سوات میں بجلی بحران نے اس وقت سنگین صورت اختیار کرلی جب اگست 2008 میں کشید گی کے دوران سوات کے سب سے بڑے مینگورہ گرڈسٹیشن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا گیا جس سے مینگورہ شہر سمیت سوات اور شانگلہ کے متعدد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے،رمضان بابرکت مہینے میں لوگ پانی کے بوند بوند کیلئے ترس رہے تھے اور خاص کر مینگورہ شہر کے باسیوں کو توجیسے کربلاکے میدان میں اتار دیا گیا ہو ، 35 دن بعد بجلی بحال ہوگئی لیکن عارضی طور پر یعنی مینگورہ گریڈ سٹیشن میں 220 کے وی ٹرانسفارمر کے بجائے چھوٹایعنی 150 کے وی ٹرانسفارمر نصب کر کے بجلی بحال ہوگئے لیکن کم وولٹیج ٖفیڈروں کی اوور لوڈنگ سمیت کئی مسائل نے جنم لیا اور پھر سوات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور حالات خراب ہوتے گئے، 2008 میں مذاکرات تو کبھی آپریشن کا سلسلہ شروع ہوگیا 5 مئی 2009 میں فیصلہ کن آپریشن کا آغاز ہوا تو25 لاکھ کے قریب لوگوں نے نقل مکانی کی اور اس کشیدگی کے دوران سوات میں 401 سکول، BHU43 اور 35 کے قریب پولیس اسٹیشن ،چھوٹے بڑے رابطہ پل اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری املاک تباہ ہوگئے جبکہ اس کشیدگی کے دوران 6 ہزار کے قریب مکانات اوردکانوں کو نقصان پہنچا، جانی نقصان بھی اتنا ہوا کہ اس پر کسی دوسرے آرٹیکل میں تفصیل سے لکھا جاسکتا ہے، سوا ت میں امن بحال ہوا 25 لاکھ لوگ اپنے گھروں واپس پہنچ گئے تعمیر نو اور بحالی کا کام شروع ہوا سڑکوں پلوں، سکولوں، زرعی اور جہاں پر جونقصان ہوا اس پر تھوڑا بہت کام ضرور ہوا لیکن بد قسمت سے عوام کے سب سے زیادہ استعمال میں یعنی بجلی بحالی پر اس انداز سے کام نہیں ہوا جس طرح دیگر شعبو ں میں ہوا ہے گریڈ سٹیشن میں ٹرانسفارمر کی ضرورت وہی جو 2008 میں تباہ ہوا تھا اور 6،7سات سال گز رنے با وجود بھی سوات کے اس گریڈ سٹیشن میں 220کیوی ٹراسفامر نہ لگ سکا اور آج بھی سوات کے لوگ کم ولٹیج کے مسائل سے دوچار ہیں ، آپریشن میں کئی بجلی کے کمبے اور بجلی کے تاروں کو نقصان پہنچا اس پر بھی کوئی کام نہیں ہوا اورآج بھی سوات کے کئی علاقوں میں واپڈا اہلکار تاروں کو جوڑ توڑ کر کام چلارہے ہیں لیکن جب تھوڑاسا لوڈبڑھ جائے تو یہ تاریں گرم ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ لگ جاتے ہیں اور ٹرانسفارمر جل کر ناکارہ ہوجاتے ہیں گذشتہ تین چار سالوں سے مسلسل سوات میں ہر گرمی کے موسم میں اور خاص کر رمضان المبارک کے مہینے 70 ،80 کے قریب ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں ، جس سے 12 سے 14 لاکھ آبادی بجلی سے مختلف وقتو ں میں محروم ہوجاتی ہے اور 15 سے لیکر 20 دن تک لوگ پھر ٹرانسفامر کا انتظارکر تے رہتے ہیں کہ ٹرانسفارمر کب ٹھیک ہوگا اور بجلی کب بحال ہو گی، ٹرانسفا مر اور خراب تا روں کی وجہ سے سوات کے عوام نہ ختم ہو نے والے ایک عذاب مں مبتلا ہوچکے ہیں، پھر رہی سہی کثر 2010 کے سیلاب نے پورا کردی جس میں مدین گریڈسٹیشن مکمل طور پر سیلاب کی نذرہوگیا تو خوازہ خیلہ گرڈاسٹیشن کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ کالام سے لیکر لنڈاکی تک کے دریائے سوات کے کنارے تمام تر بجلی کے