سوات(سوات نیوزڈاٹ کام)نوبل انعام حاصل کرنیوالی ملالہ یوسفزئی پانچ سال بعد وطن واپس اگئی،ملالہ یوسفزئی اسلام اباد کا دورہ کرکے واپس انگلینڈ روانہ ہونگی،وہ سوات کا بھی دورہ نہیں کرینگی، ملالہ یوسفزئی کی امد پر سوشل میڈیا صارفین کیا کہتے ہیں ان کی پوسٹوں سے ہی واضح ہو جاتی ہے۔
ارسلان ارشد نے پی ٹی ائی فیملی گروپ سے ایک پوسٹ شئیر کی ہے جس میں لکھا کہ عمران خان نے مالالہ یوسفزئی کی پر لکھا گیا سبق نصاب سے نکال دیا ، ملالہ کے پیچھے سی ائی اے، را اور نوازشریف ہیں،پوسٹ میں ن لیگ پربھی شدید تنقید کی گئی ہے ۔

عطائ الرحمان نے ملالہ ڈرامے پر ایم این اے مسرت احمدزیب کا انٹرویو شیئر کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ملالہ پر حملہ ڈراما تھا، مجھے بھی پیشکش کی گئی تاہم میں نے انکار کیا تھا، جس وقت ملالہ یوسفزئی نے گل مکئی کےنام سے لکھاشروع کیا تھا، حقیقت میں اس وقت ملالہ نہ تو لکھ سکتی تھی اور نہ ہی پڑھ سکتی تھی

عوامی نیشنل پارٹی کے ورکرز نے ملالہ یوسفزئی کو ویلکم کیا ہے اورملالہ یوسفزئی کی قربانیوں کو کافی سراہا گیا ہے،پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پنجابی لوگ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک پختون بیٹی کی قربانیوں کو سراہا جائے ، ہمیں ملالہ پر فخر ہے۔

حمید شیخ نے ایک گروپ سے پوسٹ شیئر کی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ملالہ بہانہ جبکہ ایٹم بم نشانہ ہے،پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ امریکی سی ائی اے اہلکار ملالہ اور اس کے باپ کو پاکستان کیخلاف تیار کررہے ہیں

ایک اور صارف نے پوسٹ شیر کی ہے جس میں عافیہ صدیقی اور ملالہ یوسفزئی کے درمیان پبلک ریفرنڈم کا نام دیا گیا ہے کہ جس میں پاکستان کے بیٹی کون ہے ملالہ یا عافیہ صدیقی ۔

سوشل ایکٹی ویسٹ افراسیاب نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ملالہ یوسفزئی 97 میں پیدا ہوئی، اٹھ سال کی عمر میں ڈائری لکھنا شروع کردی جبکہ اس وقت ہم سے تختی نہیں لکھی جاسکتی تھی،نو سال کی عمر میں طالبان کو لکھا را جب ہمیں طالبان لکھنا نہیں اتا تھا اور بارہ سال کی عمر میں گولی کھائی ،،، جب

ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر تنقید بہت کیا جارہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ان کی حمایت میں بہت کم پوسٹیں شئر کی جارہی ہے، سوات میں بھی یہی صورتحال ہے کہ ان کے حق میں کوئی اچھی پوسٹیں شیئر نہیں ہوئی
سوات کے پہلے اور سب سے زیادہ مقبول روزنامہ شمال نے بھی ملالہ یوسفزئی پر ایک رپورٹ پبلش کی ہے جس میں ملالہ یو سفزئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

3,486 total views, no views today



