عام طور پر لوگوں کو رکشہ ڈرائیور سے اکثر شکائتیں ہوتی ہیں کہ یہ لوگ ٹریفک قواعد توڑتے رہتے ہیں۔ سڑک پر رواں دواں دوسری گاڑیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کی وجہ سے اکثر ٹریفک میں خلل پڑتی ہے۔ جہاں ٹریفک جام ہوتی ہے۔ رکشہ ڈرائیور اپنا رکشہ اُس میں نکال لے جاتا ہے۔ لوگوں کا یہ بھی عام خیال ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں میں بہت سے اجنبی ہوتے ہیں، جن کا کوئی اتا پتا نہیں چلتا کہ یہ کہاں کا رہنے و الا ہے اور سوات کی سڑکوں پر رکشہ کیوں چلاتا ہے؟ ایسے ڈرائیوروں کا اخلاقی معیار بھی پست ہوتا ہے۔
سواری سے منھ مانگا کرایہ وصول کرنا، دو تین باتیں سنانا اور چھوٹی سی بات پر جھگڑے پر اُترآنا ان کا معمول ہوتا ہے۔ ایسے ڈرائیوروں کی وجہ سے اکثر ٹریفک حادثات بھی رونما ہوتے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں یا سواری کے جسمانی اعضاء کو دائمی روگ لگ جاتا ہے۔ چوں کہ یہ ایسی شکائتیں ہیں جس سے عوام کے علاوہ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور خاص کر پولیس ٹریفک عملہ بھی آگاہ ہے، تو کیا ایسے رکشہ ڈرائیوروں کی اصلاح پولیس اور معاشرے کا فرض نہیں بنتا؟
میںیہ نہیں کہتا کہ سارے کے سارے ڈرائیور برے ہیں۔ ان میں اچھے بھی بہت ہوں گے، ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوں گے۔ ان میں کئی بڑے بزرگ بھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کمانے کی خاطر کبھی مشرق تو کبھی مغرب کی جانب رکشہ دوڑاتے ہیں۔ یہ ’’رکشہ ڈرائیوری‘‘ بھی عجیب شعبہ ہے۔ فجر کی اذان سے پہلے اٹھنا، رکشہ اسٹارٹ کرنا، جنرل بس اسٹینڈ مینگورہ کا رخ کرنا، و علیٰ ہذاالقیاس۔ انھیں پتا ہوتاہے کہ صبح لاہور، راولپنڈی سے پہلی گاڑی کب پہنچتی ہے؟ جنرل بس اسٹینڈ میں ابھی لاہور کی گاڑی رکی نہیں ہوگی کہ رکشہ ڈرائیور اسے اپنے نرغے میں لے لیتے ہیں۔ کئی رکشے کبھی آگے، کبھی پیچھے، سائیڈ بائے سائیڈ کھڑے ہوکر ہارن بجاتے ہیں، لیکن کرایہ اتنا زیادہ مانگتے ہیں کہ سواری نہایت مجبوری کے عالم میں اُس میں بیٹھ جاتی ہے۔ ہاں یہ رکشے والے بادشاہ لوگ ہیں۔ لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔
لیکن آج کی نشست میں، مَیں ایک رکشہ ڈرائیور کے اعلیٰ اخلاق کا ایک نمونہ پیش کرنے جا رہا ہوں جس کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ کوئی عبرت پکڑے اور ایک اچھا اور با اخلاق ڈرائیور ثابت ہوجائے۔ وہ واقعی ایک مثالی رکشہ ڈرائیور ہیں، جن کی وجہ سے میں نے رکشے ڈرائیور پر قلم اٹھایا ہے۔ اگر اب بھی ان کا ذکر نہ کروں گا، تو ہوسکتا ہے کہ میں بھی تحریر چوک میں کہیں پھنس جاؤں۔ ہاں تو عرض ہے کہ جس دن سی این جی نایاب تھی اور مرمت کی غرض سے اُس میں کام ہورہا تھا۔ عین اُس کے دوسرے دن صبح سویرے مجھے رکشے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ رکشہ ڈرائیور بہ مشکل اٹھارہ سال کا ہوگا۔ وہ نہایت احتیاط سے رکشہ چلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ مجھے سی این جی کے بارے میں بھی بتاتا جا رہا تھا کہ کس طرح بہ مشکل تین سو روپے کی سی این جی میں نے رکشے میں بھری اور وقت میرا کتنا ضائع ہوا۔ جب وہ اپنی یہ مشکل بیان کررہا تھا، تو میرے دل میں یہ خیال جا گزیں ہوا کہ ہو نہ ہو یہ مجھ سے معمول سے زیادہ کرایہ طلب کرے گا، لیکن یہ میری خام خیالی ثابت ہوئی۔ راستے میں ایک آدمی دنیا و مافیہا سے بے خبر سوچوں میں غرق کھڑا تھا۔ اسے یہ خیال ہی نہیں تھا کہ میری وجہ سے رکشے والا کھڑا ہے اور میں اُس کی راہ میں رکاؤٹ بنا ہوا ہوں۔ رکشہ ڈرائیور نے نہایت آہستہ اور ادب سے بزرگ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بزرگ آدمی سوچوں کی دنیا سے واپس ہوا اور رکشے کی ایک جانب چلا گیا۔ میں نے رکشہ ڈرائیور کا یہ اعلیٰ اخلاق دیکھا، تو نہایت متاثر ہوا کہ کہاں رکشے کا ایک معمولی ڈرائیور اور کہاں اتنا عمدہ اخلاق کہ ہارن دینا انھوں نے خلافِ ادب سمجھا اور راستہ لینے کے لیے اُس نے باقاعدہ طور پر درخواست کی۔ جب میں اپنی منزل مقصود پر پہنچا، تو میں نے ایک سرخ نوٹ اُن کے ہاتھ میں تھمایا۔ انھوں نے مجھے پچاس کا نوٹ واپس کردیا، یعنی میری توقع سے بھی کم پیسے انھوں نے لیے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں اگر رکشہ ڈرائیور اتنا با اخلاق ہوجائے اور اتنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، تو میں اس پہ کالم نہ لکھوں، تو اور کیا لکھوں؟ بات کم کرائے کی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کی ہے۔ کس طرح انھوں نے بزرگ آدمی پر ہارن نہ بجاکر ان سے درخواست کرکے راستہ لیا۔
920 total views, no views today


