مینگورہ،پارساکنٹریکٹرزنے مطالبات تسلیم کرانے کیلئے چھ رکنی ایکشن کمیٹی قائم کردی،معاہدہ کے مطابق ادائیگی نہیں کی جارہی،نقصان اٹھاناپڑرہا ہے،اعلیٰ حکام کو مسائل کے حل کیلئے دس ستمبرکی ڈیڈلائن دے دی،اس کے بعد کام بند کرانے پرمجبورہوجائیں گے
،اس حوالے سے محمدشفیق،بہادرخان،محمدسلیم اورپارساکے دیگرکنٹریکٹرزنے سوات پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پارسا نے یو ایس ایڈ کے تعاؤن سے کشیدگی کے دوران تباہ ہونے والے سکولوں کی ازسرنو تعمیرشروع کرائی ،انہوں نے کہاکہ 2009میں ہمارے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا کہ مارکیٹ ریٹ کے اتارچڑھاؤ کے مطابق ہمیں ادائیگی کی جائے گی مگر اب اس معاہدہ پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں فائدے کی بجائے مسلسل نقصان اٹھانا پڑرہا ہے اورنتیجے میں ہم مالی مشکلات کا شکارہورہے ہیں،اس سلسلے میں ہم نے کئی بارمتعلقہ کو آگاہ کیا مگرنتیجہ کچھ بھی نہ نکلا،انہوں نے کہاکہ سکولوں کی ازسرنو تعمیر ومرمت میں ہماری دلچسپی اس لئے بھی تھی کہ ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے گا اوروہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے مگر اب صورتحال یہ بن گئی ہے کہ مارکیٹ میں میٹریل کے نرخوں میں تو اضافہ ہورہاہے مگر ہمیں معاہدہ کے تحت وہی پرانے ریٹ کے مطابق ادائیگی کی جارہی ہے جو ہمیں کسی بھی صورت منظور نہیں،انہوں نے کہاکہ ایگریمنٹ میں یہ صاف صاف لکھا گیا ہے کہ محکمہ مارکیٹ ریٹ کے اتارچڑھاؤ کے مطابق بیس فیصد اٖضافی ادائیگی کا پابند ہوگاجو کہ ہماراقانونی حق بھی بنتا ہے مگر اس ایگریمنٹ کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اوردیگراعلیٰ وذمہ دارحکام ہمارا یہ جائز مسئلہ دس ستمبرتک حل کریں بصورت ہم کام بند کرنے پر مجبوہوجائیں گے،شرکاء نے اس موقع پرچھ رکنی ایکشن کمیٹی پارساکاکااعلان بھی کیاجس کیلئے شیرزمان ٹکر کو چیئرمین،محمد شفیق کو صدرجبکہ مقصودعلی،فہیم خان اورطارق کودیگرعہدیدارمقررکیاگیا۔
461 total views, no views today


