گزشتہ دنوں بحرین میں جب وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام کافی عرصہ بعد کالام سڑک کی ’’تعمیر نو‘‘ کے افتتاح کے لیے برآمد ہوئے، تو سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے واحد منتخب شدہ پی کے پچاسی سے ممبر صوبائی اسمبلی سید جعفر شاہ نے اپنے کارکنوں سمیت بھر پور احتجاج کیا اور امیر مقام کے جلسے کے مقام سے چند گز کے فاصلے پر دھرنا دے کر راستہ روکا۔ کہتے ہیں دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ سید جعفر شاہ کا ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی دیا اور یوں پنجاب کی سیاست کا اثر بحرین میں دیکھا گیا۔ دونوں رہبروں کے کارکنوں میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بحرین کے معزیزن اور سرکاری انتظامیہ نے کسی طور ممکنہ تصادم کو روکا اور یوں دونوں لیڈران کے مقامی ورکروں نے ایک دوسرے کے سر نہیں پھوڑے۔ اگر چہ دونوں جانب سے ’’ڈنڈا بردار‘‘ کافی تعداد میں موجود تھے۔
دونوں رہنماؤں کے بیچ اس قضیے کی وجہ چکدرہ کالام سڑک کی تعمیر نو ہے۔ چکدرہ کالام روڈ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا وہ منصوبہ ہے جسے 2011ء کے اوائل میں قومی مقتدرہ برائے شاہرات (National Highway Authority) نے ایشین ڈولپمنٹ بینک کے ساتھ پاکستان کے لیے منظور شدہ منصوبے Flood Emergency Reconstruction Project کے اندر ایک معاہدہ کرکے کیا ہے۔ اس منصوبے کا نام N95: Chakdra Kalam Road Project رکھا گیا۔ چکدرہ تا کالام سڑک کی تعمیر نو کے لیے اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں چکدرہ تا مینگورہ، دوسرے میں مینگورہ تا فتح پور اور تیسرے حصے میں فتح پور تا کالام شامل ہیں۔ چوں کہ پوری سڑک میں سب سے زیادہ متاثر فتح پور تا کالام والا حصہ تھا، اس لیے اس پر کام کا آغاز سال 2013ء کے اوائل میں کیا گیا۔ اس سلسلے میں فتح پور تا کالام لوگوں سے زمینیں خرید کر بروقت ادائیگی بھی کی جاچکی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے جب 2012ء کے آخر میں بحرین آکراس منصوبے کے ماحولیاتی جائزہ کے لیے پبلک ہیرنگ کی، تو اپنی پرزینٹیشن میں بتایا کہ یہ سیکشن چھے حصوں جنھیں وہ packages کہتے ہیں، میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی فتح پور؍ مدین، مدین؍ بحرین، بحرین؍ چھم گھڑی، چھم گھڑی؍ اسریت، اسریت؍ پشمال اور پشمال؍ کالام۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق کل لاگت سات اعشاریہ دو ارب روپے تھی۔ جب 2013ء کے شروع میں اس سڑک پر کام شروع ہوا، تو علاقے کے لوگوں نے بے پناہ خوشی محسوس کی۔ کیوں کہ جس اذیت سے یہ لوگ گزرے ہیں، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کو وہ دن یاد تھے جب اس خطرناک سڑک پر سفر کرتے وقت خواتین کی گود سے بچے دریا میں گر جایا کرتے تھے اور آئے روز حادثات رونما ہوا کرتے تھے۔ سیلاب کے بعد مدین تا کالام سڑک کو پاک آرمی گرمیوں کے دنوں میں ہموار کیا کرتی تھی جب سیاحتی جنت ’’کالام‘‘ میں سوات سمر فیسٹول کی تقریبات ہوتی تھیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں شہری صرف شہروں میں بسنے والے اشرافیہ کو سمجھا جاتاہے۔ اس لیے صرف گرمیوں میں اس سڑک کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ سیاحوں کی چھوٹی گاڑیاں بھی گزر سکیں، ورنہ برف اور سردیوں کے موسم میں کون مقامی لوگوں کو پوچھتا ہے؟
