پچھلے دنوں ’’نرگسیت‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر زیب نظر ہوئی جو کہ افضل شاہ صاحب کی کاوش تھی۔ اچھی تھی، فکر انگیز بھی تھی۔ نہ جانے پشتو کا مطلب غیرت کس طرح پڑ گیا؟ اب اگر پڑ بھی گیا ہے، تو ایسی قوم جو پشتو سے تعلق رکھتی ہے، تھوڑی بہت جذباتی تو ہوگی۔ جی نہیں میں ان کی غیرت یا غصے کو ہوا ہر گز نہیں دے رہا۔ کیوں کہ میں خود بھی انھیں میں سے ہوں۔ اور یہ فطری رد عمل ہے، فطرت کو بدلنے میں وقت تو لگے گا ہی۔ جہاں تک نرگسیت کی بات ہے، تو یہ جذبہ ہر کسی میں موجود رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اس جذبے کو قابو میں رکھنے کا ہنر جانتا ہے اور کوئی اس جذبے سمیت بے قابو ہوکر خود کو کچھ سمجھنے لگتا ہے اور یہی اُس کی بھول ہوتی ہے۔ اپنی قدر کرنا بھی ضروری ہے، مگر اتنی بھی نہیں کہ ارد گرد کے انسانوں کو روند کر راستہ بنایا جائے۔
نرگسیت کے ساتھ ساتھ عصبیت کا جذبہ بھی کار فرما رہتا ہے۔ یہ دونوں جذبے اچھے ہیں مگر اعتدال ضروری ہے۔ جب یہ جذبے حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو بہت برے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی عمل میں جب مقررہ حد ختم ہو جائے، تو یہی ’’بے حدی‘‘ دیوار سے لگادینے میں ممد ثابت ہوسکتی ہے۔
خود پسندی یا نرگسیت میں غرور کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے اور جب غرور سر چڑھ کر بولنے لگے، تو رعونت سے انسان ڈولنے لگتا ہے۔ ایک ڈولتا اور لڑکھڑاتا ہوا فرد بھلا کون سا کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے۔ سوائے غیرت ناہید کے۔
اب اگر کارناموں کی بات کی جائے، تو یکسر یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں کہ پختون قوم کا کوئی کارنامہ ہی نہیں ہے سوائے جنگ و جدل کے، تو کسی کو اس قدر نمونہ بنا کر نہیں پیش کرنا چاہیے۔ بے شمار اچھی شخصیت کے مالک لوگ اس قوم نے پیدا کیے ہیں اور اب بھی بڑے قد آور پختون موجود ہیں، جن میں خود افضل شاہ صاحب کا شمار بھی ہوتا ہے، جو کہ قوم کے لیے اپنے سینے میں محبت اور درد رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’قد آور بونے‘‘ بھی معاشرے میں موجود ہیں جو خود غرضی میں اپنی مثال آپ ہیں،مگر اس کے باوجود ہمیں ان کے روشن پہلو سے بھی صرف نگاہ نہیں کرنا چاہیے، ورنہ یہ نا انصافی ہوگی۔ کیوں کہ اس قسم کے لوگ تنگ نظری کی وجہ سے قابل رحم ہوتے ہیں۔ انھیں معاف کردینا چاہیے۔
قد آور بونوں میں ایک یہ عادت بھی بڑی مقدار میں موجود رہتی ہے کہ وہ کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ کسی کو ترقی کرتا ہوا دیکھ کر بونا یوں تلملانے لگتا ہے، جیسے خود اُس کا ذاتی گھر ٹوٹنے والا ہو۔ اُسے اپنے درو دیوار میں دراڑیں پڑتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوا کہ ان قد آور بونوں میں خسارے مند بھی بہ درجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ یہ بونے ترقی کی کوشش کرنے والوں کو بجائے سہارا دینے کے اُن کی راہوں میں رکاؤٹیں ڈالنے اور روڑے اٹکانے لگتے ہیں۔ نہ جانے اس طرح کی مذموم حرکت میں ان بونوں کو کون سا ثواب ملتا ہے؟؟؟
