جس طرح ایشیاء کا سوئیٹزر لینڈسوات قدرتی حسن وخوبصورتی سے مالامال ہے بالکل اسی طرح یہ وادی مسائل اورمصائب میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ،کچھ تو حکومتوں کی لاپرواہی اورغفلت کی وجہ سے یہاں پر مسائل کی بھر مارہے تو کچھ یہاں پرموجودبعض غیرمقامی لوگ ان مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ قلم اٹھانے کے بعدلکھاری سوچ میں پڑجاتا ہے کہ آخر وہ پہلے کس مسئلہ کواحاطہ تحریرمیں لائے ابھی وہ کسی مسئلہ کو سامنے لانے کیلئے سوچ ہی رہاہوتا ہے کہ اس اثناء میں ایک اورمسئلہ سراٹھادیتاہے ۔
سوات میں موجودمسائل نے تو جیسے یہاں کی عوام کی زندگی اجیرن بناکررکھ دی ہے ،اب حال ہی میں ایک اورسنگین مسئلہ سامنے آیاہے جوشروع سے تو سنگین نہیں تھا مگر ذمہ داروں کی لاپرواہی سے اس مسئلے نے وہ سنگین صورت اختیار کرلی ہے کہ جسے حل کرنااب شائدحکومت کے بس کی بات نہیں رہی ۔
اطلاع ہے کہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ اورگردونواح میں غیرمقامی خانہ بدوش اورپیشہ ورگداگروں نے ڈھیرے جمارکھے ہیں جن میں زیادہ تر تعدادبرقعہ پوش خواتین کی ہے ،یہ خواتین گھروں میں گھس کر بھیک کی آڑ میں چوریاں کرتی ہیں ان بھکارنوں کے مردگھروں اورخیموں میں بیٹھ کر تاش کھیلتے اورچرس پیتے میں جبکہ ان کی خواتین بازاروں،مارکیٹوں،گلی کوچوں اورگھروں میں بھیک مانگتی اورچوریاں اوردیگر وارداتیں کرتی ہیںیہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے مگر تاحال کسی نے بھی ان لوگوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی، ذمہ داروں کی اس لاپرواہی کانتیجہ ہے کہ یہ پیشہ وربھکارنیں بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ چوریوں کی وارداتوں میں مصروف عمل ہیں اوریہاں تک کہ ایک ایک محلے میں چور ی کی کئی کئی وارداتیں کررہی ہیں،اطلاع میں کہا گیاہے کہ اس سلسلے میں پولیس کاموقف ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف اس وقت کارروائی کرتی ہے جب ان کے رنگے ہاتھوں پکڑ جانے کی اطلاع مل جائے اوریہ کہ ان پیشہ ورگداگروں کے خلاف کارروائی کا کام محکمہ سوشل ویلفیئرکا ہے، دوسری جانب محکمہ سوشل ویلفیئرکاکہناہے کہ ان کے پاس پیشہ ورگداگروں کو رکھنے کیلئے جگہ اورانہیں کھلانے کیلئے فوڈ کا انتظام موجود نہیں اس لئے وہ ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہا ،ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں پر بعض ادارے ذمہ داری قبول کرنے کو تیارنہیں جس کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل سراٹھارہے ہیں،یہاں پر یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ بھکارنیں نوجوان نسل کو کھلے عام دعوت گناہ بھی دے رہی ہیں جس سے اس نسل کے تباہ ہونے کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں
عوام کو شائد یاد ہوگا کہ متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں صوبہ بھرمیں پیشہ ورگداگروں کے خلاف ایک منصوبہ بندی کے تحت وقتاََ فوقتاََ کارروائی کی جاتی تھی جس کی وجہ سے معاشرہ پیشہ ورگداگروں سے پاک ہواتھا مگر ایم ایم اے کے بعدکسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی جس کے باعث آج ہرگلی کوچے اوربازارمیں یہ گداگرمنڈلاتے نظرآرہے ہیں جو راہگیروں سے بھیک کے نام پرغنڈہ ٹیکس اورجگاٹیکس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ چوریاں بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہے،یہاں پر اگر کوئی شخص گھرسے نکلے تو سب سے پہلے اسے ان گداگروں یا راہزنوں کامنہ دیکھناپڑتا ہے اورپھراس کی گلوخلاصی اس وقت ممکن ہوتی جب وہ بھیک کے نام پر اس لوگوں کوٹیکس تھمادے ،یہ بھیک منگے کون ہیں؟کہاں سے آتے ہیں؟اورانہیں یہاں پر خیمے لگانے کی اجازت کو ن دیتا ہے ؟ اوران کے خلاف کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جاتی ؟ان سوالوں کا تاحال جواب نہیں ملاتاہم یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں پرکوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ،مگرآخر کب تک یہ لوگ بھکاری کے روپ میں لوگوں کو لوٹتے اور معاشرہ میں بگاڑ پیداکرتے رہیں گے ،اس کا بھی تو وئی حل نکالناچاہئے،اگران بھیک منگوں کو مزید چوٹ دی گئی تو یقیناََ عوامی پریشانیوں میں مزیداضافہ ہوگا۔
ضروت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اورضلعی انتظامیہ مینگورہ شہر اورگردونواح میں موجود پیشہ ورخواتین اورمردبھکاریوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں ضلع بدرکریں تاکہ عوام کولاحق پریشانیوں کا خاتمہ ہوسکے۔
866 total views, no views today