خدا خدا کرکے سڑک پر کام شروع ہوا لیکن ابھی ایک حصہ بھی نہیں بنا تھاکہ بحرین تا کالام سڑک کی تعمیر کھٹائی میں پڑ گئی۔ صرف دو پیکیجز پر کام شروع ہوا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی بہانے بنانے لگی۔ کئی بار رابطے کرنے پر بھی انھوں نے کبھی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
فتح پور تا بحرین سڑک تقریباً بن چکی ہے، لیکن آگے کیا ہوگا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ این ایچ اے سے کسی نے نہیں پوچھا کہ آیا سات ارب کی ساری رقم اسی حصے پر خرچ کی گئی؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو یہ این ایچ اے کی نااہلی ہوگی کہ اس نے کس طرح کا منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ یا اگر اے ڈی بی نے رقم واپس کرلی تو بتایا جائے کیوں؟ ان باتوں کا جواب ہمارے یہ دونوں رہنما بھی نہیں دیتے۔
اب جاکر بحرین تا کالام سڑک کی’’بحالی‘‘ کے لیے اڑتالیس کروڑ مختص ہوئے ہیں، تو اس کام کا کریڈٹ لینے دونوں رہنما میدان میں اتر آئے ہیں۔ مگر کیا کسی نے سوچا بھی ہے کہ چھتیس کلومیٹر تباہ شدہ سڑک اس رقم میں کس طرح معیاری بنے گی؟ کیا ان رہنماؤں نے سوچا ہے کہ صرف سڑک کی چند مہینوں کے لیے بحالی اڑتالیس کروڑ کی خطیر رقم کا ضیاع نہیں؟ کیا ان لیڈران نے کبھی ناران کاغان اور مری کی سڑکوں کو نہیں دیکھا ہے؟ کیا ان کو وہ دن یاد نہیں جب یہ عوام سے ان گنت وعدے کر رہے تھے؟
بحرین میں گزشتہ دنوں دونوں کی تقاریر سے عیاں تھا کہ ان کا اصل ہدف اور منشاکیا ہے۔ سادہ لوح ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے سوا ان کی باتوں میں کوئی وزن نہیں تھا۔ ہر دو نے اپنی ’’شان دار‘‘ کارکردگی کے گن گائے۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب ایک وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر مشیر اور وزیر اعظم کے منھ بولے بھائی یہ کہتے پھریں کہ انھوں نے این ایچ اے کے ڈائریکٹر سے اتنی ملاقاتیں کیں۔ اتنے بڑے صاحب سے تو ہمیں یہ توقع ہونی چاہیے کہ وہ چکدرہ تا کالام ایکسپریس وے کی منظوری دے کر دیں۔
امیر مقام صاحب وزیراعظم کے مشیر خاص ہیں۔ انھوں نے سوات اور شانگلہ کے لوگوں سے کئی وعدے کیے تھے۔ کیا ان کو وہ وعدے یاد دلانا مناسب نہ ہوگا کہ جب وہ کہتے پھرتے تھے کہ وہ مدین تا کالام دریائے سوات کے دونوں کناروں پر ایکسپرس وے بنا کر اس علاقے کو ایک سیاحتی عجوبہ بنائیں گے؟ کیا وہ وزیر اعظم کو یاد نہیں دلا سکتے کہ سوات کوہستان کا علاقہ کسی جنت سے کم نہیں لیکن یہاں پس ماندگی، غربت، جہالت اور بے بسی نے ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں؟ کیا وہ نواز شریف حکومت کو باور نہیں کراسکتے کہ شہروں میں میٹرو بسیں اپنی جگہ لیکن ایک نظر ان جنت نظیر وادیوں کی بدحالی پر بھی۔
