سوات ، یونیورسٹی آف سوات میں ڈینگی سے بچاؤ اور علاج کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کے سپیکرخیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف بیسک میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد تھے۔ جنہوں نے ڈینگی کے حوالے سے تفصیلی لیکچر دیااورکہا کہ کہ ملیریا کے بعد ڈینگی دوسری بڑی بیماری ہے جو انسانوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے ڈینگی بیماری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کس طرح ڈینگی بیماری انسان کو لگ جاتی ہیں۔
انہو ں نے سیمینار کے شرکاء کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ بچوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور جوہڑ اور کھڑے پانی سے دور رہیں کیونکہ ڈینگی بیماری اس سے لاحق ہو تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباہر سال دنیا میں50ملین لوگ ڈینگی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ڈینگی بیمار ی قابل علاج مرض ہے بشرطیکہ ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اورتالاب، جوہڑ، گھریلو استعمال کے پانی کے برتن وغیرہ کا خاص خیال رکھیں۔سیمینار سے وائس چانسلر پروفیسر محمد جہانزیب خان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ یہ ہماری مشتر کہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ڈینگی بیما ری کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں تاکہ اس بیماری سے ہم اپنے ماحول کو محفوظ رکھ سکیں۔ سیمینار سے اسسٹنٹ کمیشنر سوات اشفاق احمد نے بھی ڈینگی بیماری کے حوالے انپے خیالات کا اظہارکیا۔
499 total views, no views today


