آخر کا روہ لمحہ آگیا جس کے لیے لندن کے میٹروپولٹن پولیس گزشتہ تین سالوں سے اپنی کاروائی جاری رکھی ہوئی تھی اور 4 جون علی الصبح انہوں نے لندن میں واقع الطاف کے گھر پرچھاپہ مارکرمنی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو باضابطہ طورپر گرفتار کیا۔
منی لانڈرنگ برطانیہ کے قانون میں ایک سنگین جرم ہے یہ کیس اس وقت سامنے آگیا جب تین سال پہلے لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا وہاں عمران فاروق کے قتل کے شواہد کا اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے البتہ پولیس نے الطاف حسین کے گھر سے لاکھوں کی تعداد میں پاؤنڈز برآمد کیے جسکی الطاف حسین کے ساتھ باقاعدہ کوئی قانونی ثبوت موجودنہیں تھا اور یوں لندن پولیس نے اس پرباقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا۔ جس کا اظہار الطاف حسین نے کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسوں میں اپنے ٹیلیفونک خطاب میں بھی کیا جس میں موصوف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید لندن پولیس ان کو چھوڑنے والے نہیں اور اسی طرح ان کا یہ خدشہ چارجون کو شرمندہ تعبیر ہوا اوران کو اسی دن صبح کے وقت باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔
زیادہ ترلوگوں کوان کی گرفتاری پر حیرت اسلئے نہیں ہوئی کیونکہ اس کیس میں ایک دن یہ گرفتاری متوقع تھی۔جہاں تک لندن پولیس کا تعلق ہے ان کا دنیا بھر میں اپنا ایک خاص مقام ہے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت دنیا بھر کے انوسٹی گیشن ایجنسیوں کے لیے ایک مثال ہے وہ ہر لحاظ سے اپنے کام میں آزاد اور خودمختار ہے دنیا بھر کے ممالک بعض پیچیدہ کسیوں میں ان سے مددلیتے ہیں وہ تب ملزم پر ہاتھ ڈالتے ہیں جب وہ ان کے بارے کافی اور معقول شواہد اکھٹی کرلیتے ہیں،کیونکہ جب انوسٹی گیشن آفیسر عدالت میں ملزم کاجرم ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے تو پھر یہ ان کے لیے وبال جان بن جاتاہے لہٰذا الطاف حسین کے کیس پر بھی انہوں نے کافی کام کیا ہے جسکے لیے انہوں نے کافی شواہد اکھٹی کرلیتے ہیں اگر اس پر یہ جرم ثابت ہوجائے تو اس صورت میں اس کو چودہ سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
اب بات رہی پاکستان کی ردعمل کی پاکستان میں صرف کراچی میں ایم کیو ایم نے الطاف حسین کی گرفتاری پر مظاہرے کیے کاروبند کیا گیاباقی ملک کے کسی حصے سے بھی ردعمل نظر نہیں آیا اس کی وجہ یہ ہے کہ الطاف حسین ملک میں ایک خاص طبقے کے لیڈرہے جو صرف کراچی تک محدودہے ایم کیو ایم کے کارکنان ضرور مظاہرے کریں گے چونکہ وہ ان کے چہیتے ہیں ان کی نظر صرف الطاف حسین پر ہے ان کے کردار یا کرتوتوں پر نہیں لیکن ان کے مظاہروں کے دوران ملک کے ا ملاک کو نقصان پہنچانے اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کے ساتھ حکومت کو سختی سے نمٹنا چاہیے حکومت برطانیہ سے درخواست حیران کن اور تعجب امیز ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ الطاف حسین پاکستان کو چھوڑے ہوئے تیس سال ہوئے ان کے پاس نہ تو پاکستان کا شناختی کارڈ میں اور نہ ہی پاسپورٹ اور نہ ہی وہ ملکی سطح کے بڑے لیڈر ہے وہ برطانوی ہے اور اس کو ان کے قانون کے مطابق باقاعدہ طور پر ایک جرم میں چارج کیا گیاہے۔ ان کے عدالتیں آزاد ہے ہیں اور انوسٹی گیشن ایجنسیاں آزاد اور خودمختار ہے پاکستانی حکومت کا اس بارے میں قانونی اور اخلاقی مدد کیلئے کونصلرکے رسائی کا کیا مطلب ہم تو خود چند ماہ پہلے جناب الطاف حسین کے خلاف ریڈ ورانٹ گرفتاری کے بعد کرتے تھے۔ کیونکہ وہ پاکستان کے عدالتوں کو بہت سے کیسوں میں مطلوب ہیں جس کے وجہ سے انہوں نے پاکستان چھوڑ کر برطانیہ میں رہائش اختیار کی خدارا جو کام حکومت پاکستان کوکرناچاہیے تھا اگر وہ کام انصاف اور پوری عدل کے ساتھ اور کریں۔ تو اس میں ہمیں ٹانگ اڑانے اور صفائیاں پیش کرنے کیا ضرورت ہے ہماری سیاسی لیڈران شاہد12مئی کے وہ دن بھول چکی ہے جب چیف جسٹس صاحب کراچی گئے ہوئے تھے۔ اور ایم کیوایم والوں نے کراچی میں تمام پارٹیوں کے اکثر کارکنان کو خون میں نہلایاتھا اور ہم ہر وقت ان سے حساب لینے کے بات کرتے تھے لیکن سیاسی مصلحتوں کے وجہ سے ہم بھول جاتے ہیں لیکن اب تو عمران فاروق قتل کیس کے تفتیش بھی جاری ہے۔ اس کیس کے ساری کڑیاں جناب الطاف حسین کے طرف جاتے ہے وہ دو نوجوان بواسطہ خالد شمیم محسن اور کاشف جو عمران فاروق قتل کیس کے بعد سرلنکا کے راستے آرہی تھے اور کراچی ائیر پورٹ پر حکومت پاکستان نے اپنے تحویل میں لے لئے تھے جسکی باقاعدہ حوالگی کا مطالبہ حکومت برطانیہ نے پاکستان کیا ہے لہٰذا کل اگر الطاف حسین پرعمران فاروق کیس میں فردجرم عائد ہوجائے کیا پھر بھی ہم ان کی قانونی اور اخلاقی امدد کی درخواست کریں گے ذراسوچنے کی بات ہیں خدارا بس کریں ہم کب تک سیاسی مصلحتوں کے خاطر انصاف عدل،سچائی اور ایمانداری پس پردا ڈالیں گے کب ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہم بھی دنیا کے دوسری قوموں کی طرح جمہوریت پسند، انصاف پسند سچے اور ایماندار قوم ہے۔کیا یہ کھلا تضادنہیں کہ ایک ملزم کے لیے حکومت پاکستان قوکونصلر کی رسائی کی درخواست کرسکتے ہیں لیکن معمولی معمولی کسیوں میں الجھے ہوئے بیرونی ممالک میں کام کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں ہمارے بھائی جو ملک کے لیے اربوں روپوں زرمبادلہ اپنا خون پسینہ دے کر بھیجتے ہیں جس پر ملک کی معیشت قائم وادائم ہیں کھبی بھی ہم نے ان کے مسائل حل کرنے کی زحمت نہیں کی اس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ ہمارے برادر اسلامی ملک سعودیہ عرب میں ہزاروں پاکستان نوجوان معمولی کسیوں میں بند ہیں جو وہاں کی جھلیوں کی سختیاں اور مشکلات سہتے ہیں ان کے لیے کوئی قانونی رسائی کے لیے کیوں کسی کونصلر کی رسائی نہیں کی جاتی جو کہ سچے پاکستانی ہیں پشتو شاعر جناب روغانی کا ایک شعرہے۔
عیش دے کہ مستی دہ کہ دمیوجام
تاتہ سراسرحلال ماتہ سراسرحرام
ماتہ چاکو منع تاتہ توپہ اور مشین گن آزاد
یومنڈو کے اوڑے ژمے یو منڈوکے صبح وشام
866 total views, no views today


