مینگورہ، جمعیت علماء پاکستان (س) مرکزی امیر اور طالبان کمیٹی کے چیر مین مولانا سمیع الحق نے چارباغ میں دینی مدارس میں دستار بندی کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپریشن سے آمن قائم نہیں ہوسکتا لیکن اگر حکومت نے اپریشن کا فیصلہ کیا ہے تو وہ اپریشن کا شوق پورا کریں تاہم بالااخرآمن کے قیام اور مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیا ر کرنا ہوگاشمالی وزیر ستان میں مذاکراتی عمل سے نقصان پہنچا ہے اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے طر ف سے اپریشن او ر طالبان کے طرف سے حملوں کی وجہ سے آمن کے عمل کوشدیدنقصان پہنچا ہے اور حالات انتہائی گھمبیر ہے جسمیں سخت پریشان ہوں
اُنہوں نے کہا کہ طالبان کے طرف سے دی جانی والی فہرست میں زیادہ تعدا د سوات کے طالبان کی ہے مذاکرات کی دوبارہ بحالی ہماری اولین ترجح ہے اگر مذاکرات کا عمل دوبارہ بحال ہوا تو سوات کے قید طالبا ن کے رہائی کے بارے ترجیحی بنیادوں پر اُٹھائینگے اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کاعمل کس وجہ سے معطل ہے اس کا مجھے علم نہیں تاہم مذاکرات کے دوبارہ بحالی کے لئے حکومت اور حکومتی رابطہ کارکمیٹی سے مسلسل رابطے کی کوشش میں ہیں لیکن اُن سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے اپریشن باضابطہ ہو یا نہیں اپریشن اپریشن ہوتا ہے ہم نہ حکومت نمائندگی کررہے ہیں نہ اور طالبان کی بلکہ ہم صر ف اور صر ف ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں نوازشریف مذاکراتی عمل کے لئے سنجید ہے لیکن وہ اندرونی اور بیرونی د باؤ کا شکا رہے وزیر اعظم اگر انڈیا کا دورہ کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن نوازشریف کو کشمیریوں کے جدوجہد اور مفادات کا خیال رکھنا ہوگا ہمارے دونوں پڑوسی ممالک میں نئی حکومتیں قائم ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہماری فوجیوں کو ہمارے سرحدات کے حفاظت پر توجہ دینی چاہئے اور اندرونی طورپر فوج کو اُلجھنا نہیں چاہئے اُنہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار خان راجہ فورس بنے نظر آتے ہیں طالبان کو مذاکرات اور جنگ بند ی پر آمادہ کرنا بڑی کامیابی تھی عمران خان کو چاہئے کہ وہ خیبر پختو نخواہ کے قبائلی علاقوں سمیت پورے میں ملک آمن کے قیام کے لئے ہمارا ساتھ دیں اُنہوں نے کہا کہ کراچی کامسئلہ سنگین صور ت اختیار کرچکا ہے اور ہمارے حکمران اس کی وجہ سے کنفیوثرن کا شکا رہیں میڈیا اپنے حدود میں رہ کر اپنی فرائض کو انجام دینا چاہئے ۔
451 total views, no views today


