جی ہاں ’’بھوک‘‘ ایک عجیب سا لفظ ہے۔ اس کی کیفیت بھی عجیب ہے۔ بھوک کو اگر عجیب کی بجائے غریب سا لفظ کہا جائے، تو بھی بے جانہ ہوگا کیوں کہ غربت اور بھوک کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ہر جان دار کو بھوک لگتی ہے اور اس کا لگنا ضروری بھی ہے۔ زندگی کے دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ زندگی کو زندگی دینے کا مؤجب ہے یہ بھوک۔ الغرض بھوک کی اپنی ایک اہمیت اور ضرورت ہے۔ اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار یا مفر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھوک کم ہوجائے یا بھوک لگنا بند ہوجائے، تو مریض طبیب سے رجوع کرتا ہے کہ جی بھوک اُڑ گئی ہے۔ کوئی تدبیر کیجیے۔ کوئی نسخہ دیجیے تاکہ جان پکڑ سکوں۔
کچھ لوگ کم کھانا کھا کر سیر ہوجاتے ہیں اور کچھ زیادہ کھانا کھا کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ یہ اپنی اپنی جسمانی ضرورت، معدے اور اپنے اپنے مزاج کی بات ہوتی ہے۔ کسی دانش ور نے کہا تھا کہ ’’دنیا میں پیٹ سے بڑھ کر گندا برتن اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس بات کی سچائی میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں ہے۔ پیٹ باعث شرمندگی بھی ہے۔ منھ سے کھایا پیا جاتا ہے اور آنکھ شرماتی ہے، آخر کیوں؟ صرف اسی پیٹ کی خاطر ہم اکثر سوچتے ہیں کہ تمام دنیا کے لوگوں کا اسی طرح پیٹ ہوتا، تو ہوتا مگر صرف ذاتی طور پہ ہمارا پیٹ نہ ہوتا اے کاش، اے کاش۔ ہم اس صورت میں لوگوں کے بے تاج بادشاہ ہوتے۔ بہ خدا ہم خود کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رزق عطاء فرما ہی دیتا ہے مگر پھر بھی کتنا اچھا ہوتا اگر ایسا ہوتا۔ خیر یہ تو اپنے اپنے خیال اور اپنی اپنی سوچ کی بات ہوتی ہے۔
دیکھا جائے، تو بھوک ایک مفید احساس ہے۔ اس کی افادیت اور افضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے فرض کیے گئے۔ آخر اس میں کیا حکمت ہے کہ سارا دن کچھ کھائے پئے بنا گزارنا پڑتا ہے۔ کچھ حلال چیزیں حرام قرار دی جاتی ہیں۔ حرام تو ہوتی ہی حرام ہیں۔ ہمیں ایک مخصوص وقت تک رک جانے کا حکم ہوتا ہے۔ ماہ مبارک میں نعمتیں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں، تاکہ کوئی بھی محروم نہ رہے، خواہ وہ روزے دار ہو یا نہ ہو۔ نعمتیں اور رحمتیں سب پہ برستی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ناجائز منافع خور، بے حس اور خود غرض ذخیرہ اندوز ’’رمضان المبارک‘‘ کی آمد سے پہلے ہی چھریاں تیز کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ اُن کی نظر میں رمضان کا مہینہ کمائی کا ہوتا ہے۔ یہ ایک منافع بخش سیزن ہوتا ہے۔ بے شک یہ کمائی کا مہینہ ہوتا ہے، مگر اس کا تعلق انسانی سوچ سے بھی ہے کہ کون سی کمائی کا مہینہ ہے یہ رمضان شریف۔ ماہِ معظم میں دستر خواں خوب سج جاتے ہیں۔ اپنی اپنی حیثیت اور مواقع کے حساب سے غذائیں اور پکوان تیار ہونے لگتے ہیں۔ بعض لوگ تو اتنے رحم دل بھی ہوتے ہیں کہ پڑوس میں ٹھنڈا پانی یا برف بھی بھیج دیتے ہیں۔ ہماری ذاتی رائے کے مطابق پانی یا برف سے بڑھ کر رمضان المبارک میں اور صدقہ ہو ہی نہیں سکتا۔
ہر روز افطار کا دل آویز منظر عید کی سی خوشیاں اپنے ساتھ لیے خراماں خراماں چلا آتا ہے۔ گرمی کے رمضان المبارک میں سولہ سترہ گھنٹے کھانے پینے کی پابندی اس لیے تو ہر گز نہیں لگائی جاتی کہ ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہ تو ایک فرض ہے۔ آزمائش تو ہے ہی مگر طاقت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یہ فرض ادا کرنا فرض ہے۔ بھوک پیاس برداشت کرکے افطاری کرنا یہ منشائے الٰہی ہے اور حکم خداوندی میں بہتری کے سوا کچھ بھی نہیں۔
