مینگورہ،سوات فروٹ اینڈویجٹیبل ایسوسی ایشن نے عمران خان اورطاہرالقادری کواپنے معاشی قتل کا ذمہ دارقراردیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ مارچ اوردھرنوں کا سلسلہ بندنہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبورہوجائیں گے ،غیرضروری دھرنوں کی وجہ سے ہم بروقت منڈیوں تک پھل اورسبزیاں نہیں پہنچاپاتے جس کے سبب ہمیں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑرہا ہے،اس حوالے سے عبدالحق،سعداللہ خان ،بحرکر م اورمذکورہ ایسوسی ایشن کے دیگرعہدیداروں نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم باغات خریدکر وہاں پرسال بھرمحنت کرتے ہیں اورایک سال بعدہمیں اس کا پھل ملتا ہے مگر اس سال عمران خان اورطاہرلقادری کے غیرضروری مارچ اوردھرنے کی وجہ سے یہ پھل اورسبزیاں منڈیوں تک نہیں پہنچ رہے ہیں
جبکہ ہماری پھلوں سے بھری ہوئی متعددگاڑیاں راستوں کی بندش کی وجہ سے واپس آرہی ہیں جس سے نقصان اٹھانا پڑا،انہوں نے کہاکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب بھی یہاں پر سیزن آتا ہے تو کوئی نہ کوئی مسئلہ پیداکیاجاتا ہے جونقصان کا سبب بن جاتا ہے،انہوں نے کہاکہ عمران اورقادری کے حالیہ مارچ اوراحتجاج کی وجہ سے ڈویژن کی سطح پر روزانہ اٹھائیس کروڑ روپے کانقصان ہورہا ہے مگر اس کا کسی کو بھی احساس نہیں آخر ہماراکروڑوں کا یہ نقصان کون پورا کرے گا ،آخر ہمیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ؟ہم توسیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر محنت مزدوری کرکے رزق حلا ل کما رہے ہیں مگراس کے باجود بھی ہمارے راستے بند کئے جارہے ہیں جو کسی بھی صورت مناسب نہیں بلکہ ایک قابل افسوس امر ہے،انہوں نے کہاکہ مارچ اوردھرنوں کے دوران کنٹینررکھ کر تمام تراہم شاہراہوں اورراستوں کوبند کیا گیا ہے جس کے باعث فروٹ اورسبزیوں سے بھری گاڑیاں یا تو رکی رہتی ہیں اوریا واپس آجاتی ہیں جس سے یہ پھل اورسبزیاں خراب ہوجاتے ہیں جبکہ گاڑی کے آنے جانے کاکرایہ بھی دیناپڑتاہے اس دوہرے نقصان کا ذمہ دارکون ہوگا؟انہوں نے کہاکہ عمران خان اورطاہرالقادر ی کے مارچ کی وجہ سے ہمارامعاشی قتل ہورہا ہے مگرکرسی کے پیچھے پڑے ہوئے ان لوگوں کو ہمارے نقصان کاکوئی احساس نہیں اگر ان لوگوں نے یہ سلسلہ بند کیا تو ہم ان کے خلاف احتجاج شروع کرنے پر مجبورہوجائیں گے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت سمیت یہاں کے منتخب ممبران اسمبلی ہمارے اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ ہم مزید نقصان اٹھانے سے بچ سکیں،اس موقع پربحرکرم خان،سیدمرادعلی،قدرمند،علی حیدراوردیگربھی موجودتھے۔
362 total views, no views today


