سوات، سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے ، ملاکنڈ ڈویژن جیسے پسماندہ علاقے کے عوام پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ حکومت کیلئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہو گا ، خوبصورت دفاتر اور محلات میں بیٹھنے والے کرپٹ بد دیانت حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے کہ ایک طرف دوسرے ممالک سے امداد حاصل کرکے متاثرہ علاقوں کے لوگوں پر زکواۃ کی شکل میں تقسیم کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اس علاقے کے باسیوں پر غیر قانونی اور ظالمانہ ٹیکس نافذ کرکے مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہیں یہاں کے عوام نے گزشتہ پانچ سال جس اذیت اور مصیبت میں گزارے ہیں
اسکا اس بے حس حکمرانوں کو سرے سے احساس نہیں ، ایک طرف کہتے ہیں کہ اس دھرتی کے بسنے والوں نے ملک کو بچایا اور دوسری جانب ملک بچانے والوں پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگورہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہماری قربانیوں ، شہداء اور نقل مکانی کا ہمیں یہ صلہ دیا جا رہا ہے ہمیں بھکاری بنا کر خیرات زکواۃ سے نوازا جا رہا ہے باوجود اسکے خیرات زکواۃ دینے پر ٹیکس وصول کرنے کی پالیسیاں بنانے والوں کے بارے میں ہم سوچنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت میں بیٹھنے والے نالائق حکمران اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہیں ملاکنڈڈویژن میں صنعت و تجارت ، سیاحت ، زراعت کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ ان شعبوں سے وابستہ افراد شدید پریشانی میں مبتلا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں حکمران طبقہ کاروبار بحالی پر توجہ دینے کے بجائے تاجروں پر نت نئے ٹیکس لگانے کی سوچ رہے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جائے گی ، سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے پاکستان اور اس خطے کی سالمیت کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں اُن قربانیوں کی بدولت آج عوام کو غربت ، مایوس اور پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا جا رہا ہے حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے ٹیکس لگانے والوں کو سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے حالت زار پر رحم کرنا چاہئے تاجر برادری پر عزم ہیں کہ کسی کو ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دینگے انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ٹیکس لگانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے ورنہ بصورت دیگر تاجر برادری اور علاقے کے عوام اس اقدام کی بھر پور مزاحمت کرے گی ۔
615 total views, no views today


