اکثر ممالک آزاد ہونے کے باوجود دیگر غیر ملکی زبانوں کی زد میں ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ آزادی سے قبل انگریزی زبان پہ اتنی توجہ آزاد وطن کے عوام و خواص کی نہ تھی۔ یہ تو آزادی کے بعد لسانی غلامی کا طوق گلے میں پڑ گیا۔ انگریزی کی ترقی و ترویج کی کوشش ابھی جاری و ساری ہے اورایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اسے بڑھاوا دیا جارہا ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان ترقی یافتہ نہ ہوسکا۔ جب کہ چین اورجاپان نے آزاد ہوتے ہی انگریزی کو خیر باد کہہ دیا۔ پھر بھی وہ تو غریب نہ ہوئے، اُن کی ترقی تو انگریزی نہ پڑھنے کے باعث متاثر نہ ہوئی بلکہ ان ممالک نے تو انگریزی کے بغیر اپنا ایک مقام بنا کر یہ ثابت کردیا کہ ترقی کا راز انگریزی میں ہے اور نہ کسی اور زبان میں ہی ہے بلکہ یہ تولگن میں ہے۔ مسلسل محنت، قوت ارادی اور جستجو میں ترقی کا راز مضمر ہے۔
وطن عزیز میں ایسے عناصر کار فرما لگتے ہیں، جو سرکاری زبان کو پوجا کی حد تک چاہتے ہوں گے۔ اس لیے تو یہ زبان مضبوط سے مضبوط تر ہوکر ہمارے ملک پہ چھائے چلی جا رہی ہے۔ کوئی بات نہیں ہے اگر کسی کو اس سے خوشی اور فائدہ مل رہا ہے، یہ تو اچھی بات ہے مگر اُردو اور پاکستان ہماری پہچان ہیں، انھیں نہیں بھولنا چاہیے۔
ایک خام خیال یہ بھی ہے کہ سارے کا سارا سائنسی اور تخلیقی علم انگریزوں کی کتابوں میں ہے۔ ارے، اس طرح کا خیال رکھنے والے یہ کیوں بھول گئے کہ علم تو مومن کی میراث ہے۔ اب تو بے شمار تعلیم یافتہ انگریزی اور اُردو جاننے والے موجود ہیں۔ حکومت اگر چاہے، تو وہ انھیں بہ طور ترجمان کی تقرری کرکے تن خواہ مقرر کرے اور جتنا بھی انگریزی علم ہے، اسے اُردو میں ترجمہ کر ڈالیں۔ سارے کا سارا مسئلہ ہی حل ہوجائے گا۔ اردو ایک انتہائی زر خیز اور پر اثر زبان ہے، مگر یہ بری طرح بے قدری کا شکار ہو رہی ہے اور اس کے شکاری شائد ہم خود ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی بڑی محفل منعقد ہو، تو ایسے میں اکثر لوگ انگریزی بولتے ہیں یا کم از کم اُردو میں انگریزی الفاظ کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں ایک انگریزی نہ جاننے والا اُردو بھی نہیں بولتا۔ وہ شدید احساس کم تری کا شکار ہوتا ہے۔ جب کہ محفل میں انگریز تو نہیں ہوتے، یہی اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ پھر آخر یہ احساس کم تری کیوں؟ آخر یہ احساس کیوں پیدا ہوا اور اسے کس نے پیدا کیا؟ سنجیدگی سے سوچنے کا مقام ہے۔ غالباً 1986ء تک کئی علاقوں کے گورنمنٹ اسکولوں میں فاری بہ طور لازمی مضمون رائج رہی، مگر چپکے سے غیر محسوس طریقے سے اُسے مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا۔ کچھ نہ ہوا کچھ بھی تونہ ہوا، کوئی بھی کچھ نہ کرسکا۔
ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یا پھر آنے والے وقتوں میں اُردو کا بھی یہی حال ہو اور یقیناًہم کچھ نہ کرپائیں گے۔ اس کی ایک مضبوط وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سارے کا سارا نصاب تعلیم انگریزی میں منتقل ہو جائے گا۔ اب بھی اگر دیکھا جائے، تو معاشرتی علوم کو ’’سوشل اسٹڈیز‘‘ کا نام دے کر انگریزی میں منتقل کردیا گیا۔ لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ مختلف کمپنیوں کی کتب شائع ہو رہی ہیں۔ سائنس کو انگریزی میں کردیا گیا ہے۔ ریاضی کو انگریزی میں بدل دیا گیاہے۔ جنرل نالج انگریزی میں ہے۔ ہوسکتا ہے اُردو کو بھی انگریزی میں ہی کر دیا جائے۔ اُردو کو انگریزی میں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی فارمولا ایجاد ہوجائے گا یا کم از کم رومن انگریزی طرز میں تو ہوہی جائے گی اور یوں انشاء اللہ اُردو سے بھی ہاتھ دھونا پڑجائیں گے۔ اب بھی وقت ہے اردو کو بچانے اور منوانے کا۔ کیوں کہ اُردو ہی ہماری دوسری شناخت ہے۔
اگر کوئی کمپنی کوئی تعلیمی نصاب کے تحت شائع کرتی بھی ہے، تو وہ قانونی طور پہ باقاعدہ منظور شدہ اور اجازت یافتہ ہی ہوتی ہوگی۔ اس میں کمپنیوں کا بھی قصور نظر نہیں آتا۔ وہ بھی تو وقت کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہیں، مگر گزارش یہ بھی ہے کہ کم از کم اُردو کی ترقی اور نشوونما کا بھی بھر پور خیال رکھا جائے۔ مذہبی اور تاریخی اقدار کا تذکرہ ہونا، تو بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ ملک خداداد اور اس میں رہنے والوں کا تعلق ہی دین فطرت سے ہے۔ لہٰذا کتب میں دینی علوم کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ مقصود ہے۔ اور اس کے لیے اردو زبان مزید مفید ہوگی۔
کسی بھی زبان کے سیکھنے سمجھنے اور بولنے کے لیے ماحول کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر ماحول میسر ہو، تو ایک ان پڑھ بھی غیر ملکی زبان میں بات کرلیتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انگریزی بھی نہ سیکھ پائیں اور اُردو سے بھی ناآشنا رہ جائیں۔ وہ کوے وال حالت نہ ہوجائے۔
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ
واٹر واٹر کہہ کے ہم کو
دودھ ملا نہ پانی
1,109 total views, no views today


