سوات(سوات نیوزڈاٹ کام )برہ بانڈی سرکاری ہسپتال میں ڈیلیوری کیلئے ائی ہوئی خاتون کے شوہر پر مبینہ طور پر فیس نہ اداکرنے پر فائرنگ ، ایف ائی اردرج ہونے سے پہلے ہی دباؤ کے ذریعے راضی نامہ کرلیا گیا، واقعات کے مطابق محمد عالم اف جالاوان تحصیل کبل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہ اتوار کے روز میری بیوی کو ڈیلیوری کیلئے بی ایچ یو برہ بانڈئی لا گیا تھا، جہاں پر سرکاری ڈاکٹر نے ڈیلیوری کے بعد دس ہزار روپے مانگے ، تو میں نے اس کہا کہ یہ تو سرکاری ہسپتال ہے اس دوران لیڈی ڈاکٹر مسز خورشید کے دوبیٹے ائے ایک کے پاس کلاشنکوف تھا جس کے ذریعے مجھ پر مبینہ طور پر فائرنگ کی ، جس سے میں محفوظ رہا ، جب اس سلسلے میں کانجو پولیس سٹیشن گیا اور وہا ں پر رپورٹ درج کی تو پولیس جب برہ بانڈی ہسپتال پہنچی تو انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پی ٹی ائی سے ہیں اپ ان کیساتھ راضی نامہ کریں اور اپنا مریض لے جائیں پولیس نے ہمیں مجبور کیا تو ہم نے راضی نامہ کرلیا ، اس موقع پر محمد عالم کے والد نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کو ہم 4 ہزار روپے دے رہے تھے تاہم وہ دس ہزار مانگ رہی تھی ، جب اس سلسلے میں لیڈی ڈاکٹر کے شوہر خورشید کیساتھ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز چھٹی ہوتی ہے چھٹی کے دن بھی میری بیوی نے خاتون کا علاج کیا جب میڈیسن کے پیسے مانگے گئے تو خاتون مریضہ کی شوہر نے فائرنگ کی ، اس موقع پر میں موجود نہیں تھا جب میں پہنچا تو میں ان سے پیسے بھی نہیں لئے اور رپورٹ بھی درج نہیں کی اور مریضہ کو جانے دیا، اس حوالے سے جب ایس ایچ او یار محمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ہمیں فون پر اطلاع ملی اور ہم وہاں پر پہنچے تو دونوں فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوگیا تھا، اور وہاں پر فائرنگ کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، خاتون مریضہ کے شوہر محمد عالم کا کہنا ہے کہ پولیس جب ہمارے ساتھ ہسپتال ائی تو انہوں نے مخالف فریق کا ساتھ دیا اور ہم پر کافی دباؤ ڈالاکہ یہ لوگ پی ٹی ائی کے اہم ترین بندے ہیں یہ اپ کیلئے مسائل کھڑے کردینگے، اپ ان کیساتھ راضی نامہ کریں،انہوں نے ڈی پی او ، ڈی ائی جی اور ائی جی پی خیبر پختونخوا سے پولیس اور متعلقہ افراد کیخلاف سخت انکوائری کرنے کا مطالبہ کردیا ، واضح رہے کہ خورشید خان ایم این اے مراد سعید کے ایڈوائزر بھی ہیں ۔
1,748 total views, no views today



