قارئین کرام! اے ار وائی نیوز کراچی کے رپورٹر فیض اللہ خان کو افغانستا ن میں پابند سلاسل ہوئے آج دو مہینے گزر گئے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں مگر مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ فیض کو ہم سے بچھڑے دو ماہ بیت گئے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میری طرح دوسرے لوگوں کو بھی پتہ ہی نہیں چلا ہوگا کہ سوائے ان کی شریک حیات اور پھول جیسے بچوں کے جو اُن کی جدائی میں آج بھی خون کے آنسو رو رہے ہیں، ان کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں، روزے رکھ رہے ہیں، منتیں مانگ رہے ہیں اور وہ آج بھی ویسے ہی ہر ایک سے ایسے رابطے میں ہیں8 جس طرح پہلے روز تھے۔ ہمارے ادارے کے سربراہان اور انتظامیہ سمیت اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور بیورو کی کوششیں اسی طرح جاری ہیں،8 لیکن افسوس کہ حکومتی سطح پر اتنی کوششوں اور رابطوں کے باوجود فیض اللہ کو آج حراست میں لیے جانے کے دو ماہ پورے ہوگئے ہیں اور وہ افغان حکومت کی قید میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
افغان حکومت ان کو کس جرم کی سزا دے رہی ہے؟ کیا فیض اللہ دہشت گرد ہے یا طالبان کا ساتھی ہے یا پھر وہ جاسوسی کرنے افغانستان گیا تھا؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ غلطی سے افغان باڈر کراس کر گیاتھا اور انھوں نے فارن ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر واقعی ان کا یہ جرم ہے، تو اس کی اسے اتنی بڑی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ امریکہ جیسے سپر پاور اور بڑے ملک میں بھی فارن ایکٹ کی خلاف ورزی پر عام سے لوگوں کو فارن ایکٹ کے تحت ملک سے بے دخل کیا جاتا ہے، تو افغانستان میں کیوں ایسا نہیں کیا جاسکتا؟ اوروں پر الزمات کی بوچھاڑ کرنے والی افغان حکومت آج خود ایک صحافی کو معمولی غلطی کی پاداش میں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ امریکہ میں تو انسانی حقوق کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی کے ساتھ معمولی ناانصافی بھی نہیں ہونے دی جاتی، افغانستان میں بھی تو افغان سے زیادہ امریکہ کی حکومت ہے، تو وہ اس نا انصافی پر کیوں خاموش ہیں۔ ملک بھر کے صحافی اور فیض اللہ کے والدین اور بیوی بچے امریکہ سے بھی ان کی رہائی کی اپیل کر تے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔
افغان حکومت وہاں پر تو دوسروں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے، امن کے لیے امریکہ کے رحم وکرم پر ہے ، اگر نیٹو اور امریکہ نکل گیا، تو پھر انھیں اپنی خیر منانی ہوگی۔ افغان حکومت فیض اللہ کی گرفتاری پر ایسی خوش ہے، جیسے اس نے کسی بڑے کمانڈر کو گرفتار کیا ہو۔ کیوں ہمارے ملک کے حکم رانوں اور عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے عوام اور بھائیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سڑکوں پر نکل آئیں، لیکن دوسروں کی خیرات کے لیے دامن پھیلائے ہوئی افغان حکومت کا یہ طرۂ امتیاز رہا ہے کہ چوری بھی اور سینہ زوری بھی۔
کیا افغان حکومت یا ہماری حکومت کو پتہ ہے کہ اس وقت بھابھی پر کیا گزر رہی ہے؟ دو ماہ تو جیسے تیسے گزر گئے لیکن ایک ہفتے بعد رمضان شروع ہونے والا ہے اور جب بھی بھابھی سے بات ہوتی ہے تو ان کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ میں اپنے بچوں کے معصوم چہروں اور ان کی سوالیہ نظروں کو دیکھ نہیں سکتی۔ میں ان کے معصوم سوالوں کے جواب میں دو موٹے موٹے آنسو بہاتی ہوں۔ان کا یہ سوال میرا کلیجہ چھیر کر رکھ دیتا ہے کہ ’’پاپا کب آئیں گے؟؟؟‘‘
’’آپ جھوٹ بولتی ہیں کہ پاپا سویٹس لانے گئے ہیں۔‘‘
’’عید کے لیے ہمیں نئے کپڑے اور جوتے کون خرید کر دے گا؟‘‘
قارئین کرام! کیا بھابھی کے ہاتھ اس عید میں حنا کی مہک سے مہکیں گے؟ فیض اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ عید منا سکے گا؟ اب کی بار اس کے بچے کس کو عید مبارک کہیں گے؟ ان کے بچوں پر دست شفقت کون رکھے گا اور سب سے بڑھ کر ان کی جیب میں عیدی کون رکھے گا؟ یہ سوالات بسا اوقات مجھے کھانے کو دوڑتے ہیں۔
افغان حکومت نے پچھلے جمعہ کو مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر دیکھا نہیں تھا کہ لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان کس طرح سہارا دیے ہوئے ہے اور یہ پوری دنیا میں واحد ملک ہے جسے سب سے زیادہ مہاجرین کو مہمان بنانے کا اعزاز حاصل ہے، تو کیا اس کے بدلے میں ہمارے ایک فیض کو چھڑایا نہیں جاسکتا؟ میں احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ افغان حکومت کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی کوشش میں قلم کا سہارا لے رہا ہوں۔کیوں کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کسی کے ساتھ بھلائی جتانے کے لیے نہیں کرتی جو نیکی کر دریا میں ڈال والی سوچ رکھتی ہے۔دوسروں کے ساتھ بھلائی ہم انسانی ہم دردی اور اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں۔
خدارا! یہ بابرکت دن ہیں۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ آنے والا جمعہ جمعۃ الوداع ہے۔ پورے ملک کے صحافی افغان حکومت کو خدا کا واسطہ دے رہے ہیں کہ فیض کے بیوی بچوں کی خاطر فیض کو چھوڑ دیا جائے، تاکہ وہ اپنے ملک آکر اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ یہ بابرکت دن اور راتیں گزار سکیں۔ تاکہ اس کے بچے مزید ایک شفیق والد کے سائے سے محروم نہ رہیں۔
908 total views, no views today


