تحریر امجد علی سحاب
تاریخی کتب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ سوات میں پختونوں کی آمد سلطان محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ ہوئی۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ محمود غزنوی خود سوات نہیں آئے تھے بلکہ اس کی فوج آئی تھی۔ اس وقت جو لوگ آئے تھے انہیں مختلف نام دئیے گئے ہیں جیسا کہ سواتیان، دہگان وغیرہ۔ باقاعدہ طور پر یوسف زئی پختون سولہویں صدی کے دوسرے عشرے میں سوات آئے ہیں۔ یوسف زئی قوم سے پہلے یہاں جو سواتی قوم آباد تھی، ان کے اپنے حکمران تھے، جنہیں جانگیری سلاطین یا جہانگیری بادشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں زبان کے حوالہ سے ذکر’’تواریخِ حافظِ رحمت خانی‘‘ میں کچھ اس انداز سے ملتا ہے:’’در آن وقت سلاطینِ سوات وغیرہ مردم جہانگیر یہ زبانِ گبری می گفتند و رعایائے سوات زبان یادری می گفتند و در آن وقت اہلِ سوات باہمی دو زبان تکلم می کردند۔‘‘ یعنی یوسف زئیوں کی آمد سے قبل سوات میں جو لوگ رہائش پذیر تھے، ان کے حکمران گبری زبان بولا کرتے تھے جبکہ رعایا دری یعنی فارسی زبان بولا کرتی تھی (کتاب میں ’’یادری‘‘ زبان لکھا گیا ہے جبکہ کتاب کے مدیر اسے ’’دری؍ فارسی‘‘ بیان کرتے ہیں)۔ اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت اہلِ سوات دو زبانیں بولا کرتے تھے۔ ایک دری(فارسی) اور دوسری گبری۔
اب اس بحث کو آگے بڑھاتے ہیں کہ اگر یہ لوگ پختون تھے، تو یہ فارسی زبان میں کیسے بات کرتے تھے؟ بعض محققین جنہوں نے اس دور کی نسلیات پر کام کیا ہے۔ ان کے بقول جو لوگ سلطان محمود غزنوی کی فوج کا حصہ تھے اور سوات آئے تھے، ان میں پختون نہیں تھے۔ اگر ہوتے، تو لکھی گئی تاریخ میں پشتو کا ذکر ضرور آتا۔

مذکورہ تاریخی کتاب ’’تواریخِ حافظِ رحمت خانی‘‘ میں ایک اور جگہ رقم ہے: ’’سلطان اویس (اس وقت سوات کا حکمران) کی فوج کا سپہ سالار میرہندہ تھا۔ جب یوسف زئی اور سلطان اویس کی فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا، تو جب کر یم داد ابن عثمان الیاس زی ابازی نے میر ہندہ کو سلطان اویس کی صف میں دیکھا، تو اسے فارسی زبان میں آواز دی: ’’اے میر ہندہ! اگر مرد ہستی و خیال جنگ داری بیا کہ من حاضرم۔‘‘ اب وہ آدمی جو فارسی میں میر ہندہ کو آواز دے رہا ہے،وہ پختون ہے، لیکن مدمقابل کے ساتھ فارسی بول رہاہے۔ آگے لکھا گیا ہے: ’’و درآن وقت مردم یوسف زئی از کابل تازہ آمد بودند، فارسی خوب می گفتند۔‘‘ یعنی اس وقت یوسف زئیوں کی کابل سے تازہ آمد ہوئی تھی۔ اس لیے وہ فارسی میں آسانی اور روانی کے ساتھ بات کرسکتے تھے۔ اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یوسف زئیوں کی آمد سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے فارسی استعمال کی ہے یا دوسری زبان؟ محمود غزنوی کے ساتھ جو افغان قبیلے یہاں آئے تھے، ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ نسلاً پختون تھے کہ نہیں۔ محققین کی اس طویل بحث اور دیگر شواہد سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہیہ لوگ نسلاً پختون تھے یا نہیں مگر پختو زبان بولتے تھے۔

اب یہ سوال کہ سوات کی مٹی پر پختو زبان کی پہلی تحریک کیسے اٹھی؟ تو اس حوالہ سے عرض ہے کہ ایک عام تاثر یہ ہے کہ قوم پرستی یا پختو زبان کیلئے پہلا قدم پیرروخان (بایزید انصاری) نے اٹھایا ہے۔ اس حوالہ سے کئی لوگوں نے دفتر کے دفتر سیاہ کئے ہیں۔ ایک کتاب’’ د پیر روخانہ تر باچا خانہ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، مگر جب ہم ’’مخزن‘‘ اور ’’ خیرالبیان‘‘ کے متن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پیرروخان سے اخوند درویزہ بڑے قام پرست ہیں اور انہوں نے پختو زبان کے حوالہ سے زیادہ بات کی ہے۔
اب یہ سوال کہ سوات کی مٹی پر پختو زبان کی پہلی تحریک کیسے اٹھی؟ تو اس حوالہ سے عرض ہے کہ ایک عام تاثر یہ ہے کہ قوم پرستی یا پختو زبان کیلئے پہلا قدم پیرروخان (بایزید انصاری) نے اٹھایا ہے۔ اس حوالہ سے کئی لوگوں نے دفتر کے دفتر سیاہ کئے ہیں۔ ایک کتاب’’ د پیر روخانہ تر باچا خانہ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، مگر جب ہم ’’مخزن‘‘ اور ’’ خیرالبیان‘‘ کے متن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پیرروخان سے اخوند درویزہ بڑے قام پرست ہیں اور انہوں نے پختو زبان کے حوالہ سے زیادہ بات کی ہے۔
8,121 total views, no views today



