مینول:۔ مثال کے طورپر انسان کے ہاتھ سے بنی ہوئی ایک مشین کی شیرازہ بندی اُس مشین کے بنانے والا ہی بہتر بنا سکتا ہے، شیرازہ بندی اس معنی میں کہ اس کے تمام پرزے باہم ایک دوسرے سے ملے رہیں اور وہ مشین یکجا رہے۔ اس لیے ہر مشین کے ساتھ ایک مینول بک ہوتی ہے کہ اس مشین کو اس طرح چلایا جائے، تو یہ صحیح نتائج دے گی اوراس کو اس مینول کے مطابق نہ چلایا گیا، تو مطلوبہ نتائج نہ دے گی بلکہ جلدہی خراب ہو جائے گی اور نہیں چلے گی۔ تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ مشین کومینول کے مطابق چلانے والوں نے اس مشین سے بہترنتائج حاصل کیے اور جس نے اس مشین کو مینول کے مطابق نہیں چلایا وہ صحیح نتائج حاصل نہ کر سکے۔بس اللہ کی شیرازہ بندی کے مطابق انسان چلے گا،تو مثل مشین صحیح رہے گا۔
انسان:۔ اسی مثال کے مطابق آپ انسان کو ایک مشین تصور کریں اور پھر اس پر مزید غورکریں کہ اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے انسان کے بنانے والے یعنی اللہ تعالیٰ کے مینول کے مطابق کام کریں گے، تو بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں؟ ہر سمجھ دار انسان یہی کہے گا کہ بنانے والے کے مینول کے مطابق کام کریں گے، تو صحیح نتائج حاصل ہوں گے۔ سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کے معاملے میں وہ کیا چیزہے، جو اس کی مزید شیرازہ بندی کرے؟ وہ یہ ہے کہ انسان ایک ہستی کو ا پنا سب کچھ سمجھے یعنی اللہ اور اقرار کرے کہ سوائے رب کے کچھ نہیں، تویہ توحیدہے اور رسول ؐ اللہ کے پیغمبر اوربندے ہیں۔ پیغمبر ؐ کو اس طرح مانے کہ یہ مجھے اللہ سے ہدا یت لا کردینے والا ہے اور اس کے علاوہ کہیں سے بھی ہدایت نہیں مل سکتی، تویہ رسالت ہے۔ وقت کی پا بندی کا سبق سیکھنا صبر کی تربیت ہونا اور پانچ وقت اللہ کے بندہ ہونے کا احساس ہونااور اُن کو ایک دوسرے کے معاملات کابھی علم ہونا، تو یہ نماز ہے۔ اس کے بعد انسان کسی ایسے نظام پر عمل کرے کہ اس کے کمزور ساتھیوں کو اگرزندگی گزارنے کے لیے مادی وسائل کی ضرورت ہو، تو وہ مل سکیں، تو یہ زکوٰۃ ہے۔ اسی انسان کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ اللہ کے دین کوقائم کرنے میں بھوک پیاس برداشت کرنی پڑے اور یہ احساس تازہ رہے کہ تکلیف کے وقت انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے، تو اس کے لیے روزہ یعنی رمضان ہے۔ انسا ن بستی بستی، شہر شہر، ملک ملک، بر اعظم بر اعظم میں آباد ہوتا ہے اب ان سب انسانوں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے، ایک دوسرے کے حالات معلوم کرنے کے لیے کوئی ایسی جگہ ضرور ہونی چاہیے کہ وہاں سبجمع ہوں اور اللہ کے دین کو قائم کرنے کی تدبیر کریں، تو وہ حج ہے۔ مندرجہ بالا احکام پر عمل کر کے ہی انسان اللہ کا پسندیدہ بندہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے یہ عبادات فرض کر دی ہیں۔
کامیاب زندگی:۔ اب ذرا دِل پرہاتھ رکھ کر سوچیں کہ اس سے بہتر شیرازہ بندی کچھ اور ہو سکتی ہے یا یہی بہتر ہے جو ہمارے رب نے بنائی ہے۔ اسی میں اللہ کے حکم کی ادائیگی ہے، اسی میں رضائے الٰہی ہے، اسی میں فلاح آخرت ہے اور یہی اللہ کا منشاء ہے اور یہی کامیاب زندگی گزارنے کا اللہ کی طرف سے دیا ہوا مینول ہے۔ ہم نے اُوپر مشین کی مثال سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صحیح نتائج کے لیے ضروری ہے کہ مشین بنانے والے کے مینول پر عمل کیا جائے، تو صحیح نتائج ملیں گے۔ اسی نظم میں منضبط ہو کر اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جدوجہد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے راستے پر چل کر ہی صحیح نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے ا ور انسان سے انتہائی محبت کا اظہار ہے کہ اُس نے وہ تمام عبادات جس پر عمل کر کے انسان اپنا ہی فائدہ کرتا ہے، اللہ نے اس پر اپنی طرف سے انعام بھی رکھ دیاہے یعنی اللہ کی جنت۔ اگرتوحید، نبوت، نماز، زکوٰۃ، رمضان حج اور جہاد فی سبیل اللہ کے احکامات پرصحیح اللہ کے بتائے ہوئے اصو لوں کے مطابق عمل کرو گے، تو اس جہاں میں عزت وقار تو ملے گا ہی، دوسری زندگی میں جو اصل اور ابدی زندگی ہے یعنی جنت کے بھی حق دار ہو جاؤگے اور یہی اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے۔