اور ٹاؤرز دریا بورد ہوگئے ،سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ گذشتہ 6 سال سے سوات میں بجلی بحران کا شدید جاری ہے پہلے کشیدگی پھر سیلاب سے سوات کے لوگ بجلی کی فراہمی سے متاثر ہوئے لیکن اس دوران نہ ایم ایم اے اور نہ ہی اے این پی نے اس حوالے سے کسی قسم کے ا قدامات کئے اور ان کی حکومتیں چلی گئیں اور اب جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے تو اس حکومت نے بھی اس پر توجہ نہیں دی ،یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات عارضی بنیادوں پر اقدامات کرکے مسائل تو حل کئے جاتے ہیں لیکن ایک دوماہ بعد پھر وہی مسئلہ سراٹھا لیتا ہے ،ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ اگر ملک میں 10یا12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے تو سوات میں 20 سے 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ،افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ سوات میں تین قسم کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے حکومتی اعلان پر شیڈول لوڈشیڈنگ،دوسری قسم کی سسٹم اور فیڈرز کا اوورلوڈہونے کی وجہ سے اور تیسری قسم کی لوڈشیڈنگ آر سی سی کے حکم پر ، سوات گرڈسٹیشن میں 220 کے وی ٹرانسفارمر کی تنصیب ایم ایم اے حکومت میں بھی عمل مین نہیں لائی گئی تو اے این پی حکومت بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکی اور اب تحریک انصاف کی باری ہے ، شدید گرمی اور رمضان المبارک کے مہینے میں 15 سے20 دن مسلسل ایک علا قے میں بجلی کا نہ ہونا عوام کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ، اس سلسلے اگر ایم این اے ،ایم پی اے سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ بھی مسئلہ حل کرنے سے معذرت ظاہر کرتے ہیں اور جواب یہی ہو تا ہے کہ یہ وفاق کا معاملہ ہے۔
معاملہ تو وفاق کا ہے لیکن منتخب نما ئندے ہو نے کی وجہ سے ایم این ایز اور ایم پی ایزکا اپنے علا قے کے لو گو ں کے ساتھ غم خواری اور پھر علاقے میں ہو نا اتنا ضروری ہے جس طرح آگ بجھا نے کیلئے پا نی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پھر بھی تحریک انصاف کے بعض ایک ایم پی اے اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں اورواپڈا دفتروں میں بھی دیکھے جاتے ہیں جس میں فضل حکیم ، گران خان، ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر حیدر بھی نظر آتے رہتے ہیں جبکہ ایم این اے مراد سعید غائب تو ہیں لیکن ان کا بھائی کلیم سعید بھی خاصی ایکٹیو نظر آتے ہیں ، سلیم الرحمن کا حلقہ تھوڑا سرد ہے یعنی سوات کے بالائی علاقے ،اس وجہ سے وہاں زیادہ ٹرانسفارمر نہیں جلتے ، رمضان المبارک سے 3 دن پہلے ہمارے محلے کا ٹرانسفارمر جل گیا 15 روزچکدرہ میں پڑا رپا لیکن ٹھیک نہیں ہورہا تھا میں اپنے حلقے یعنی پی کے 83 کے ممبر محیب اللہ خان کو فون کیا اور گزارش کی کہ آپ کہاں پر ہیں؟ ہمارے پوچھتے تک نہیں انہوں جواب دیا شیرین زادہ کیا بات ہے ؟میں پشاور میں ہو ں؟