کسی کے دکھ درد اور مصیبت میں وقت پر کام آنا، ہر کسی کا کام نہیں ہوتا۔ کچھ سعادت مند لوگ ہی ہوتے ہیں جنھیں یہ توفیق نصیب ہوتی ہے، اور وہ سعادت مند لوگ قسمت ہی سے ملا کرتے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو دل سے تسلیم کیا جائے، تو کسی کے بھی کوئی شکوہ نوکِ زبان پہ نہ آئے گا۔ اکثر حضرات ایک دوسرے پہ حقوق جتاتے ہیں، شکایت سرا ہوتے رہتے ہیں۔ کام نہ آنے پہ اظہارِ ناراضگی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے خفگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شاکی رہتے ہیں۔ تعلقات معدوم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ دیرینہ دوستی ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور یہ قطع تعلق ماحول کو انتشار انگیز بنا کر رکھ دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مصیبت یا برے وقت میں اچھے برے کی پہچان ہوجایا کرتی ہے، مگر ہم کون ہوتے ہیں کسی کی اچھائی یا برائی کا تجزیہ کرنے والے؟ ایک شخص اگر مصیبت کے وقت ہمارے کام نہ آسکا، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ کسی اور کے کام بھی نہیں آئے گا یا نہ آرہا ہوگا۔ اور نہیں تو کم از کم اپنی بیوی اور بچوں کے کام تو آرہا ہوگا۔ کیوں کہ اتنا تو ایک بے زبان بھی کرتا ہے۔ بس اتنا کافی ہے ناں۔ آپ قادرِ مطلق کو پکار کر اپنی مصیبت کا اظہار کریں۔ اُسے پکارئیے جو پکارنے سے پہلے پکارنے والے کی پکار سننے پہ قادر ہے۔
انسان سے مدد طلب کرنے پر درپیش مسئلے، کام یا ضرورت کی پوری تفصیل سنانی پڑتی ہے۔ ’’متوقع‘‘ مدد گار کے سوالات کے جوابات دینے پڑتے ہیں۔ اُس کا احسان اُٹھانا پڑتا ہے۔ بعض اوقات اُس ’’محسن نام نہاد‘‘ کی ڈانٹ ڈپٹ بھی سننی پڑتی ہے جو کہ عام لوگوں کے نزدیک اُس کا قانونی حق بھی بنتا ہے۔
ویسے تو کسی شاعر نے ایک مصرعے میں زندگی کا پورا فلسفہ بیان کردیا ۔ جانے کس جذبے میں آکر کہہ گیا کہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
اگر دیکھا جائے، تو جو لطف اور سچی خوشی ’’بے ریا‘‘ طور پہ کسی لالچ اور طمع کے بغیر کسی کے جائز کام کرنے میں ہے، اتنا لطف اور خوشی کسی اور چیزوں میں نہیں، مگر بات خلوص نیت اور توفیق کی ہوتی ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں میسر ہوں، تو خدمت خلق میں کوئی چیز یا امر مانع نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص کسی کے کام آنے سے گریزاں رہے، تو پھر اُس سے گلہ کرنا بے مقصد ہے۔ اُسے تہہ دل سے معاف کردینا مفید ہے۔ کیوں کہ کلی اختیار کے باوجود وہ انکار کرتا ہے تو پھر وہ قابل رحم ہی ہے۔ منت سماجت، سفارش یا زبردستی، بدمزگی کے اسباب ہوا کرتے ہیں۔ کسی کو معاف کردینے کے بعد دل میں کدورت ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ ایک ہستی ایسی ہے جو ’’بے نیاز‘‘ ہے۔ وہ ’’اللہ‘‘ کی ذات مقدسہ ہے۔ وہ تو بن مانگے عطاء کرتا ہے، وہ بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالنے والا ہے۔ اور اگر کوئی دل کی گہرائیوں سے ’’خواست گارِ بارگاہ‘‘ ہوجائے اور اگر کوئی رقت انگیز کرب سے صدا دے کر یقین کے ہالے کو اپنا آپ حوالے کردے تو جو بھی فیصلہ اُس ’’بے نیاز‘‘ کی طرف سے ظہور پذیر ہوجائے، دل مطمئن ہی ہوجاتا ہے کہ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اللہ ہم سب کو اتنی ہمت عطا فرمائے۔
انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جھولی پھیلائے تو ’’رب بے نیاز‘‘ کے آگے، جب اُس کی رضا شامل حال ہوجائے تو یہی لوگ شامل حال ہوجاتے ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ ایک پہاڑ (جو قدو قامت کے لحاظ سے لاثانی ہوتا ہے) مگر اس قدر بڑائی کے باوجود وہ کسی دوسرے پہاڑ کے کام نہیں آتا، مگر ایک انسان ہی ہے جو بہ وقت ضرورت دوسرے انسان کے کام آتا ہے۔ لہٰذا ایک دوسرے سے کلی طور پہ مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ ماں اُس وقت تک بچے کو دودھ نہیں پلاتی جب تک بچہ رونہ دے۔ اپنی ضرورت، دکھ، درد اور مصیبت کا ذکر کسی با اعتبار شخص سے کرلینا بری بات بھی نہیں ہے، مگر ہمارے اظہار کا محور اور مرکز اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہونا چاہیے۔ تصور میں حکم الٰہی اور رحمت الٰہی کا سہارا ہی مقصود ہے کہ وہ تو مچھلی کے پیٹ میں یونس علیہ السلام کو رزق دینے پہ قادر ہے۔
انسان نہ تو رزق دے سکتا ہے اور نہ ہی چھین سکتا ہے۔ یہ تو بس اللہ کے حکم سے بعض اوقات اک بہانہ بن جاتا ہے۔ کیوں کہ انسان کو انسان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ دوسروں کو خود سے حقیر سمجھنے والے دوسروں کو حقارت کے نقصانات اور معافی سمجھانے والے، تو کہتا ہے کہ میری اجازت کے بغیر چڑیا پر بھی نہیں مارسکتی۔ ارے تو کہتا ہے کہ ’’میں‘‘ ہوں اور کوئی نہیں۔ نہیں نہیں تو بھول گیا ہے کہ تو نہیں ہے، تو نہیں ہے۔ جن سے تو کہتا ہے کہ میں ہوں۔ خبردار! میرے سامنے سانس بھی لینا، تو سوچ سمجھ کر لینا، مگر تو بھول گیا ہے کہ یہی لوگ تجھے مرنے کے بعد کندھا دیں گے۔ یہی لوگ تجھے دفنا لیں گے۔ یہی لوگ تجھے خاک میں ملائیں گے اور ثواب کمائیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہی لوگ تیرے کام آئیں گے اے انسان!
2,195 total views, no views today


