تبدیلی اورتبادلہ اردو کے دو مختلف الفاظ ہے جس کی معنی بھی الگ الگ ہے مزید تشریح اور لغوی معنیٰ کے بارے میں ماہر لسانیات ہی جانتے ہونگے کہ ’’تبدیلی ‘‘ کی اصل تاریخ پیدائش کب اور کہاں ہوئی ہے؟ یہ کس خطہ ،قوم اور زبان کی پیداوار ہے ؟اور یا اس کی شناخت بھی پشتونوں کی طرح اب تک مورخین کی نظروں سے اجھل ہے یا مورخین اس پر متفق نہیں ہے مگر پھر بھی راقم ان دونوں الفاظ کے بارے میں اپنی ناقص رائے کے اظہا ر کرنے کا جرات کررہے ہیں کہ کس طرح موجودہ حالات میں ہم نے اس ایک لفظ ’’تبدیلی ‘‘ کو ’’تبادلے‘‘ یا ’’تبادلوں‘‘تک محدود کرکے اپنی ’’مزموم‘‘ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا ہے لفظ ’’تبدیلی ‘‘کو زمانہ قدیم سے سنا جارہا ہے ہزاروں سال پر محیط تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں سلطنتوں میں جنگ و جدل، حکمرانوں میں رسہ کشی اس ’’تبدیلی ‘‘لانے کی غرض سے ہوئی جس طرح کہا جاتا ہے کہ تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اس طرح اس لفظ ’’تبدیلی ‘‘ کی بھی دو رُخ ہے جس میں ایک کو ہم ’’ مثبت ‘‘اوردوسرے کو ’’منفی ‘‘ تبدیلی کا نام دے سکتے ہیں انسان نے غاروں سے نکل کر ارتقائی سفر طے کرتے ہوئے ’’تبدیلی ‘‘ کے خاطر موجودہ شکل اختیار کرلی سائنسی ایجادات کا مقصد بھی ’’تبدیلی ‘‘ ہی ہوتی ہے بہت سے سائنسی ایجادات کی مثبت اثرات کم اور منفی اثرات زیادہ نظر آرہے ہیں حالانکہ ہر تبدیلی کی پیچھے مثبت سوچ کار فرما ہوتا ہے ۔مگر ہم انسان ہر مثبت تبدیلی کو منفی انداز میں لیکر اس کا غلط استعمال کرکے بعد میں اس کا خمیازہ بگھتے رہ جاتے ہیں موبائل فون کو ہی لیجئے موبائل ایجاد کرنے والے نے اللہ کا شکر ادا کیا ہوگا کہ انہوں نے عوام کو لینڈ لائن تاروں اور ٹیلی فون عملہ کی نخروں سے نجات دلاکر اب وہ بغیر تار اور منت سماجت کے باتھ روم میں بیٹھ کر ضروری پیغام سن اور بھیج سکیں گے مگر موبائل فون کمپنیوں نے اپنی امدن بڑھانے کیلئے اس میں ایس ایم ایس ، فری کالز اور دیگر پیکیجز شامل کرکے نہ صرف لوگوں کے قیمتی وقت کوتباہ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا بلکہ ان پیکیجز اور موبائل سیٹوں میں موجود کیمروں کی وجہ سے بہت سے گھرانے اُجڑ کر دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں اس طرح مساجد میں لوڈ سپیکر کو جس طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے اس کا بھی قریبی مکانات کے مکینوں کو بخوبی اندازہ ہے لوڈسپیکر کے غلط استعمال کی وجہ سے تو اردو کے مشہور و معروف صوفی لکھاری واصف علی واصف نے اپنے ایک کتاب کا انتساب اس مسجد کے نام کردیا ہے جس میں لوڈسپیکر کا استعمال نہ ہو۔انسان کو تبدیلی کیلئے کوشش کرنا ہی چاہیئے کیونکہ قرآن کریم کا پیغام ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنے اپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ‘‘اور یہی پیغام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال لاہوری اپنے ایک شعر میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہی تبدیلی کے نعرے ہم گزشتہ کئی عرصہ سے علماء کرام اور سیاسی لیڈروں سے بھی سنتے چلے آرہے ہیں مگر ہمیں معلوم نہیں کہ ان سیاسی مداریوں کی ’’تبدیلی‘‘ کی اس نعروں سے ان کا کیا مقصد ہوتا ہے ؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے حالت تبدیل کرنے کیلئے ہم سے ووٹ لیکر کرسی اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں مگر بعد میں وہ خود’’ تبدیل‘‘ ہوکر اپنے حلقہ نیابت سے ائندہ الیکشن تک راستہ ہی تبدیل کردیتے ہیں کہ بعض حلقوں کے ووٹرز اپنے منتخب نمائندوں کی ’’گمشدگی ‘‘ کے اشتہارات بھی اخبارات میں شائع کردیتے ہیں مگر منتخب نمائندے اس قدر تبدیل ہوتے ہیں کہ ان پر پھر نہ تو کوئی تنقید اثرکرتا ہے اور نہ ووٹروں کی ’’گالیوں ‘‘ پر وہ ذرا بھی ’’غیرت ‘‘ میں آکر ان کے سامنے آنے کا جرات کرسکتے ہیں بلکہ دل ہی دل میں پشتو کا یہ شعر دہراتے ہیں کہ