رہ گئے جناب جعفر شاہ صاحب، تو کیا ان سے یہ پوچھنا مناسب نہ ہوگا کہ اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور میں جب کہ ان کی پارٹی کی حکومت بھی تھی، اس نے اس سڑک کی بحالی کے لیے کیا کیا ہے؟ شاہ صاحب اب تو بڑے تیز لگتے ہیں جب اپوزیشن میں ہیں اور اب کوئی ان کی اتنی سنتا بھی نہیں لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اپنے اقتدار کے دوران میں چند لوگوں کو ٹھیکوں سے نوازنے اور بحرین میں ایک متنازعہ پن بجلی منصوبے کی دلالی کے سوا انھوں نے کیا کیا ہے؟ سوات کوہستان کی ان حسین وادیوں کے لیے شاہ صاحب نے چند افراد کو نوازنے کے علاوہ کیا کیا ہے؟ ہم اس زعم میں تھے کہ ہم نے ایک بہت ہی پڑھے لکھے اور ترقیاتی کاموں سے منسلک و آگاہ شخص کو اسمبلی میں پہنچایا ہے اور توقع تھی کہ وہ اپنے حلقے کو مثالی بنائیں گے مگر۔۔۔
شاہ صاحب کی مقبولیت کے حق میں اسی حلقے سے ان کی دوسری مرتبہ کامیابی کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اس حلقے میں جس کے پاس زیادہ رقم تھی، جس نے زیادہ رقم خرچ کی اور جو کمال مہارت سے حلقہ کے ان ووٹروں کو بسوں میں بھر بھر کر ووٹ ڈالنے لایا، جو موسمی یا مستقل نقل مکانی کرتے ہیں۔ دراصل یہ اقدام اٹھانے والے کی جیت ہوئی ہے۔ ہاں، آخر میں عمران خان صاحب سے بھی پوچھا جائے کہ آپ کی ’’تبدیلی‘‘ کا اثر اس علاقے میں کب آئے گا؟ کوئی عمران خان کو یاد دلائے کہ ان کی پارٹی اس صوبے میں اقتدار میں ہے اور یہاں کے لوگ تبدیلی کے منتظر ہیں۔
آخر میں بحرین اور کالام کے ’’زعماء‘‘ سے بھی پوچھا جائے کہ انھوں اس سڑک کی بات کس کس سے کی اور کہاں تک ان کی رسائی ہوئی؟ الیکشن کے وقت تو یہ معززین بڑا ’’ڈلے پرے‘‘ کا راگ الاپتے رہے، البتہ الیکشن کے بعد ان کی تگ و دو عوام کے لیے ہوتی ہے یا پھر اپنی ذات کے لیے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ خوب صورت علاقہ جسے سوات کوہستان بھی کہا جاتا ہے، صدیوں سے ہی نظر انداز ہوتا چلا آرہا ہے۔ حکم رانوں کی نظریں یہاں کی وافر قدرتی وسائل خصوصاً جنگلات پر ہوتی ہیں اور اس کے لیے یہ مقامی زعماء تک کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ علاقہ دیوار سے لگایا ہوا marginalized اور disavantaged ہے۔ عام آدمی کو غربت کی چکی سے فرصت ہی نہیں کہ وہ مستقبل کا سوچے۔ اور یہ عام آدمی ادھر 99 فی صد سے ذیادہ ہیں۔ جو گنتی کے چند شرفاء ہیں ان کی ترجیح مفاد عامہ رہی ہی نہیں اور یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں کیونکہ marginalized لوگوں میں یہ عام سا مظہر ہے۔
میں جناب امیر مقام اور جناب سید جعفر شاہ صاحب کے حضور عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ جناب بحرین تا کالام سڑک کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس سڑکے کی مستقل بنیادوں پر تعمیر اور توسیع کی جائے۔ آپ کے موجودہ منصوبے سے مجھے ڈر ہے کہ کہیں کالام کی سڑک ہمیشہ کے لیے اسی طرح نہ رہے اور پھر توسیع یا تعمیر کا کوئی منصوبہ کئی دہائیوں بعد آجائے۔ ابھی موقع ہے اس پورے سڑک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آپ دونوں ایک ساتھ وہ فیتہ کاٹتے جسے ’’افتتاح‘‘ کہتے ہیں۔ یہ بڑے ظرف کی بات ہوتی لیکن بقول شخصے مقابلے کے اس دور اور دوڑ میں ظرف کی توقع کرنا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔
916 total views, no views today