فلسفہ:۔ اب مزید سوچیں کہ اس کے پیچھے فلسفہ کیا ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ کرۂ ارض پر، یعنی جہاں انسان آباد ہے وہاں اللہ کا حکم چلے، شیطان مردود کا حکم نہ چلے،خود ساختہ نظریات نہ چلیں، باپ دادا نے جو قاعدے بنائے ہوئے ہیں، جو غلط ہیں وہ نہ چلیں، انسان اپنی خوا ہشات پر جو کہ اکثر غلط ہوتی ہیں، عمل نہ کرے۔ جس دور کا بھی انسان ہو وہ سمجھ لے کہ اس سے قبل کے دور کے انسان نے جوغلطیاں کی ہیں، ان سے سبق حاصل کرے جو اس سے پہلے دور کے انسان نے شیطان کے کہنے پر غلط کام کیے ہیں، اُن سے بچے اور اللہ سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے یہ ہے فلسفہ۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی عبادات کے لیے ادارے قائم کیے ہیں، وہ دراصل انسان کو اللہ کے دین کو اس دنیا میں قائم کرنے کے دوران میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے ہیں اور اُن کو فرض کا درجہ بھی دے دیا ہے کہ یہ عبادات ہر حالت میں کرنی ہیں۔ یہ عبادات کریں گے، تو مسلمان ورنہ کافر۔
رکاوٹ:۔ بہت سے انسان جو اللہ کے اصل راستے سے ہٹ کر شیطان کے راستے پر چل پڑتے ہیں، وہ اس کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ وہ یہ اصل کام نہیں ہونے دیتے۔ ان لوگوں کی مزاحمت کرنے کے لیے اللہ نے اپنے بندوں پر یہ عبادات فرض کی ہیں۔ تا کہ جب مزاحمت کرنے والوں سے مقابلہ ہو، تو سخت جان بن جا ئیں اور ان برے لوگوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ وہ برے لوگ اِن کا راستہ روکیں گے، وہ ان کو ہرطرح سے نقصان پہچانے کی کوشش کریں گے، وہ قتل عام کریں گے اور شیطان کے کہنے پر ہر اس کام سے روکیں گے، جو اللہ نے اپنے نیک لوگوں کو کرنے کے لیے کہا ہے۔ اب ذرا غور کریں ایسے غلط لوگوں کا کمزور لوگ مقابلہ کر سکتے ہیں؟ یقیناًنہیں کر سکتے۔
جہاد فی سبیل اللہ:۔ لہٰذ ان نیک لوگوں کی تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادات کا نظا م قائم کیا ہے۔ اب مزید غور کرنے سے معلو م ہوتا ہے جو لوگ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں، وہ صرف نماز پڑھ کر، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر، سال میں ایک حج کر کے اور دل میں اللہ کے نظام کو قائم کرنے کاارادہ کر کے یعنی کلمہ توحید پڑھ کر اللہ کے دین کوقائم نہیں کر سکتے ہیں؟ تجر بہ یہ بتاتا ہے طاغو ت یہ کا م نہیں کرنے دے گا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جگہ جگہ رکاوٹ ڈالی جائے گی۔ ابلیس نے شروع ہی سے کہا تھا کہ میں انسان کو آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے ہر طرح سے گھیروں گا۔ شیطان اور اس کے چیلے نیک لوگوں کو نیک کام نہیں کرنے دیتے۔ شیطان برے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر اور برے انسان اپنی خو ا ہشات کے پیچھے چل کر نیک لوگوں کے راستے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ صرف عبادات کو ادا کر کے ان لوگوں کا مقابلہ نہیں ہو سکتا، اس کے لیے لوگوں کو جہاد کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔ ان برے لوگوں کے مقابلے کے لیے گھروں سے نکلنا پڑتا ہے اوراگر نیک لوگ صرف عبادات پر عمل کر کے چاہیں کہ اللہ کا نظام قائم ہو جائے اور اللہ کا منشاء پورا جائے، خلیفہ ہونے کا حق ادا ہو جائے تو یہ ممکن نہیں۔ ہاں اللہ چائے تو صرف اس کے حکم سے سب کچھ ہو سکتا ہے، مگریہ اس کی مشیت ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں سے یہ نظام قائم کرانا چاہتا ہے۔
اس ساری تربیت یعنی نماز، زکوٰۃ، رمضان، حج اور زبان سے توحید کا اقرار کرنے سے اجر تو ضرورملے گا، مگر یہ کام نہیں ہوگا۔ ان عبادات کے ساتھ ساتھ عملی جد وجہد کرنی پڑے گی۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ کرنا پڑے گا۔ اسی لیے انسان کو روزے کے ذریعے صائم کیا جاتا ہے جیسے عرب کے لوگ گھوڑوں کو صائم کیا کرتے تھے۔ تاکہ وہ ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہے۔
مسلمان کو بھی اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔
830 total views, no views today


