کبل(الطاف خان سے)آل سوات مقا می کا شتکاران نے پدری موروثی اور زر خرید آراضیا ت محکمہ جنگلا ت اور کا غذات ما ل سے واگزار کرنے کے لئے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھر نا دینے اور عدالتی وصوبائی حکومت کے فیصلے تک ڈیمارکیشن بند کرنے مقامی سمیت دیگر مطالبات پیش کر تے ہوئے الیکشن 2018 ء میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں آزاد اُمیدوار کھڑا کرنے کی دھمکی صوبا ئی حکومت ہمارے زمینیں ہمیں واپس کر دے ورنہ جا نوں کے قربانیاں دینے سے بھی سے گریز نہیں کیا جائیگا علا قہ شلہنڈ میں مقامی کا شتکاران کے منعقدہ جر گے میں دیگر اہم فیصلے کر تے ہوئے مقامی اور مر کزی کو ٹہ میں اختیار دینے اور تہذیب و روایت چھیڑنے سے حکومت تصادم کی راہ اختیار کرنے سے اجتناب کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیاگذشتہ روز علا قہ شلہنڈ میں مقامی کاشتکا ران نے احتجاج ریکارڈکرنے کے بعد ایک بڑا جر گہ منعقد کیا گیا جس صدر منصور علی کے علا وہ ، تاج محمد ، عزت خان ، خا ن زمان ، شیر خان ، امیر زمان ، زگین خان ، شاہ وزیر خان ، ایوب خان ، دلو جان اور دیگر نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ بندوبست کے وقت1979 ء سے 1986 ٗ ء تک مقامی کاشتکا روں کی ملکیتی زمینیں غلطی سے محکمہ فارسٹ کے نام درج ہو چکے ہیں اور بندوبست سے پہلے ان زمینوں پر کا شت ہو رہے تھے اور ابھی بھی زیر کا شت ہے اور اِن زمینوں پر ہزاروں کے تعداد میں آبادیاں موجود ہے اس سے لا کھوں لوگ متا ثر ہو رہے ہیں مقامی کاشتکاران نے کمیشن مقرر کرنے کاشتکاروں کواِن کے حدودات کے اندر جو صدیوں سے زمینیں کا شت کی جا رہی تھی اور کا شت ہو رہے ہیں مقامی کا شتکاروں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا اِن کاشتکا روں نے PTIسے انصا ف کے تقا ضے پورے کرنے کا بھی مطالبہ کیا مزید کہا اگر PTIحکومت اس معا ملے میں خا مو شی اختیار کی تو اگلے الیکشن میں آل سوات مقامی کاشتکاران آزا د حیثیت سے اپنا اُمیدوار بھی میدان میں لائینگے انہوں نے کہا کہ جنگلا ت کے تباہی کے ذمہ دار ہم نہیں ملک کے ادا رے ہیں ہم نے جنگلا ت کو تحفظ دیا ، ہم مظلوم طبقہ ہے ہر دو ر میں سکول اور ہسپتال سے محروم ہے اور گذشتہ سا ل سے انصاف کے لئے در بدر ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہے اگر PTIمخصو ص افراد کا ٹولہ ہو تو قوم اُن کے توقعات نہیں رکھینگے مقررین نے آل پارٹی کانفرنس بلا نے کا مطالبہ کر تے ہوئے تمام سیا سی جما عتوں سے اس معا ملے پر غور کرنے پر زور دیا ، مقررین نے مزید کہا کہ ہر گاؤں کے اندر قبائلیت اور جدیدیت کے درمیان سما جی جغرافیائی موجود ہے ہر کسی کو گاؤں کے اندر دفتر کے حسا ب سے جنگلا ت کو ذا تی قرار دئیے جائے جیسا کے جدید طریقے سے محکمہ جنگلا ت اور سر کار ی وغیر سر کار ی ادا رہ جا ت جنگلات لگا رہے ہیں اور ذا تی قرار دئیے جا تے ہیں تو حدود کے اندر جنگلا ت ذا تی قرار دیا جائے ،اور فارسٹ اپنے فرائض انجام دیں صوبائی حکومت ہماری لئے بہرے گونگے بن کر انصاف کے دورازے بند کر چکے ہیں تا ہم اپنے بچوں کے مستقبل کا یہ جنگ لڑیینگے جر گہ مشران نے ہر ویلج کونسل کے سطح پر کمیٹی تشکیل دینے ، صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے سمیت نبی گا لہ جانے اور دیگر اہم اعلا نا ت کئیے اور کہا کہ تقریباً45علا قوں کے تنظیمں اس معا ملے کے لئے مکمل کی گئی ہے مقررین اس موقع پر جائیداد کے انتقالات اور آزاد کمیشن نا مزد کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آئندہ اتوار کوMNAمراد سعید کے رہائش گا ہ پر ملا قا ت کے بعد لائے عمل طے کرینگے انہوں نے یہ بھی کہا کہ فارسٹ غیر قا نو نی مقدمات بنا نے سے باز آجائے فیصلہ آنے تک کسی قسم کی حد براری سے ہم مکمل انکار کر تے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ 1980 ء میں بندوبست کا آغاز ہوا ایک بڑے رقبہ کا اندراج غلط، بے بنیاد اور خلاف حقائق طور پر سائیلان کے سا دگی اور نا خواندگی کا فائدہ اُٹھا کر پروٹیکٹیڈ فارسٹ کے نا م درج کر دیا حا لا نکہ جائیداد متد عویر ہر گز پروٹیکٹیڈ فارسٹ نہ ہے بلکہ مذروعہ آراضیات ہے ہم اس حق کے لئے مر تے دم تک لڑینگے ہر انتشار کے ذمہ دار حکومت ہو گی۔
2,040 total views, no views today



