تقریباً تمام زبانوں کے شاعر و ادیب اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی شعر کو اس کی ایک معنیٰ اور مقصد تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے مختلف واقعات اور حالات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شعراء کو اپنے اشعار کی خود تشریح کرنے سے منع کیا گیا ہے اور وہ خود بھی اپنے شعر کی تشریح سے گریز کرتے ہیں کیونکہ شاعر نے اگرخود اپنے کسی شعر کی تشریح یاوضاحت کرلی تو پھر شعر سے وہی ایک مقصد اخذ کیا جائیگا پشتو ، اردو اور فارسی کے بہت سے اشعار ہیں جو کہ مختلف حوالوں مشہور ہوکر زبان زدعام بن چکے ہیں اور انہیں مختلف مواقعوں پر استعمال کیا جاتا ہے ادبی ذوق رکھنے والے وکلاء ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران اشعار کا حوالہ دیتے ہیں ، علماء کرام درس و تدریس اورخطبات کے موقع پر اشعار سناتے ہیں ، سیاستدان سیاسی جلسوں اور اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر موقع کی مناسبت سے اشعار کا سہارا لیتے ہیں ثالث اور مصالحت کار صلح اورمصلحت کے دوراناشعار دھراتے ہیں ،کالج یونیورسٹیوں میں تقریری مقابلوں کے دوران اشعار کے حوالوں سے مقرر اپنےء تقریری کو منفرد بنانے کی جستجو میں رہتاہے الغرض زندگی کا کوئی ایسا موڑ نہیں کہ اس میں اشعار کی مداخلت نہ ہوہمارے ہاں تو فوتگی کے دوران بھی خواتین روتے ہوئے شعر گوئی کرتی ہیں جسے پشتو میں ’’ساندے‘‘ اور اردو میں ’’نوحہ ‘‘ کہتے ہیں مگر بعض اوقات شعراء کرام ایسے ایسے شعر تخلیق کرتے ہیں یا ان سے سرزد ہوجاتے ہیں کہ تخلیق کار کو خود بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی شعر میں کتنا زورہے اوراس کے اندر کتنے معنیٰ اورمقاصد پوشیدہ رکھیں ہوئے ہوتے ہیں اردو کی اس مشہور و معروف شعر کو ہی لیجئے
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیؤ
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
شاعر نے جس وقت یہ شعر تخلیق کیا تھا یقینااس دورکے اساتذہ شعراء نے اس شعر کو’’ ابہام‘‘ کا ایک خوبصورت انداز قرار دیا ہوگا اس شعر کی تخلیق کار کا نام تو مجھے معلوم نہیں مگر اس شعر کے منظر عام پر انے کے بعد یہ بحث ضرور چڑھ گئی ہوگی کہ مگس(شہد کی مکھی ) کا پروانے کے خون سے کیا تعلق ہے؟ مگس تو باغات میں پھلوں اور پھولوں سے رس چوستے ہیں اور پھر اسی رس سے شہدبنا کر ہم اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں مگر مزید تشریع سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ شہد کی چھتے سے تو شہد کو نکل کرجو حصہ (چلکا )باقی رہ جاتا ہے اس سے موم بن کر موم بتی (شمع )تیار کی جاتی ہے اور پھر شمع روشن ہونے سے ہزاروں لاکھوں پروانے اس کے ارد گرد جمع ہوکر جل جاتے ہیں جس سے کسی کو اختلاف نہیں اس وجہ سے شاعر کو ان کی دوراندیشی پر بھی بے حد داد ملی ہوگی۔ کچھ وقت کیلئے تو ادب سے وابستہ لوگوں کیلئے اس شعر نے باقاعدہ ایک پہیلی کی شکل اختیار کرلی تھی ہمارے طرح کم علم اور بے ذوق لوگوں کیلئے تو اس شعر سے معنیٰ نکالنا ہی کافی مشکل رہا۔ مگر پھر بھی ہم اس شعر کے خالق کو اب بھی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ انہوں نے اپنے اس ایک شعر میں لوگوں کو بیدار کرنے کیلئے کس قدر خوبصورت انداز اختیار کرکے اس دعویٰ کو حقیقت میں تبدیل کیا ہے کہ ’’شاعر قوم کی زبان ، آنکھ اور کان‘‘ ہوتے ہے اس شعر ؛فظوں کے انتخاب اور اس کو پرونے سے وہی وہی مقولہ پر عمل کیا گیا ہے ’’ کہ سانپ بھی مریں اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹیں ‘‘جس طرح کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ شعر کو کسی ایک مقصد یا واقعہ تک محدو د نہیں کیا جاسکتا اس وجہ سے مجھے یہ شعر موجودہ حالات میں بہت زیادہ مقامات اور واقعات دیکھ کر یاد آتا ہے برصغیر میں انگریزوں کے تجارت کی غرض سے داخل ہونے کے وقت اگر اس شعر پر عمل درامد کیا جاتا اور’’ مگس ‘‘کو باغ میں داخل ہونے سے روک دیاجاتا تو برطانیہ کی حکمرانی میں ’’سورج کی نہ ڈوبنے والی سلطنت ‘‘کی وسعت کی ریکارڈ قائم نہ ہوتی ۔ اب ہمارے اس دور میں جب غیر ملکی این جی اوز ہمارے ملک میں ہماری’’ خدمت ‘‘کے نام پر ہمارے گلی کوچے پختہ کررہے ہیں ،ہمیں پانی، بجلی سمیت صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کروڑوں اربوں روپے خرچ کرواتے ہیں ہمیں ہمارے حقوق اور فرائض سے اگاہ کرنے کیلئے پمپلٹس اور کتابچے تقسیم کروارہے ہیں ’’شعور و اگہی ‘‘ کے نام پر ہمیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں ٹریننگز دیتے ہیں مختلف قسم کے سیمنارز اور ورکشاپس منعقد کروارہے ہیں،ہمارے خواتین کی حقوق اور تحفظ کیلئے الگ سطح پر بڑے بڑے ادارے چلارہے ہیں میاں بیوی کے درمیان ’’تنازعات ‘‘کو ختم کرنے کیلئے ’’خواتین ‘‘کو مفت قانونی امداد اور تحفظ فراہم کرتی ہیں روزگار کے مسلہ پر ’’قابو ‘‘پانے کی خاطر ان اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں کو ’’روزگار ‘‘ دیکر بڑی بڑی تنخواہوں ادا کرتی ہیں انہیں اندرون ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں ’’تربیت ‘‘کیلئے بھیجتے ہیں ،خواتین کو ’’ہنر مند ‘‘بنانے کی خاطر دستکاری سنٹروں میں سلائی کڑاہی کا کام سیکھادئیے جاتے ہیں ابتداء میں تو یہ ’’غیر سرکاری ادارے‘‘ ملک کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں آپنی مدد اپ کے تحت قائم سماجی اور فلاحی تنظیموں کے ساتھ ملکر ’’فریضہ ‘‘ سرانجام دے کر ان کے ذریعے ان شہروں اور دیہات کے مسائل و مشکلات کے بارے میں سروے کرتی رہی جس کی بدولت اب وہ ہمارے ملک کی تمام ابادی ،چھوٹے بڑوں کی اعداد و شمار کے ساتھ بھیڑ بکریوں، مرغیوں ، اثاثوں، تعلیم، روزگار، امدن، اخراجات ، بیماریوں ، تنازعات وغیرہ کے بارے میں معلومات اکٹھے کرتے رہیں مگر اب تو بعض این جی اوز سرکاری اداروں میں بھی سہولیات کی فراہمی اور تربیت دینے کے خاطر’’ گھس‘‘ چکے ہیں ۔جن میں صحت ، تعلیم، پولیس وغیرہ شامل ہے سرکاری اداروں میں ’’این جی اوز کی گھسنے ‘‘پر ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر سرکاری اداروں کی ضروریات اور ٹریننگ بھی غیر سرکاری تنظیموں سے حاصل کئے جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت ہر سال غیر ترقیاتی اخراجات کے نام پر صوبائی اور مرکزی سطح پر بجٹ میں اتنی خطیر فنڈ کیوں مختص کرتی ہیں ؟ اگر حکومت اپنے اداروں میں کام کرنے والوں کیلئے خود تربیت کا اہتمام نہیں کرسکتی تو پھر ان اداروں کی قیام کی ضرورت کیا ہے ؟ اگر حکومت اداروں کو سہولیات فراہم نہیں کرسکتی تو پھر ان اداروں کو بندکیوں نہیں کرتے ؟ کیا ہمارا تعلیمی سسٹم اتنا خراب ہے ؟ کہ اسے سہولیات اور تربیت دینے کیلئے ہم اس میں غیر سرکاری تنظیموں (جو کہ بیرونی ممالک فنڈز پر چلتے ہیں) کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں ؟ کیا ہمارا صحت کا نظام اس قدر بگڑ چکا ہے ؟کہ اسے درست کرانے کیلئے ہمیں این جی اوز کے حوالے کیا جانا پڑا ؟اور کیا ہمارے پولیس اس قدر ’’بدمست ‘‘ ہوچکے ہیں کہ انہیں رویہ میں تبدیلی لانے اور قانون سے اگاہی اور اس پر عمل درامد کیلئے این جی اوز کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے ؟ اور یا حکمرانوں کو معلوم نہیں ہے کہ این جی اوز نے اب ہمارے سرکاری اداروں کے ساتھ بھی ایم او یوز سائن کی ہے ؟یا اس میں صرف ڈویژنل یا ضلعی سطح پر افسران شامل ہے ؟ این جی اوز کی ہماری سماجی ، سیاسی، اور سرکاری اداروں میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر مجھے یہ شعر یاد اتا ہے کہ
مگس کو باغ میں جانے دیجئیو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
3,343 total views, no views today


