ویسے تو کالعدم ریاست سوات کے بارے میں کئی زبانوں میں نامور مؤرخین، محققین اور علوم بشریات کے ماہرین نے کتابیں لکھی ہیں، جن سے اس پرفسون وادی سے دل چسپی رکھنے والے بہت کچھ اخذ کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کتابوں اور مقالوں میں میاں گل عبدالودود مرحوم اور میاں گل جہانزیب مرحوم کی ذاتی زندگیوں، اُن کے روز مرہ کے مشاغل، عادات واطوار اور اپنی رعایا کے ساتھ روزمرہ معاملات میں ان کے رویوں کے متعلق تفصیلی یا اجمالی معلومات ناپید ہیں۔ یہ معلومات صرف وہ لوگ دے سکتے تھے، جو ان کے انتہائی قریب رہ چکے تھے۔ مثلاً اُن کے ڈرائیور، ذاتی خادم، ان کے مالی اور بیراگیری کرنے والے ملازم اور باڈی گارڈ کے افراد شامل ہیں۔
اسے تاریخی تساہل سمجھئے یا متعلقہ معلومات رکھنے والے حضرات کی کوتاہی۔ ان معلومات کے حامل افراد اَب شاید اس دنیا میں نہیں رہے۔ مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کو یہ باتیں منتقل کی ہوں۔ مثلاً آخر دم تک میاں گل جہانزیب کے خدمت گزار اور وفادار حاجی امان الدین صاحب، اُن کے ڈرائیور شاہ جہان صاحب، ان کے ایک مالی محمد مرحوم جن کے ایک صاحب زادے سی اینڈ ڈبلیو میں ہیڈ کلرک ہیں، ان کے باڈی گارڈ کے چیف، شاہ روان کپتان صاحب مرحوم۔
ایک سنہری موقع جناب بادشاہ صاحب کے بارے میں ذاتی معلومات حاصل کرنے کا ہم نے خود ہی کھودیا تھا۔ ہمارے ریاست سوات کے دور کے ایک ہم کار اور بعد از ادغام سی اینڈ ڈبلیو میں ہمارے ساتھی عبدالمنان عرف ’’گل دا‘‘ ان ملازمتوں سے پہلے مرحوم بادشاہ صاحب کے قریب کئی سال گزار چکے تھے۔ وہ ان کے تمام معمولات کے تمام جزئیات سے واقف تھے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ میں اپنے بیٹے اور پوتوں کے ساتھ اُن سے ملنے اُن کے گاؤں اخوند کلے گیا تھا۔ ہم نے کئی گھنٹے ان کے ساتھ گزار ے۔ ہم پرانے وقتوں کو یاد کرتے رہے۔ اس اثناء میں اُن کی ملاقات کو شاکر اللہ ایڈووکیٹ بھی آگئے۔ یہ دونوں، ریاست کے خلاف ایک زیر زمین تحریک ’’ملکی رورولی‘‘ کے سرگرم اور سرکردہ ارکان تھے۔ باتوں کے دوران میں گل دا نے بتایا کہ وہ میرے مضامین بڑی دل چسپی سے پڑھتے ہیں۔ ہم شام کو واپس گھر آگئے۔ چند دن بعد اُن کا فون آگیا۔ علیک سلیک کے بعد انھوں نے بتایا کہ اُن کے پاس مرحوم بادشاہ صاحب اور والی صاحب کے بارے میں بہت مفید معلومات ہیں، جن کے بارے میں آج تک نہیں لکھا گیا ہے۔ انھوں نے مجھے دعوت دی کہ میں اُن کے ہاں جاؤں اور اُن کی فراہم کردہ معلومات کو ضبط تحریر میں لاکر عام لوگوں تک پہنچاؤں۔ انھوں نے ازراہ مذاق کہا کہ وہ گاڑی کے لیے پیٹرول بھی دیں گے۔ میں نے حامی بھرلی۔
