مینگورہ، بجٹ میں سوات نظرانداز،کسی قسم کے ترقیاتی پیکج کااعلان نہیں ہوا،چھ ممبران اسمبلی دیکر بھی سوات نظروں سے اوجھل رہا، متاثرین کیلئے بجٹ میں کچھ مختص نہیں۔ صوبائی حکومت کے حالیہ بجٹ میں سوات کومکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے حالانکہ سوات کے 7حلقوں سے چھ ممبران اسمبلی حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں یہاں کے عوام نے مینڈیٹ دیکر ترقی وخوشحالی کیلئے منتخب کیا
اور ان کی وجہ سے صوبہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے یہ ممبران اسمبلی اپوزیشن کے ہاں چلے جائیں توحکومت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ اس کے باوجود سوات کی ترقی اور یہاں کے عوام کی خوشحالی کیلئے کسی قسم کے ترقیاتی منصوبے کااعلان نہیں کیاگیا نہ ہی فنڈ مختص کیاہے بجٹ کے حوالے سوات بھرکے ایم پی ایز سے رابطہ کیاگیاتوسوائے پی کے 81کے عزیزاللہ گران کے کسی بھی اور ایم پی اے نے فون اٹھاناگوارانہ سمجھاعزیزاللہ گران نے بتایاکہ حاجی بابا سے کلیل کنڈؤ تک 20کلومیٹرسڑک اور کوکڑئی سے مرغزار ایلم روڈ تک سڑک سمیت پی کے 82سے ملنے والارابطہ سڑکت کیلئے فنڈ منظورہوچکاہے جس پر جلد کام کاآغاز ہوجائیگا۔بجٹ میں سوات کی نظرانادازی پر عوام میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ عصمت علی اخون
406 total views, no views today


