بریکوٹ میں برف نایاب عوام در در کی ٹھوکریں کھانے لگے برف فروشوں سمیت عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنا، بریکوٹ اور گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے برف نایاب ہوگئی ہے لوگ ٹھنڈا پانی پینے کو ترس گئے
آگ برساتی گرمی میں عوام کا برا حال ہوگیا اگر کہیں برف آتی ہے تو برف فروش پر اتنا رش ہو تا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی برف والے پھٹوں پر برف کے انتظار میں لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں عوام نے حکومت کے خلاف انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی میں عوام کو زندہ درگور کیا جا رہا ہے انہوں نے ڈی سی اوسوات سے اپیل کی ہے کہ برف فروخت کرنیوالے کارخانے ضلع سے باہر زیادہ ریٹ پر برف فروخت کررہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کرکے دفعہ 144کا نفاذ کیا جائے اور برف کا ریٹ مقرر کیاجائے تاکہ عوام کو باآسانی ٹھنڈا پانی پینے کیلئے برف مل سکے ادھر کار خانے والوں کا کہناہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم جرنٹیر پر کار خانے چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے برف مہنگی فروخت ہو رہی ہے۔جبکہ اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ سلمان خان لودھی نے کہا ہے کہ برف کا سرکاری ریٹ مقرر کر دیا گیا ہے برف کا بلاک 450روپے جبکہ 8روپے کلو پر فروخت کیا جائے گاانہوں نتے کہا کہ اگر کسی کو خلاف ورزی کرتے پکڑا گیا تو جرمانے سمیت جیل کی چکر بھی لگوانگاانہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس مقررہ قیمت سے ذیادہ ہر گز ادا نہ کریں ،ریٹ کا اطلاق آج سے ہوگیا ہے
490 total views, no views today


