کسی بھی شاعر و ادیب کیلئے یہ بات اعزاز سے کم نہیں کہ اس کا پہلا تخلیقی مسودہ کوئی پبلیشنگ ادارہ شائع کرکے منظر عام پر لے ائے اردو زبان کے مشہور و معروف پشتون ناول نگار رحیم گل نے اپنے پہلے ناول ’’تن تارا را ‘‘ کے طباعت کے بارے میں خود تحریرکیا تھا کہ جب انہوں نے ناول کا مسودہ تیار کرکے مختلف پبلشر سے اسے شائع کرنے کیلئے رابطہ کرتے رہے تو انہیں بہت سے مقامات پر انتہائی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور مسودہ کو شائع کرنے کیلئے کوئی بھی ادارہ تیار نہیں تھا تاہم جب ایک ادارہ نے ان کے ناول کو شائع کو کیاتو وہ ہاتھوں ہاتھ بکنا شروع ہوا ’’تن تارا را ‘‘کی مقبولیت کے بعد پھر انہیں مختلف اداروں کی طرف سے دیگر مسودے لانے کیلئے فرمائشیں شروع ہوئیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اشاعتی ادارے اپنے بزنس کی خاطر ان لکھاریوں کو توجہ دیں گے جن کے قارئین موجود ہو ں۔ 
میرے اس تمہید کا مقصد کراچی کی خاتون شاعرہ محترمہ نیلما تصور ؔ کو ان کا شاعری کا پہلی شعری مجموعہ ’’چاند رکھ دو میری ہتھیلی پر ‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد دینے کے ساتھ انہیں یہ بھی باور کرانا ہے کہ ان کا نام بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوا ہے جن کی کاوش کو ابتداء ہی سے سراہا گیا ہو اس لئے اپنی اس کوشش کو ابتداء ہی سے کامیاب تصور کریں میں کتاب کو شائع کرنے والے ادارہ ضیائے نجیب پبلی کیشنز کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس کی انتظامیہ نہ صرف محترمہ نیلما تصور ؔ کی محنت کی قدر کی ہے بلکہ انہوں نے ہزاروں لاکھوں قارئین اور کتب بینی کے شوقین افراد کو بھی ایک ایسی شاعرہ کی تجربات ، احساسات اور مشاہدات کی نچوڑ امانت کے طور پر پہنچائی ہے جسے پڑھ کر نہ صرف قارئین بہت سے حادثات اور مصائب و مشکلات اور حالات کے تھپیڑوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ وہ زندگی کی کامیابیوں او ر کامرانیوں کا سفر بھی اسانی سے طے کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں شاعر جو کچھ لکھتا اور تخلیق کرتا ہے تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کی نچوڑ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے قرب و جوار کے مشاہدے اور دوسروں کے درد و تکالیف کو محسوس کرنے والا بھی ہوتا ہے محترمہ نیلما تصور کی شاعری میں بھی کچھ یہی شامل ہے محترمہ کا شعری مجموعہ مجھے پشتو زبان کے نوجوان شاعر و ادیب ایف ایم ریڈیو کمپئیر زریاب یوسفزئی نے تبصرہ کیلئے پیش کیا کتاب پڑھے بغیر مجھے یہ مشکل درپیش تھی کہ جس شاعرہ کو میں جانتا تک نہیں تو اس کی تخلیق شدہ کتاب پر تبصرہ کیسے کروں گا؟ مگر کتاب پڑھنے کے بعد میری یہ مشکل نہ صرف اسان بلکہ ختم ہوئی کہ مصنفہ سے اگر میری شناسائی نہیں ہے تو ان کی خیالات اور احساسات کتابئی شجک میں میرے ہاتھوں میں ہیں 176 صفحات پر مشتمل کتاب ضیائے نجیب پبلی کیشنز ضلع قصور نے شائع کی ہے مصنفہ نے اپنے کتاب کا انتساب دیگر خواتین شاعروں کی طرح افراد خانہ میں ’’اپنے عظیم بابا اور تایا ‘‘کے نام کیا ہے ۔کتاب کا نام محترمہ نے اپنے ایک شعر
میں نے مانگی ہے روشنی تجھ سے
چاند رکھ دو میری ہتھیلی پر