رمضان المبارک کی فضیلت اور شان ہی الگ ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ رمضان شریف کے روزوں میں بھوکا پیاسا رہنا تو فرض ہے، لیکن جو لوگ بہ صد مجبوری سارا سال گاہے بہ گاہے فاقہ کشی پہ مجبور ہوتے ہیں، اُن کا کیا؟ ماہرین معاشیات، اقتصادیات اور ماہرین عمرانیات کے تجزیئے اپنی جگہ، ہمیں غربت، بھوک اور افلاس کے اعداد و شمار یا اطلاعات دینے کی خواہش نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اس کا علم ہے۔ ہم تو اس کی وجوہات اور سد باب پہ غور کررہے ہیں کہ آخر بھوک اور وہ بھی بے روزگاری کی وجہ سے، غالب ہورہی ہے، تو پھر کیوں نہ بے روزگاری ہی کو ختم کردیا جائے۔ بے روزگاری کے علاوہ بھوکے رہ جانے کے خوف کو ختم کردیا جائے۔ نااُمیدی کو ختم کردیا جائے۔ بدگمانی کا قلع قمع کر دیاجائے۔ حرص، طمع، بخل اور لالچ کی جڑیں کاٹ دی جائیں۔ اپنے اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو ادا کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔ تو کل سے کام لیا جائے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نیک گمان وابستہ کیا جائے۔
وہ غرباء و مساکین جو فاقہ کشی اور ہاتھ پھیلانے پہ مجبور ہیں، اُنھیں چاہیے کہ وہ اپنا تجزیہ کرلیں۔ اچھی طرح اپنی حالت پہ غور کرلیں کہ آیا وہ کام کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ اُن کے پاس کوئی ہنر ہے یا نہیں اُن کی صحت اور عمر محنت کرنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں؟ اُن کا کمانے والاکوئی اور فرد ہے یا نہیں؟ ان تمام اُمور پہ اگر حقیقتاً غور کرلیا جائے، تو کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکل آئے گا جو اسے بھوک سے گلو خلاصی دلا دے گا۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھنا ایک تو مستقل طور پہ بھوکے رہنے کے لیے دعوت ہے اور دوسرے معاشرتی و فطری دستور کے مطابق بھی عیب اور ناکامی کا زینہ ہے۔
یہ جو بڑھتی ہوئی، غربت افلاس اور بھوک کا عفریت چھا رہا ہے۔ دن بہ دن مہنگائی، بے انصافی اور حقوق و فرائض سے غفلت کی دہائی دی جا رہی ہے۔ امیر کے امیر ترین اور غریب کے غریب ترین ہونے کا شور بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے، آخر مسئلہ کیا ہے؟ یہ اُلجھنیں آئے دن کیوں فزوں تر ہوتی جا رہی ہیں؟ یہ شاید حرص زر اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ جب تک قناعت اور منصفانہ تقسیم دولت کو رواج نہیں دیا جاتا، تب تک غیر ممکن ہے کہ بھوکے رہ جانے والے غرباء اور مساکین کا پیٹ بھر سکے۔
کیا مال و زر سے محبت بڑھ گئی ہے، اگر ہاں تو کیا یہ محبت خود ساختہ ہے؟ بہ صد مجبوری ہے یا پھر حرص زر اور محبت زر کے پیدا کرنے میں کچھ عناصر بھی کار گزار ہیں؟ ٹھیک ہے دولت ایک ناگزیر ضرورت تو ہے کہ اس کے بغیر کچھ فرائض کی ادائیگی میں بھی رخنہ اندازی واقع ہونے کا خدشہ پنہاں ہے، مگر دولت ہی زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ دولت ہی کو عزت کا معیار اور عظمت کا مینار کیوں سمجھا جا رہا ہے؟
خیرات، صدقات، عشر اور زکوٰۃ کا جذبہ شاید کم ہوچکا ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کے پیمانے میں شاید دراڑ پڑ چکی ہے۔ بس شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ جو کہ مستحق ہیں، وہ اس نعمت سے محروم رہنے کے شکار ہیں۔ کیوں کہ مستحق لوگ کبھی دست سوال دراز نہیں کرسکتے۔
اگر تقسیم دولت کا طریقہ کار دوست کرلیا جائے، تو لاکھوں لوگ کروڑ پتی اور ارب پتی یقیناًموجود ہوں گے۔ غربت بھوک افلاس کی کیا جرأت کہ وہ معاشرے پہ حملہ آور ہوسکے۔ عام لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ روزگار کی فراہمی کے لیے شرطِ اول سرمایہ کاری ہے۔ مال اگر ڈھیر کی شکل میں جمع کیا جاتا رہے، تو اس کے ہونے کا مقصد ہی فوت ہوکر رہ جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگوں کا حق مارا جاتا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ جائز طریقے سے خرچ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس طرح ایک جو جمع کرتے رہنے سے مارکیٹ میں نوٹ کم ہوتے ہیں اور غربت کی شرح بڑھنے لگتی ہے لہٰذا نوٹ کی شکل میں دولت کو گردش میں رہنا چاہیے۔
دولت کی مثال ایک حسین رقاصہ کی سی ہے، دنیا کی محفل میں یہ جتنی زیادہ رقصاں رہے گی، نوٹ اس پر اتنے ہی زیادہ برستے رہیں گے۔
875 total views, no views today


