قارئین کرام! یہی کوئی دو سال پرانا واقعہ ہے کہ کام ختم کرکے کمر سیدھی کر ہی رہا تھا کہ فضل خالق ؔ صاحب اترے ہوئے چہرے کے ساتھ دفتر واپس آئے اور اپنی موٹر سائیکل چوری ہونے کی خبر ہمارے گوش گزار کی۔ اس وقت ان کا چہرہ فق اور لہجہ تھکا تھکا سا تھا اور کیوں نہ ہوتا کہ مسئلہ ہی کچھ ایسا تھا۔ ایک لمحے کے لیے دفتر میں موجود تمام اسٹاف ممبر یوں دم بہ خود رِہ گئے جیسے سبھی کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ اس کی ایک خاص وجہ تھی اور وہ یہ کہ ہمارے دفتر کے سامنے سے چوری ہونے والی یہ تیسری موٹر سائیکل تھی۔ میں نے ان کے غم میں شریک ہونے کی خاطر چند رسمی کلمات ادا کیے اور اپنے تئیں بری الذمہ ہونے کی کوشش کی۔ اس طرح دیگر رفقائے کار نے بھی فضل صاحب کے ساتھ حسب توفیق غم رازی کا اظہار کیا۔ اُس موقع پر مجھے فضل صاحب کے اُس وقت کے شاہ کار سفرنامے ’’تیرا مو یاترا‘‘ کے چند سطور بے طرح یاد آنے لگے جس میں انھوں نے بس میں سفر کرتے وقت ایک اسٹاپ پر کسی اجنبی مسافر کے اضطراب کا زبردست نقشہ کھینچا تھا۔ دراصل اسی بس سے سفر کرتے سمے مذکورہ اجنبی کا قیمتی سامان اترتے وقت بس ہی میں رہ جاتا ہے جس کی تلاش میں وہ دو تین دنوں سے مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے اور پھر جب اسے بس مل جاتی ہے، تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی۔
فضلؔ صاحب سفر نامہ میں آگے رقم طراز ہیں کہ اجنبی نے جس نشست سے سفر کیا ہوتا ہے، ٹھیک اسی نشست پر پچھلے دو تین روز سے اس کا سامان پڑا رہتا ہے جس میں دوسری قیمتی اشیاء کے ساتھ ساتھ ایک عدد قیمتی لیپ ٹاپ بھی ہوتا ہے۔ اپنا سامان دوبارہ مل جانے کے بعد اجنبی ڈرائیور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بس سے اتر جاتا ہے۔
اس موقع پر مجھے وہ سطور بھی سوئیوں کی طرح چھب رہی تھیں جن میں فضلؔ صاحب گم شدہ اور چوری شدہ اشیاء کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں کہ ایک ہمارا معاشرہ ہے جہاں بس میں چڑھتے یا اترتے وقت ہم اپنے آپ سے زیادہ اپنی جیب اور دیگر قیمتی اشیاء کا خیال رکھتے ہیں اور ایک وہ غیر دین معاشرہ ہے جہاں گم شدہ چیز ٹھیک اسی جگہ پڑی رہتی ہے، جہاں بھلا کر رکھ چھوڑی گئی ہو۔
آمدم برسر مطلب! موٹر سائیکل کی چوری کا سننا تھا کہ اس وقت کے صحافیوں کے سردار فیاض ظفرؔ نے فضل صاحب کو قریبی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کرنے کا مشورہ دیا اور بہ نفس نفیس ان کے ساتھ تھانے بھی ہو لیے۔ بعد میں شہزاد عالم بھی تھانہ پہنچے اور اپنے طریقے سے فضل صاحب کا ساتھ دیا۔
قارئین کرام! مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس رات میں عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ ساتھ تھکا ہارا گھر کا راستہ ناپنے لگا اور لاشعوری طور پرکاغذ کی بنی ایک چھوٹی سی ڈبیا کو بار بار ٹھوکر بھی مارتا رہا۔ علاوہ ازیں یہ بھی سوچتا رہا کہ آخر اس نظام کا ہوگا کیا، جہاں اوپر سے لے کر نیچے تک خرابی ہی خرابی ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا؟ رہ رہ کر مجھے اپنے اکلوتے بیٹے (عدن اس وقت اکلوتا تھا) کی یاد آتی رہی۔ وہ جب کل کو بڑا ہوگا اور اسے زمانے کی ہوا لگے گی، تو وہ کیا سوچے گا؟ وہ جب اپنے معیار زندگی کا موازنہ ترقی یافتہ اقوام کے بچوں کے ساتھ کرے گا، تو کیا اسے اپنے پیدا ہونے پر افسوس نہیں ہوگا؟ کل جب اسے اپنے ہی ملک میں اپنی شناخت کی خاطر شناختی کارڈ گلے میں لٹکانا پڑے گا، تو وہ مجھے کن الفاظ کے ساتھ یاد کرے گا؟ کل جب اسے ایمان داری کی بیماری لگے گی اور وہ اس فرسودہ نظام کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی کی خاطر در در کی خاک چھانے گا، تو کیا اسے مجھ پر نفرین کرنے کا حق نہیں ہوگا؟ اور کل جب وہ بیچ چوراہے کسی اندھی گولی کا نشانہ بنے گا، تو کیا وہ روز محشر میرا گریبان نہیں پکڑے گا؟ میں انھی سوچوں میں غلطاں و پیچاں ابھی راستے میں تھا کہ فضل صاحب کا میسج ملا۔ اسے پڑھنے کی دیر تھی کہ میں حیرت کے سمندرمیں غوطہ زن ہوا۔ گھڑی کے حساب سے ٹھیک پینتالیس منٹ کے اندر اندر فضل صاحب کو اپنی موٹر سائیکل واپس مل گئی تھی۔ پولیس کی بروقت کارروائی اور اس شان دار کارکردگی پر ہمارا انگشت بدنداں ہونا فطری امر تھا۔ اس شان دار کارکردگی کا سہر ا بے شک اس وقت کے مینگورہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے سر رہا۔
قارئین کرام! دو سال پہلے بہ ظاہر چھوٹا نظر آنے والا یہ کیس بہت ہی بڑا ہے۔ اس سے ہماری پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہمارے رفیق کار کی چوری شدہ موٹر سائیکل پینتالیس منٹوں میں برآمد کی جاسکتی ہے، تو دیگر چوریاں کرنے والے، ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد عناصر کا سراغ لگانا بھی پولیس کے لیے چنداں مشکل نہیں۔
یہ تمام ’’نامعلوم افراد‘‘ معلوم ہوسکتے ہیں، بہ شرط یہ کہ ہماری پولیس کا راستہ روکنے والی ’’طاقتیں‘‘ اسے کام کرنے دیں۔
744 total views, no views today