میں نے خوش مزاجی سے کہاکہ بھائی محیب اللہ خان گزشتہ 15 روزسے ہمارا ٹرانسفارمر خراب ہوچکاہے اور ٹھیک نہیں ہورہا ہے اور جب تک کو ئی ذمہ دار بندہ نہ ہو تو واپڈا کے دفترو ں میں اتنا رش ہے کہ ہر کسی کو اپنے علا قے کی قیامت پڑی رہتی ہے تو اگر کسی کو فون کر یں یا خو د آجائیں تو ہمارا مسئلہ حل ہوسکتا ہے،وہاں سے مجھے یہ آواز آئی کہ شیرین زادہ یہ میری ذمہ داری نہیں وفا ق کا مسئلہ ہے اور میری اور بھی ذمہ داریاں ہیں مجھے اور بھی بہت سے کام کر نے ہیں،میں نے جواب دیا کہ بھائی ہم لوگوں نے تو آپ کو منتخب کیا ہے ،ووٹ تو پی کے 83 کے عوام نے آپ کو دئے تو یہاں کے لوگوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟ آپ گزشتہ دوتین ماہ سے پشاور میں ہیں اور یہاں پر لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، اگرآپ مسلہ حل کر سکتے ہیں یا نہیں لیکن آپ کا اپنے علا قے کے عوام کے ساتھ ہو نا ضروری ہے وہا ں سے مجھے جواب ملا کہ شیرین زادہ آپ تو با ت خراب کر نا چا ہتے ہیں ،میں نے جواب دیا بھائی میں عوام کی بات کررہاہوں مجھے آپ سے کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں لینا ،ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی پا رٹی کے دیگر ایم پی ایز کی طرح حلقے میں موجود رہے بہر حال وہ اس با ت پربضد تھا کہ میں نے بجلی کی مد بہت کا م کیا ہے اور سب ایم پی ایز سے زیا دہ کیاہے میں نے کہا کہ 15دنو ں سے ہما رے محلے کا نجو چوک کا ٹراسفا مر خراب ہے آپ کا کام تو یہاں پر نظر نہیں آرہا ، خیر فون بند کر نے سے پہلے میں ان نے سے کہا کہ میں نے غلط جگہ فو ن کیا ہے ،الغرض کئی دنو ں کے بعد پی ٹی آئی کے کا ر کنو ں کی کوششوں سے ٹرانسفامر مرمت ہوکر مل گیا اور یون بجلی ہوگئی ۔
سوات کے عوام کی بد قسمتی دیکھے کہ یہ بے چا رے تو احتجا ج بھی نہیں کر سکتے اگر احتجا ج کر تے ہیں تو ان پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں ،لو ڈ شیڈینگ اور گر می سے تنگ آکر اگر در یا ئے سوات میں نہا نے کیلئے جا تے ہیں تو خونی لہریں انہیں کھاجاتی ہیں اورپھر انتظامیہ کی جانب سے نہا نے پر پابندی لگا ئی جا تی ہے اور اگر کو ئی غلطی سے چلا جا ئے تو ان پھر شامت آجاتی ہے ، اسی طرح میں کانجو ایوب پل کی بات نہ کروں تو یہ ناانصافی ہوگی اس پل کی تعمیر پر ٹھکیدارنے ورلڈ ریکا رڈ بنا دیاہے اور پا نچ بندو ں پر پل تعمیر کر ارہے ہیں اور ایسا کا م جا ری ہے کہ جس طرح اناڑی افراد ایک عمارت کی تعمیر کررہے ہوں، اے این پی اور اب پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی اس پل پر انتہا ئی سست روی سے کا م جا ری ہے لیکن کو ئی پو چھنے والا نہیں ہے ،بجلی بحران کا حل یہی ہے کہ مینگورہ گرڈ سٹیشن کو اپ گریڈ کیا جائے اور ساتھ ہی سوات کے مختلف علا قو ں میں مزید گر یڈ سٹیشن تعمیر کئے جائیں ، 220کے وی ٹرانسفا مر کی تنصیب چکدرہ سے لے کر سوات تک کی مین لا ئن کی تبدیلی بتائی جاتی ہے کیونکہ ریاست سوات کے دورکی اس لائن پر جب بھی لوڈ بڑھ جاتا ہے تو یہ ٹو ٹ جا تی ہے اوروالی سوات کے زما نے اس لائن کو دو تین لا کھ آبا دی اور اب اس پر 25لا کھ ہے ،میں وفا قی حکو مت کویہ تجویز دینا چاہوں گا کہ وہ خیبر پختونخوا کو بھی اس ملک کا حصہ قراردیکر اس صوبے میں پیداہونے والی بجلی کا ذیادہ حصہ دلائے تاکہ اس صوبے کی محرومیاں بھی کم ہوسکیں ۔
916 total views, no views today


