ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ اوردیگر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی بحران کا مسئلہ اب ایسانہیں رہا جو کسی سے ڈھکا چھپا ہومگر مقام افسوس یہ ہے کہ کسی بھی ذمہ دار یا حکومت نے مذکورہ دونوں مسائل کے حل کیلئے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جس کے سبب لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کے مسائل نے سنگین صورت اختیار کررکھی ہے ،سوات میں گھنٹوں گھنٹوں بجلی بندرہتی ہے جس کے سبب ٹیوب ویلوں کا پہیہ رک جاتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر مسائل کے علاوہ پانی کے سخت بحران نے سراٹھالیاہے ،اس وقت واپڈا کے ستائے اور گرمی کے مارے لوگ دیگر کام کاج چھوڑ کر پانی کی تلاش میں سرگرداں پھرتے نظر آرہے ہیں ،لوگ پورا دن دریائے سوات اورقدرتی چشموں سے پانی لارہے ہیں ،اس کے علاوہ بیشتر کنویں خشک ہوچکے ہیں جس کے باعث پانی کی قلت مزید شدت اختیار کررہی ہے ،صاحب ثروت لوگ اپنے گھروں میں ڈرلنگ کنویں کھود رہے ہیں تاہم بے بس لوگ دوردراز سے پانی لانے پر مجبورہیں ،اب تو یہ بھی سننے میں آرہاہے کہ یہاں کاپانی اس قدرآلودہ ہوگیا ہے جس کے استعمال سے لوگ ہیپاٹائٹس سمیت دیگر مختلف قسم کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں مگر یہاں کے عوام مجبوراََیہ آلودہ پانی کررہے ہیں ،اس کے علاوہ لوگو ں کے گھروں تک پانی کی جو لائنیں گئی ہیں وہ بوسیدہ ، خستہ حال اورزنگ آلود ہوچکی ہیں جن میں پانی سپلائی کے وقت ندی نالوں کی گندگی گھس کر گھروں میں پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی مزید آلودہ اور غیرمعیاری بن جاتا ہے ،دوسری جانب رہی سہی کسربجلی کی لوڈشیڈنگ پوری کررہی ہے ،سوات میں اس وقت گھنٹوں گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس کا کوئی شیڈول نہیں بس واپڈاوالے جب چاہئے بجلی کی سپلائی منقطع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا تو دوسری طرف لوگوں کی پریشانیوں اور مشکلات میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ،سوات کے عوام ہر ماہ بڑی پابند ی کے ساتھ بل جمع کراتے ہیں مگر اس کے باوجود یہاں پر دیگر علاقوں کے نسبت زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جوسمجھ سے بالاتر ہے ،یہاں پر مختلف حیلوں بہانوں سے لوڈشیڈنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے جس نے لوگوں کوذہنی کشمکش اورکرب میں مبتلا کررکھا ہے ،سکولوں میں بچے،اساتذہ،ہسپتالوں میں مریض اور عملہ بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں مگر کسی کو بھی ان کے حال پر ترس نہیں آتا ،مقامی لوگوں نے مرکزی اورخیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی بحران کے مکمل خاتمہ کرنے کیلئے ٹھوس،فوری اور موثر اقدامات اٹھائیں تاکہ عوامی مشکلات میں کمی واقع ہوسکے اور وہ سکھ کی سانس لے سکیں۔
1,560 total views, no views today
Comments