ایک دن اتفاقاً کسی جگہ سواتی صحافت کے اہم حضرات سے مل بیٹھے، جن میں سواتی جرنلزم کے سرخیل فضل ربی راہیؔ صاحب، کرۂ ارض کو قلم سے ناپنے والے اور صنف نازک کی (بزعم خود) توجہ حاصل کرنے والے خوش فہم فضل خالق فضلؔ صاحب اور نوجوان جرأت مند قلم کار امجد علی سحابؔ بھی موجود تھے۔ باتوں باتوں میں ’’گل دا‘‘ اور اُن کے پاس محفوظ عینی مشاہدات کا خزینہ موضوع سخن ٹھہرا۔ تو ان حضرات نے گہری دل چسپی ظاہر کردی اور طے ہوا کہ کسی دن ہم سب ’’اخوند کلے‘‘ جائیں گے۔ ساتھ کیمرے اور ریکارڈنگ کے ضروری آلات ہوں گے اور ’’گل دا‘‘ سے سوال جواب کی تفصیلی نشست کی ریکارڈنگ اور عکس بندی کریں گے۔
مگر افسوس کہ وہ دن نہیں آیا۔ ہم تساہل میں پڑگئے اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہم سے پہلے موت کا فرشتہ وقت معین پر آیا اور عبدالمنان عرف ’’گل دا‘‘ اپنے حقیقی مالک کے پاس چلے گئے۔ اُن کے انتقال کے دوسرے روز ہم فاتحہ خوانی کے لیے گئے اور اُن کے صاحب زادوں ڈاکٹر سردار علی اور سلیم شاہ سے تعزیت کی۔ اور اس طرح ہم نے وہ سنہری موقع اپنے ہاتھوں ضائع کیا۔
ریاستی دور میں ہم ایک روز اسٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے دفتر میں آتش داں کے گرد بیٹھے تھے۔ شدید بارش کی وجہ سے ترقیاتی کام رُکے ہوئے تھے۔ ہم مختلف موضوعات پر گفت گو کررہے تھے۔ باتوں باتوں میں ’’گل دا‘‘ مرحوم نے بتایا کہ جب وہ بادشاہ صاحب کے حضور میں ملازم تھے، اُن کی عادت تھی کہ اپنے خدام، ڈرائیوروں اور اردلیوں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ کھانے میں دنیا بھر کی نعمتیں موجودہوتی تھیں۔ حتیٰ کہ شکار کا گوشت بھی، جو سب کا سب ملازمین کھاتے تھے۔ بادشاہ صاحب اُبلی ہوئی ’’توری‘‘ کے ایک آدھ چمچ پر تھوڑا سا دہی ڈالتے اور یہی اُن کا کھانا تھا، لیکن دسترخواں پر آخر وقت تک موجود رہتے۔ تاکہ دوسرے شرکاء پیٹ بھر کر کھانا کھاسکیں اور پھر سب سے آخر میں اُٹھتے۔
عبدالمنان ’’گل دا‘‘ ایک صاحب حیثیت خاندان کے سربراہ تھے۔ اُن کے اُٹھنے بیٹھنے اور گفت گو میں ایک پر وقار تمکنت جھلکتی تھی۔ لمبے قد کے گورے چٹے خوب صورت شخص تھے۔ اور یاروں کے یار تھے۔ دریا دلی اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔ مجھے زندگی بھر اس بات کا پچھتاوا رہے گا کہ میں اُن سے انتقال سے پہلے کیوں نہیں ملا۔
آنے والے رمضان شریف کے لیے ایک قطعہ جو 17جولائی2013ء کے روزنامہ چاند میں شائع ہوا، نشر مکرر کے طور پر پیش خدمت ہے۔
بے زروں کے لیے رمضان میں کیا رکھا ہے
اس مہنگائی کے طوفان میں کیا رکھا ہے
سوکھی روٹی بڑی تکلیف سے مل جاتی ہے
اور کچھ شام غریبان میں کیا رکھا ہے
1,152 total views, no views today