کاروان پہ لار تیریگی
او سپی ٹول عمر غپیگی
اور ان کے بعض ’’چمچے ‘‘ جو ہمیشہ منتخب ممبران کے ہمراہ ہی ’’سرکڑاہی میں اور انگلیاں گھی ‘‘ میں ڈالیں ہوئے نظر آتے ہیں بھی منتخب ممبران کو ان ’’حاسدوں ‘‘ سے دور رہنے کی تلقین کردیتے ہیں۔یہی چمچے خود بھی ’’تبدیلی ‘‘کے مزے لیکر انہیں کھو دینے کی خوف سے منتخب ممبران کو ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دیتے ہیں ۔ مگر انٹر نٹ کی ایک نئی ’’تبدیلی ‘ فیس بُک نے عوام کوممبران اسمبلی تک اپنی غیض و غضب کی اواز پہنچانے کیلئے یہ مسلہ انتہائی اسان کردیا ہے مگر یہاں بھی ’’چمچوں‘‘ کی کمی نہیں ہے ۔
اب موجودہ دور میں پی ٹی آئی کی مثال ہم لیں گے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے ’’جنم ‘‘ لینے کے پیچھے وہی ’’تبدیلی ‘‘اور ’’انصاف‘‘ کے نعرے ہیں، جو وہ الیکشن سے پہلے لگاتی رہی اور خیبر پختون خوا میں عوام نے پی ٹی آئی کی ’’تبدیلی‘‘ کے اس خوش کن نعرے پر عمل کرکے انھیں ’’سونامی‘‘ لانے دیا اور انھیں بنا کچھ دیکھے اور جانچے دھڑا دھڑ ووٹ دیا، جس پر پختون خوا میں پی ٹی آئی نے اتحادی جماعتوں سے مل کر اقتدار کے حصول کے لیے اپنی ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کی تمام ’’جائز و ناجائز‘‘ خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کیا۔ یوں انھوں نے خود کو ’’تبدیل‘‘ کرکے ’’اقتدار‘‘ کے حصول کو ممکن بنایا۔ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے سے ہی صوبہ میں ’’تبدیلی‘‘کے سفر کا ’’آغاز‘‘ہوگیا، جس کی بدولت پی ٹی آئی کے قائدین کے مطابق پختون خوا میں ’’تبدیلی‘‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہیں، تو اس کا آغاز خود سے کریں۔ اس وجہ سے پی ٹی آئی کے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنوں نے بھی اس قول زرین پر ’’عمل‘‘ کرتے ہوئے خود سے ’’تبدیلی‘‘ کا آغاز کر دیا۔ اس سے پہلے وہ عام ممبر اور سیاسی کارکن تھے۔ انھیں سرکاری طور پر کوئی پروٹوکول حاصل نہیں تھا، مگر اقتدار کے حصول کے بعدانھوں نے خود سے ’’تبدیلی‘‘کا عمل شروع کرکے وی آئی پی اور وی وی آئی پی بن کر خود کو پروٹوکول کا حق دار ٹھہرایا۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام جس کو ’’تبدیلی‘‘ سمجھتے ہیں، اس تبدیلی میں اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ تبدیلی تو ہم نے محسوس کی ہے، اگر کسی کو دکھائی نہیں دیتی، تو یہ ان کی کم زور نظر کا قصور ہے۔ اس تبدیلی سے پہلے ڈپٹی کمشنروں اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر میں اے این پی اور پی پی پی پی کے کارکن بیٹھ کر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہدایات دیتے رہتے تھے، مگر ’’تبدیلی‘‘ کے بعد اب ان دفاتر میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے کارکن اور ’’کارندے‘‘نظر آتے ہیں جو کہ بہت بڑی ’’تبدیلی‘‘ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نے چارج سنبھالنے کے بعد ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ بعض محکموں میں ’’تبدیلی‘‘ میں رکاؤٹ ڈالنے والے افسران کے ’’تبادلوں ‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور بہت سے افسران کو ادھر اُدھر کرکے عوام کو اپنے اختیارات اور قوت کا اندازہ لگوایا ہے۔ یہ ہی نہیں انھوں نے تو صوبہ کے سب سے بڑے آفیسر ’’چیف سیکرٹری خیبرپختون خوا‘‘ کے تبادلے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ کچھ مہینے تو چیف سیکرٹری ’’تبدیلی‘‘ کے عمل میں ’’رکاؤٹ ‘‘ بنے رہے، جن کے سر پر (واقفان حال کے مطابق) پارٹی کے چیئرمین عمران خان اور وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان کا ’’دست شفقت‘‘تھا مگر آخر کار وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور چیف سیکرٹری کو تبدیل کرکے ہی دم لیا۔ تبدیلی کے اس عمل میں صوبائی حکومت نے چند مہینے اقتدار میں شریک اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے اتحاد کو بھی ’’تبدیل‘‘ کرکے ان سے راستے الگ کرلیے۔ تاکہ صوبہ میں ’’تبدیلی‘‘ کی فضا برقرار رہ سکے، مگر عوام ہیں کہ پھر بھی صوبائی حکومت کی تبدیلی سے مطمئن نہیں۔ اس وجہ سے حکومت نے ایک مرتبہ پھر ’’تبدیلی‘‘ اور ’’تبادلوں‘‘کا سفر جاری رکھنے اور عوام کو مطمئن کرنے کی خاطر ’’اپنی ہی جماعت (پی ٹی آئی) کے وزراء کی وزارتوں کو ’’تبدیل‘‘ کرکے مخالف جماعتوں کی تنقید کا بھی سامنا کیا۔ مگر’’تبدیلی‘‘ کے نعرے پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ اس طرح وزیر اعلیٰ کے معاونین خصوصی اور مشیروں میں بھی کئی مرتبہ ’’تبدیلی‘‘کے تجربات کیے گئے اور اپنے نعرے کو’’عملی جامہ‘‘ پہنانے کی کوشش کرتے رہے، مگر اپوزیشن اور عوام پھر بھی اس ’’تبدیلی‘‘ کو نظر انداز کرکے پی ٹی آئی کو اپنے نعرے سے روگردانی کے طعنے دینے سے باز نہیں آتے۔ چیف سیکرٹری کے تبادلہ کے علاوہ تقریباً تمام سرکاری محکوں میں اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے ’’حاسد مخالفین‘‘ نے پی ٹی آئی حکومت کو ’’تبدیلی‘‘ کے بجائے ’’تبادلوں‘‘ کی حکومت قرار دیا، مگر مسند اقتدار نے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی۔ تبدیلی اور تبادلوں کے اس چکر میں ایک پولیس آفیسر نے تو ایک ہفتے میں مسلسل کئی مرتبہ تبادلوں سے تنگ آکر اپنے بکس، بسترہ اور دیگر ضروری اشیاء سے بھی چٹکارا حاصل کرکے کپڑے کے ایک پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال دیے۔ تاکہ تبادلے کے وقت انھیں سامان کی منتقلی میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ نے صوبائی حکومت کے تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہوکر تاریخ میں پہلی مرتبہ ملاکنڈ میں بہ یک جنبش قلم تین سو سے زیادہ لیویز اہل کاروں کے تبادلوں کے احکام جاری کر دیے جس سے ’’تبدیلی‘‘ اور ’’تبادلے‘‘ کے نعروں کو مزید تقویت ملی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں اس میں بیش تر پی ٹی آئی ہی کے کارکنوں اور قائدین کی مداخلت پر اپنی جگہ بحال کیا گیا، مگر عوام ناشکرے ہیں کہ ہمیشہ اپوزیشن کی باتوں میں آکر اس تبد یلی کو تسلیم کرنے کے بجائے پھر بھی تبدیلی تبدیلی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے تبدیلی ہی کی خاطرتو ممبران اسمبلی اور وزراء کی تن خواہوں اور مراعات میں بجٹ سے پہلے اضافہ کیا، تاکہ ان کے ممبران اسمبلی اور وزراء خود بھی ’’تبدیلی‘‘ سے مستفید ہوسکیں۔
1,004 total views, no views today


