیکشن جیتا تھا مگر بعد میں انہوں نے اے این پی کو خیر آباد کہتے ہوئے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر تے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (نٌ کے ایم پی اے قمیوس خان کی ڈگری جعلی ہونے کی وجہ سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ اے این پی نے بری طرح شکست کھائی جس کی اصل وجہ پارٹی کے پاس موزوں امیدوار نہیں تھا۔ اے این پی کے پاس قجیر خان کی صورت میں مظبوط امیدوار سامنے آگیا ہے وہاں کے سیاسی لوگوں کا کہنا ہے کہ اے این پی نے اگر ٹکٹوں کی تقسیم میرٹ پر کی اور صیحیح امیدواروں کو آنے والے انتخابی میدان میں اترا تو یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ بھرپور مقابلہ کرسکیں گے ۔پارٹی نے قجیر خان کے خاندان کی پارٹی کی قربانیوں اور الیکشن میں بھرپور مقابلہ کرنے کے لئے ٹکٹ جاری کردیا تواے این پی کے لئے یہ سودمند ثابت ہوگا۔ قجیر خان نے اپنی شخصیت اور خاندانی اثر رسوخ کی بناء پر 2001،2005اور 2015میں بلدیاتی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے ۔بااثر خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پی کے 86میں اے این پی کی گری ہوئی ساکھ بھی بحال ہوجائے گی کیونکہ اے این پی کے پاس قجیر خان کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت ایسی نہیں ہے کہ وہ عام انتخابات میں مقابلہ کرسکیں۔پارٹی کارکن بھی قجیر خان کو سپورٹ کررہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پی کے 86میں پارٹی کو دوبارہ زندہ رکھنے میں قجیر خان اہم کردار ادا کریں گے ۔
1,670 total views, no views today



