پژمردہ چہرہ،آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی یاسیت ،انتہائی نرم مگرپرعزم لہجہ ،یہ تھی شگفتہ جس کے ساتھ چند دن قبل ان کے گھر پر ملاقات ہوئی، ان کی باتیں سننے کے بعدمیری حالت کیاتھی یہ میں ہی جانتا ہوں مگر کاکا کی حالت میری حالت بھی مجھ سے کچھ کم ابترنہیں تھی ،شائد یہ کڑکتی دھوپ اورروزے کا اثر ہو مگرایسا نہیں تھا اس سے قبل بھی میں اورکاکااسی طرح کی اونچی اونچی پہاڑیوں اوردوردراز کے علاقوں میں جاکر وہاں پر موجود بے اسرااورضرورت مندلوگوں کی حالات اورمجبوریوں سے آگاہی حاصل کرکے اس امید پر اپنی اپنی متعلقہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اجاگر کرتے کہ شائد سوئے ہوئے حکمران مسیحابن کران کی مجبوریوں کے خاتمہ کیلئے کچھ کریں،اصل بات کچھ یوں تھی کہ چنددن قبل صبح سویرے میرے دوست شہزادعالم المعروف کاکا کی کال آئی ،بابا کہاں ہو؟رسیوکرتے ہی میرے کان میں ان کی آوازگونجی ،کاکاخیریت تو ہے ؟ ابھی بسترپرہوں ،میں نے جواب دیا،دفترآجاؤیار ایک رپورٹ بنانی ہے،کاکا نے اسی روانی سے جوا ب دیا اورفون بند کردیا ،میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بسترچھوڑااوربوجھل آنکھیں لئے کاکا کے افس پہنچ گیا،یہ بھی کوئی وقت ہے اٹھانے کا؟افس پہنچتے ہی میں کاکا پر برس پڑا،دیکھ بابا یہ چار دن کی زندگی ہے اسے بیندکی بجائے کسی کار خیر میں گزارو،کاکا نے جواب دیااوربات کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ کوہسارکالونی سیدوشریف جاناہے جہاں پر ایک خاتون ہے جس کا بھائی کافی عرصہ سے بیمار ہے جنہیں ہماری مددکی ضرورت ہے،ہم روانہ ہوگئے ،راستے میں تھوڑے بہت کام نمٹانے کے بعدگاڑی کارخ افسرآبادسیدوشریف کے قریب کوہسارکالونی کی طرف موڑدیا،جہاں پہنچتے پہنچتے دوپہرہوگئی تھی،گاڑی پارک کی اورفون پر رابطہ کرکے گائیڈلائن لی ،کچھ دیربعدایک جواں سال لڑکاآیا اورہم ان کی راہنمائی میں روانہ ہوگئے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد پہاڑی پرچڑھنے لگے ،یہ کالونی بھی حکومت کی عدم توجہی کے باعث کافی پسماند دکھائی دی جہاں پر شائدلوگوں نے اپنی مددآپ کے تحت سیڑھیاں بنارکھی تھیں جن پر چڑھتے ہوئے کاکا گنتی کررہاتھا اورپورے ایک سو اٹھاؤن سیڑھیاں چڑھنے کے بعدہم ہانپتے کانپتے ان کے گھر میں پہنچ گئے،گھرکیاتھا بس رہنے یا سرچھپانے کی ایک جگہ سی تھی جہاں پرایک کمرے میں ایک تیئس سالہ لاغرسانوجوان بسترپرپڑاتھا جس نام بعدمیں حضرت علی معلوم ہوا،ابھی ہم بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے کہ اس اثنا ء ایک عورت آگئی شگفتہ جس کے چہرے پریاسیت اورامید کے ملے جلے تاثرات صاف دکھائی دے رہے تھے،میں شادی شدہ اوردوبچوں کی ماں ہوں،کئی سال قبل شوہرایک حاثہ میں فوت ہوگیا اورمیں بھائیوں کے گھر آگئی جہاں پر اپنے بچوں کاپیٹ پالنے اوربھائیوں کی خدمت کیلئے ایک جگہ پر بارہ ہزارروپے ماہانہ پرنوکری شروع کی،زندگی جیسے تیسے گزرنے لگی ،شگفتہ نے انتہائی نرم یاشائد مایوس کن لہجے میں ہمارے سوالوں کے جواب میں اپنادکھڑاسنانا شروع کردیاجسے سننے کے دوران میں اورکاکا خودسوالیہ نشان بن گئے،حضرت علی جگرکے مرض میں مبتلا ہے جس کے علاج پر تاحال تمام جمع پونجی خرچ کردی مگر افاقہ نہیں ہوا ،شگفتہ نے بات آگے بڑھائی،ڈاکٹرکہتے ہیں کہ حضرت علی کے مکمل علاج پر تقریباََ پچاس لاکھ روپے خرچہ آئے گا،میں ایک بے بس اوربیوہ عورت ماہانہ بارہ ہزارروپے ماہانہ تنخواہ پر گھرکا خرچہ چلانے کی کوشش کررہی ہوں اوپر سے جوان بھائی کی بیماری اورہرماہ تیس ہزار کی ادویات کاخرچہ کہاں سے پوراکروں؟؟خاتون نے آنسوپونچھتے اوراپنے بھائی کے سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی حضرت علی کا علاج معالجہ کرنے کی خاطر پیسے کمانے بیرون ملک گیا مگرہماری بدقسمتی اورایجنٹوں کی مفادپرستی کی وجہ سے وہاں قیدہوگیا جس کے بعد یہ امید بھی دم توڑگئی بات ختم کرتے ہوئے اس نے کچھ خالی،کچھ یاسیت اورکچھ پرامید نظروں سے ہماری طرف دیکھااورکمرے میں خاموشی چھاگئی،میں اور کاکا بوجھل قدموں کے ساتھ وہاں سے اٹھ گئے اورشگفتہ کے گھر سے نکل کرخاموشی کے ساتھ ایک سواٹھاؤن سیڑھیاں اترنے لگے،آج کئی دن گزرنے کے باوجودبھی شگفتہ کا وہی پژمردہ اوریاسیت بھراچہرہ میری نظروں کے سامنے گھو م رہاہے جیسے سوال کررہاہوکہ تم لوگوں نے میری آوازکن کن لوگوں تک پہنچائی ؟ پہنچائی بھی یانہیں؟اگرپہنچائی ہے تو پھرابھی تک میرے بھائی کی زندگی بچانے اوراس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کیلئے کوئی مسیحاکیوں نہیں آیا؟؟اب میں اس بیوہ اوربے سہاراشگفتہ کے ان سوالوں کا جواب اس کے علاوہ اورکیا دے سکتا ہوں ؟کہ وہ بے سہارااورہم بے اختیار ہیں ۔
921 total views, no views today