کے دوسرے مصرعے سے لیا ہے جو کہ بامعنی بھی ہے اورمناسب و موزوں بھی ۔ کتاب میں موجود، حمد و نعت، منقبت ،سلام، قطعات ، نظموں ، غزلوں پراندرون وبیرنی ممالک کے نامور شاعر و ادیبوں راشد نور، شمع چوھدری،محمد ایوب صابر، اوصاف شیخ، غضنفر کاظمی، ملک مہر گل عدیل، ڈاکٹر محمد صدیق نقوی، ساغر ہاشمی سمیت پبلشر ضیاء صابری کے تبصروں اور تجزیوں میں مصنفہ کی کاوش کی تعریف کرکے ان کی شاعری کی فنی اور تکنیکی لحاظ سے بھی جائیزہ لیا گیا ہے اور تقریباً تمام مبصرین نے اپنے اپنے انداز میں نیلما تصور کی شاعری کو اردو ادب میں ایک مثبت اضافہ قرار دیا ہے ۔کتاب میں موجود شاعری سے یہ اندازہ اسانی سے لگایا جاسکتا ہے کہ مصنفہ نہ صرف خود احساس محرومی کی شکارہے بلکہ انہوں نے معاشرے کے دیگر محروم طبقات کا بھی انتہائی قریب سے مشاہدہ کرکے ان کے دکھ درد کو شدت سے محسوس کرکے اسے اپنے اشعار کی زبان دی ہے احساس محرومی میں اپنی قسمت سے گلہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ
میری قسمت کا آسمانوں پر
اب تصور کوئی ستارہ نہیں
یا یہ کہ
کھلنا میری نصیب میں لکھا نہیں گیا
اس گلشن حیات کی ایسی کلی ہوں میں
بے یقینی ہے درد حسرت ہے
ایسے عالم میں کیا کیا جائے
اپنی قسمت سے گلہ ہے ہمیں تجھ سے تو نہیں
ہم تیری بزم میں جاکر بھی جو ناکام ائے
مگر شدت غم اور محرومی کے احساس میں گھوم سُم رہ کر ڈوبنے کے بجائے وہ زندگی جینے کی بھی قائل ہے اور اپنے ساتھ دوسروں کو مسائل کا حل بتاکر حوصلہ دیتی ہے کہ
درد دل کو دوا کہا جائے
ہنستے ہنستے ہی اب جیا جائے
کب تصور نے حوصلہ ہارا
زندگانی تجھے نبھاتے ہوئے
وطن عزیز میں بسنے والے مختلف قوموں کی رسم و رواج اور روایتوں کی وجہ سے مردشاعروں کے بجائے خواتین شاعروں کواپنی خیالات اورضمیر کی اواز کو شعر کے ہار میں موتیوں کی طرح پرونے کیلئے مشکل پیش اتی ہے کیونکہ انہیں معاشرے کی طرف سے اٹھنے والی انگلیوں کا بھی احساس ہوتا ہے اور جن خواتین شعراء نے ان باتوں کی پرواہ کئے بغیر دل کی بات کو شعر کا جامہ پہنایا ہے تو پھرانہیں ادبی دنیا میں اعلیٰ مقام پر فائزہونے میں کوئی رکاوٹ سامنے نہیں ائی مرحومہ پروین شاکر کا مثال ہمارے سامنے ہے نیلما تصور نے بھی اپنی دل کی بات کو ببانگ دہل کہہ کر لوگوں کے ان فسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ کہتی ہے
لوگ کم ظرف ہے گھڑ لیں گے فسانے لاکھوں
تیری جانب سے مگر کوئی تو پیغام آئے
نیلما تصور کے ذہن میں بھی دیگر شاعروں کی طرح ایک ایسے پر امن پیار و محبت سے بھری اور خوشحال زندگی کا تصور موجود ہے جس میں بدامنی،حسد و نفرتوں کا کوئی وجود ہی نہ ہو کہتی ہے
نفرتوں کا تصور نہ ہو جس جگہ
جائیں ایسی جگہ ہو جہاں زندگی
مصنفہ معاشرے کو یہ بھی تنبیہ کرتی ہے کہ مال و زر انسان کو دکھ درد سے نکالنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس کے حصول کے بارے میں سوچھنے والے خود بھی ڈوب جاتے ہیں
مال و زر کی ہوس کی سب سوچیں
آدمی کو نگلتی جاتی ہیں
کہا جاتا ہے کہ جس خوشی کے لمحات کے آنے سے انسان رونے پر مجبور ہوتا ہے تو اس خوشی کا کیا فائدہ ؟اسی خیال کو نیلما تصور نے اپنے شعر میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔
جو غریبوں کا آنکھ نم کردیں
ایسی اجلی بہار کیا کرنا
نیلما تصور کی غزلوں کے علاوہ ان کی نظموں میں ’’جاناں تم تو کمال کرتے ہو، زندان سے رہائی دلا دو،آدمی ترا ڈسا کدھر جائے؟،عید ائیگی بابا، خود سوزی، کسی یتیم کا سوال، محبت روز کرنی ہے ، لفظ زندہ سی ایک حقیقت ہے ، ماں ، محبت اب نہیں کرنی، آگہی اور دیگر نظمیں پڑھنے کے قابل ہے مگر طوالت مضمون سے بچنے کیلئے قارئین کرام پر چھوڑ دیتے ہیں تاہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصنفہ کی فکر و فن، خیالات اور احساسات ایک بہتر ین شاعرہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
5,993 total views, no views today



