قارئین کرام! یوں تو میں سوات کا باسی ہوں مگر جس کرب سے آج شمالی وزیرستان کے باسی گزر رہے ہیں، اس سے میں کب کا گزر چکا ہوں۔ ان یادوں کا آج وزیرستان سے تقابلی جائزہ لے رہا ہوں۔
یہ دن کے ٹھیک گیارہ بجے کا وقت تھا۔ گاؤں کے ایک ممبر صاحب نے اعلان کیا کہ آپ لوگوں کے پاس صرف تین گھنٹے ہیں۔ تین گھنٹوں کے اندر اندر گاؤں خالی کردیں۔ آپریشن شروع ہونے کو ہے۔ میں نے تیزی سے بازار کا رخ کیا۔ تاکہ صورت حال کا ٹھیک طریقے سے جائزہ لے سکوں، مگر بازار پہنچتے ہی ایسا لگا جیسے آرمی نے سخت کرفیو نافذ کر دیا ہو۔ کیوں کہ وہاں کوئی دکان کھلی نظر آئی اور نہ خریدار ہی نظر آیا۔ لوگ پریشانی کے عالم میں دیر کے بارڈر کی طرف رواں دواں تھے۔ کچھ لوگ اپنے بزرگ والدین کو کاندھوں پر اور کچھ وہیل چیئرز میں بٹھا کر لے جا رہے تھے۔ قیامت صغریٰ بپا تھی۔ وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب ایک خاتون چیخ چیخ کر رو رہی تھی کہ مجھے میرا بیٹا نہیں مل رہا۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلا تھا، لیکن ابھی تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ کوشش بسیار کے باوجود نہ بھولنے والا واقعہ کہ جب ہم دیر بارڈر (گھوڑاگٹ) کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک دوشیزہ، بوڑھے سسر اور ساس کے ہم راہ روڈ کے درمیان کانپتے ہوئے ہاتھوں میں کھلا قرآن پاک لیے ہوئے ہماری چلتی گاڑی کی طرف لپکے۔ اس وقت میرے پاس اسکول وین تھی، جس میں، مَیں اپنے خاندان کے ہم راہ ’’لویر دیر‘‘ کی طرف محو سفر تھا۔ گاڑی روکی، تو دوشیزہ سہمے ہوئے بچے کی طرح اندر لپکی اور زور زور سے قرآن مجید پڑھنے لگی۔ جیسے ہی دیر بارڈر پہنچے، تو دیر کے غیور عوام ہاتھوں میں تیار چاول کے تھیلے پکڑا کر کہتے رہے کہ ’’مسافرو! کھانا کھالو۔‘‘ پورے خاندان سمیت اپنی لاچارگی پر میری بھی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے ۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
آج شمالی وزیرستان کے باسی میرے ان دکھ بھری یادوں کو تازہ کر رہے ہیں۔ رمضان کی آمد آمد ہے۔ اوپر سے بلا کی گرمی اور اپنے عزیزوں اور مال مویشوں کو چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف روانگی۔۔۔ نہ واپسی کا پتہ نہ منزل کی خبر،ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ مسلمان فلسطین کا ہو، کشمیر کا ہو، بوسنیا کا ہو، خواہ وہ ہر جگہ کا ہو، سب کی مثال ایک جسم کے مختلف اعضاء کی سی ہے۔ جب ایک عضو میں درد ہو، تو پورا جسم تکلیف میں ہوتا ہے، لیکن یہ کیا ہے؟؟؟ ہمارے دیگر صوبوں نے تو ان بے بس لوگوں پر اپنے دروازے بند کر دیے ہیں۔ کیا ہم واقعی بے حس ہو چکے ہیں؟ کیا ہمارے ضمیر مر چکے ہیں؟ ہو سکتا ہے ان بے چاروں کے رشتہ دار سندھ، بلوچستان یا پنجاب میں آباد ہوں اور ان کو وہاں سر چھپانے کی جگہ ملے۔ جاتے جاتے میری حکومت سے اپیل ہے کہ اس کٹھن وقت میں ان بے سہارا قبائل کو سہارا دینے کی کچھ سبیل کریں، کہ یہی لوگ ہیں جو ملک و قوم کی حفاظت کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
702 total views, no views today