اگر معاشرے میں صرف چند ہی قد آور شخصیات ہوں اور اُن چند میں سے بھی کچھ ’’بونے‘‘ نکل پڑیں، تو بھلا بتائیے کہ پیچھے تقلید کرنے والی قوم کس راہ چلے گی؟ ہم اگر اسی طرح تقلید کرتے رہے، تو یقیناًخالی دامن ہی رہ جائیں۔
تقلید نہ کرے سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ نا فرمانی کا مرتکب ہوا جائے یا کسی کی غلطی و نادانی پہ محاذ کھول کر بیٹھ جائیں۔ کرنا صرف اتنا ہے کہ کسی بھی ’’قد آور بونے‘‘ کی بے جا خوشامد، اُس کے غرور کے سامنے سر نہ جھکانے اُس کے باطل نظریات کو مدلل انداز سے رد کرنا اور اپنی راہ کا خود تعین کرنا ہم خود پر لازم کرلیں۔
یہ ایک تہذیب یافتہ معاشرہ ہے۔ اس کی تہذیب اور اس کے تمدن کو برقرار رکھنا ہمارا فرض ہے۔ اگر کوئی اپنی ادھوری علمیت اور لوگوں کی لا علمی کو سہارا بنا کر ’’اندھوں میں کانا راجہ‘‘ بننے کی کوشش کرے، تو اسے یہ اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ علم برائے علم اور تنقید برائے اصلاح کا رواج ڈالنا ضروری ہے۔ علم و ادب کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں ملی درد اور آپس میں اتحاد و اتفاق ہی ہمیں اقوام عالم میں سرخرو کرسکتے ہیں۔
ایک پختون قبیلے پہ ہی موقوف نہیں بلکہ پوری مسلمان قوم کے لیے باہمی اتفاق سے بڑھ کر مفید عمل نہیں ہے۔ کیوں کہ یہی اتفاق و اتحاد ہی اسے نئی زندگی دے گا۔ جذبہ ہم دردی، ایک دوسرے کی خیر خواہی اور ہاتھ پکڑ کر کسی کو کامیابی کے راستے پہ گامزن کراتے رہنا ہی باعث بقا ہے۔
اس طرح افرادی قوت بھی بہت ضروری ہے۔ خواہ وہ قبائلی شکل میں ہو یا قومی شکل میں، مگر اس کے لیے با ہم اتفاق اور اور محبت ضروری ہے۔ اگر کسی قبیلے یا کسی قوم کے افراد زیادہ تعداد میں باہم متفق ہوں، تو وہ کئی قسم کی مصیبتوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ لوگوں کو لاشعوری اور شعوری طور پہ یہ احساس ہوتا ہے کہ زیادہ چھیڑ چھاڑ ٹھیک نہیں کئی پریشانیاں واقع ہونے سے قبل دم توڑدیتی ہیں۔ کئی آنے والی سازشیں، آتے آتے راستے ہی میں راستہ بدل جاتی ہیں۔ ایسے معاشرے جو افرادی قوت میں باہم اتحاد و اتفاق کی خو رکھتے ہوں وہ معاشی طور پہ بھی مستحکم ہوتے ہیں۔
اپنے ساتھ ساتھ معاشرے میں رہنے والے دیگر افراد کا خیال بھی رکھنا ضروری ہے۔ ہر قسم کے علوم سے اپنے دل و دماغ کو منور کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ خداداد صلاحیتوں کے باوجود ناکام و نامراد رہتے ہیں۔ وہ منزل تک نہیں پہنچ پاتے، مثلاً اگر کسی کو ڈاکٹر یا وکیل بننے کی خواہش ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ اُس میں صلاحیت بھی موجود ہے۔ وہ محنت اور تگ و دو کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، مگر پھر بھی ناکام ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاشی طور پہ اتنا مضبوط نہیں ہے کہ منزل کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ سکے۔ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے سے محروم رہتا ہے۔ اُس کے پاس پڑھنے لکھنے کے لیے داخلے اور فیس کی طاقت نہیں ہوتی، تو بھلا وہ کس طرح اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ اگر کہیں ملازمت کرتا ہے، تو اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ پڑھائی کو وقت اور دھیان دے سکے۔ کیوں کہ دس بارہ ہزار کمانے کے لیے اسے بارہ سے چودہ گھنٹے محنت کرنی پڑے گی۔ ورنہ نہ تو وہ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی گھریلو ضروریات پوری کرسکتا ہے جو کہ اُس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو معاشرے اور علاقے میں بہت سے ایسے مخیر اور قابل استعداد لوگ موجود ہوں گے کہ جو اگر چاہیں، تو مل جل کر مستحقین کو تلاش کرکے انھیں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔ مستحقین خداداد صلاحیت رکھنے والے افراد کو اُن کے شوق کے مطابق زیور علم سے نواز سکتے ہیں، مگر وہ ایسا کیوں کریں گے؟ کسی کو زیورِ تعلیم سے مزین کرنے سے انھیں کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ بات جب فائدے اور نقصان کی ذہن میں آجاتی ہے، تو سارے کے سارے جذبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ کسی کی بلا وجہ امداد کرنا اور اسے بڑا آدمی بنانے میں سہارا فراہم کرنا ہر کسی کے بس کا کام تو نہیں ہے اور یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ وہ خداداد صلاحیت رکھنے والا یا علم سے محبت کرنے والا ان مخیر حضرات کی مدد قبول کرے۔ وہ تو بعد کی بات ہے۔ خیر مدد کرنا کوئی بری بات بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں مدد کرنے والوں کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ صلاحیتیں نہ تو زنگ آلود ہوں گی اور نہ ہی اپنی موت خود مریں گی۔ خرچ کیا گیا مال تو پھر بھی جمع ہوسکتا ہے، مگر انسان اور اُس کی صلاحیتیں وقت پہ اجاگر نہ ہوئیں، تو وہ ملک و قوم کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ امداد کرنے والوں میں اگرجذبہ ایثار و قربانی موجود ہے، تو مستحقین کے نام اکاؤنٹ کھلوا کر حسب توفیق مدد کرنے سے انھیں کوئی بھی نہیں روکے گا۔ بہ شرط یہ کہ مستحق کو یہ بات گوارا ہو۔ یاد رہے کہ جو اصل مستحق ہوتے ہیں، وہ دستِ سوال دراز نہیں کیا کرتے۔ بہ قول شاعر
کچھ اور مانگنا میرے مسلک میں کفر ہے
لا اپنا ہاتھ دے میرے دست سوال میں
بات قابلیت، کارناموں اور خوابیدہ صلاحیتوں کی ہورہی تھی، وسائل اور ماحول کی ہورہی تھی۔ جب یہ چیزیں موجود ہوں، تو پھر یقین اور توقع رکھنا چاہیے کہ پختون کسی بھی میدان میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ کبھی بھی عہدے، منصب، نام اور دولت پہ اترانا یا غرور کرنا سود مند ثابت نہیں ہوسکتا۔ غرور ایک نقصان دہ احساس ہے۔ یہ احساس انسان کو انسانوں سے کاٹ کر تنہا کردیتا ہے۔
کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارا شمار ’’قد آور بونوں‘‘ میں نہ ہو۔ لوگ ہمیں ’’قد آور بونا‘‘ کہنے پہ مجبور نہ ہوجائیں۔ ہم ’’ستارگان چاند‘‘ کو ’’ادبی ذوق‘‘ رکھنے پہ مبارک باد دیتے ہیں۔ خصوصاً جناب فضل ربی راہیؔ ، فضل مولا صاحب، غلام جیلانی صاحب، ناصر عالم صاحب، جیا احمد صاحبہ، امجد علی سحابؔ اور دیگر اہل علم و ادب وغیرہ۔
نوٹ: یوں تو قارئین سمجھ گئے ہوں گے مگر پھر بھی قد آوربونے کا مطلب بتانا فرض سمجھتے ہیں۔ اس سے مراد ’’ دنگ چیتکی‘‘ ہے۔ کالم میں ایک شعر بھی تحریر ہے، وہ میرا ذاتی شعر نہیں ہے جانے کس کا ہے۔
930 total views, no views today


