سوات (سوات نیوز ڈاٹ کام)سوات کو دوحصوں میں تقسیم کرنا ایک بہت بڑی سازش اور سوات بھر کے عوام میں نفرتیں بڑھانے کا مذموم منصوبہ ہے ، جس کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں ، 18کلومیٹر کے محدود علاقہ میں دوسرا ضلع بنانے سے ترقی کا خواب کبھی بھی پورا نہیں کیا جاسکتا ، تقسیم سے ترقی کا خواب پورا کرنے والے سب سے پہلے سوات کے بنیادی سہولیات جس میں تعلیم ، صحت کے سہولیات ، سوات سینٹرل جیل کی تعمیر ، جنگلات سے رعایتی قیمتوں سے لکڑی کا کوٹہ ، بجلی ، سوئی گیس ، دریائے سوت کے پانی سے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے پشتے تعمیر کرانے اور لوگوں کے پینے کیلئے صاف پانی کے فراہمی کے ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جائے ، صوبائی حکومت سوات کو تقسیم کرنے کے بجائے بنیادی سہولیات کو حل کرنے پر توجہ دیں کیونکہ ضلع سوات کے عوام نے چھ ایم پی اے اور دو ایم این اے کے ذریعے بھاری مینڈیٹ دیگر انہیں حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا ہے ، سیدوشریف کے ہسپتال جو کہ ایم ایم اے کے دور حکومت میں بنا لیکن فنڈز کے عدم ادائیگی کے وجہ سے تاحال اسمیں علاج معالجہ کے سہولیات فراہم نہیں کئے گئے ، اس دوران دو حکومتیں ختم ہو ئیں اور اب تحریک انصاف کی دور حکومت بھی اپنی مدت پور ے کرنے جارہی ہیں لیکن ہسپتال کا معاملہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے ، سوات کے ترقی کیلئے زمرد کان ، معدنیات اور جنگلات کے رائیلٹی دیکر ان علاقہ کے ترقی کیلئے استعمال کی جائے ، تحریک انصاف کے حکومت میں بھی سوات سے زیادتی کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا ، وزیر اعلیٰ کے پی کے کو سوات ضلع سے اتنی ہی محبت اور ہمدردی ہے تو محمود خان ایم پی اے اور محب اللہ خان ایم پی اے جنگلات کے تحفظ سے اچھا تجربہ نہیں رکھتے ، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جنگلات کے وزارت ان دونوں میں سے کسی ایک کو دی اجتی لیکن اس کے بدلے سوات کو غیر اہم یعنی کھیل وثقافت ، مشیر لائیو سٹاک اور مشیر انٹی کرپشن کے عہدوں پر ٹرخایاں گیا ، کیا ڈاکٹر حیدر علی ایم پی اے اور ڈاکٹر مجد ایم پی اے میں سے کسی ایک بھی وزیر صحت کا قلم دان بنان موزون نہیں سمجھا گیا ، کیا عزیزاللہ گران ایم پی اے اور فضل حکیم ایم پی اے میں کسی ایک کو زراعت کی وزارت دی جاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزارت جنگلات جس کو دی گئی ہے ان کے علاقے میں گوبی اور چقندر بہ کثرت ہوتی ہے وزیر جنگلات بے چارے کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جنگلات بے چارے کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جنگلات میں کتنے اقسام کے درخت ہو تے ہیں اب صورتحال یہ ہے اگر ممکنہ طور پر اپر سوات کا ضلع بن بھی گیا تو ڈپٹی کمشنر مٹہ میں تعینات ہوگا جبکہ ڈی پی او خوازہ خیلہ میں تعینات کیا جائیگا جس کے وجہ سے لوگو گیمن پل کا طواف کرنے پر مجبور ہوں گے ،اس حوالے سے ہمارے تحفظات واضح ہے کہ اگر ترقی کا راز تقسیم میں پوشیدہ ہے تو 95 یونین کونسلز پر مشتمل ضلع پشاور کا حق بنتا ہے اسے تین ضلعوں میں تقسیم کیا جائے اور پھر 75یونین کونسلز پر مشتمل ضلع مردان کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جائے اگر کامیابی کا یہ تجربہ درست ثابت ہوا تو پھر سوات ضلع کو ذبح کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ، اگر منصوبہ ساز اپنے ضد پر قائم رہتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ ہوگا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان کو الگ صوبہ ملاکنڈ بنا دیا جا ئے اور سوات ، شانگلہ ، بونیر اور ضلع کوہستان پر مشتمل سوات ڈویژن بنا دیا جائے ، اس صورت ہم اپر سوات کے مشروط حمایت کرسکتے ہیں ، سوات کے ترقی کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائے ، یہاں روزگار کے مواقع پیدا کئے جائے ، سوات کو تعلیمی ترقی سے ہمکنار کرنے کیلئے داخلوں کے حد میں سہولیات فراہم کئے جائے ، ہمیں جنگلات ، تعلیم ، بلدیات ، خزانہ اور صحت وزراعت کی وزارتیں دیکر سہولیات کے فرہمی ممکن بنائی جائے پرھ بھی اگر منصوبہ ساز بہ ضد ہے تو ہمارے مطالبہ ہے کہ منتخب ڈسٹرکٹ کونسلز ممبران کے ذریعے ریفرنڈم کرایا جائے ۔
980 total views, no views today



