تحریر؛۔ سعید الرحمان
بنو کے اسپورٹس کپملیکس میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والا دس سالہ وسیم بھی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ راشن کی وصولی کے لیے آیا تھا۔
وسیم اپنے گاؤں میر علی میں پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔ وسیم کے چہرے پر میں نے عجیب قسم کی پریشانی محسوس کی۔ کیوں کہ ان کے لیے بنو کا علاقہ نیا تھا۔ دوسری جانب وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ اتنی شدید گرمی میں قطاروں میں کیو ں کھڑے ہیں؟ وسیم بار بار ڈسٹری بیویشن پوائنٹ میں یو این ایچ سی آر کے لگے ہوئے ٹینٹ کی طرف دیکھتا تھا۔وہ شائد یو این ایچ سی آر کا مطلب جاننے کی کوشش میں مگن تھا۔ وہ معصوم سوچتا کہ مجھے کتابوں میں پڑھائے جانے والے حروف یو، این، ایچ، سی اور آر کا رنگ تو کالا تھا۔ یہاں ان حروف کا رنگ نیلا کیوں ہے؟ شائد یہ معاملہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس نے سوچا کہ چلو اس حوالے سے اپنے اسکول کے استاد سے پوچھ لوں گا۔ مگر اس کے دوستوں کی طرح اس کا استاد بھی، تو گھر سے بے گھر ہوچکا تھا۔وہ ابھی خیالوں کی دنیا میں گم تھا کہ اس کے بھائی کے راشن لینے کا وقت آگیا۔ وسیم سے میں نے کچھ پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ کچھ نہ کہہ پایا۔ صرف وہ مجھے
دیکھتا رہا۔ اس کے ہونٹ بند تھے مگر آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔

یہاں پر یہ بات صرف وسیم کی نہیں میر ا نشاہ کے بیس سالہ میر بدر کی بھی کچھ اس طرح کی حالت زار ہے۔ میر بدر نے بتا یا کہ میں پچھلے کئی سالو ں سے قطر میں محنت مزدوری کر رہا ہوں اور اب جب واپس اپنے وطن آیا، تو آپریشن کے صرف ایک مہینے پہلے میری شادی ہوئی۔ ہم میاں بیوی اور دیگر گھر والے اس نئے رشتے سے بہت خوش تھے۔ قطر واپس جانے کو دل نہیں کررہا تھا، سوچا تھا یہاں ہی کچھ چھوٹا موٹا کام ڈھونڈ لوں گا، مگر بعد میں حکومت کے آپریشن شروع ہونے کے بعد ہم نے بھی بنوں نقل مکانی کی۔ میر بدر مزید بتا تا ہے کہ ہمارے خوشیوں بھرے گھر کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ ہم اپنے گھر سے بے گھر ہو گئے جس کی وجہ سے اب میں گھر کے دیگر افراد کی طرح ذہنی پریشانی کا شکار ہوں۔ میری بیوی اور دیگر گھر والے آ ج اس شدید گرمی میں سڑ رہے ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اگر دس لاکھ روپے مہینہ بھی حکو مت دے، تو بھی ہمیں نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف اپنے گاؤں کا ماحول یاد آرہا ہے۔ خدارا، جو بیس فی صد علاقہ باقی ہے، اس کو بھی دہشت گردوں سے پاک کر اکے ہمیں جلدی اپنے گھروں میں واپس لوٹنے کی اجازت دی جائے۔

میر علی کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ شخص شیر اعظیم کے چار بچے ہیں۔ وہ اسلامیات میں ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے۔ آ ج کل بنوں میں ایک دو کمروں پر مشتمل مکان میں قیا م پزیر ہے۔ شیر اعظم نے اپنی مشکلات بیان کر تے ہو ئے کہا کہ دو کمروں کے اس چھوٹے مکان میں ہم پانچ بھائی رہنے پر مجبور ہیں۔ ہم پانچوں بھائی شادی شدہ ہیں اور ہمارا کنبہ پینتیس افراد پر مشتمل ہے۔ گھر کافی تنگ ہے اور شدید گرمی بھی ہے، لیکن کیا کریں مجبوری ہے۔ ایک ایک چارپائی پر چار سے لے کر پانچ بندے سوتے ہیں۔ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے خود کئی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ رات کو جب بھی سوتا ہوں، تو بچے پوچھتے ہیں کہ باباگھر کب جائیں گے، اور جب جائیں گے تو وہاں ہمارا گھر ٹھیک ہوگا یا وہ بھی تبا ہ ہو گیا ہوگا؟ بس پوری رات یہ سوچتے سوچتے گزر جاتی ہے۔ جس گھر کو بنانے کے لیے پوری زندگی محنت مزدوری کی، خدا جانے وہ سلامت ہو گا یا آپریشن کی نذر ہوا ہوگا۔ اس طرح صبح جب علاقے کے دیگر لوگوں سے ملتا ہوں تو اکثر یہ بحث چھڑتی ہے کہ علاقے میں کچھ بھی باقی نہیں رہا اور سب کچھ تبا ہ و برباد ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔ شیر اعظم نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ جس طرح ہمارا وزیرستان تھا، شائد واپس جاکر اس کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہو۔

ساٹھ سالہ حاجی رحمت خان میرعلی کے رہائشی ہیں اور چار بچو ں کے سرپرست ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میر علی کا علاقہ بہت یاد آتا ہے۔ ہم ادھر محنت مزدوری کر تے تھے مگر زندگی خوشیو ں سے بھری تھی۔ کیوں کہ ادھر ہمارے عمر کے دوست تھے۔ اکثر عشاء کی نماز کے بعد ہجرو ں میں بیٹھ کردن بھر کی صورت حال پر گپ شپ ہو تی تھی، تو پورے دن کا اتر جاتا تھا۔جب سے نقل مکانی کی ہے، تو ہمارا سب چین و سکون برباد ہوگیا ہے۔ ادھر مزدوری کر سکتے ہیں، نہ وہ دوست ساتھ ہیں اور نہ ہجرہ ہی ہے۔ بس بے تاب ہوں کہ وہ دن کب آئیں گے جب ہم واپس اپنے گھر میں ہوں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں یہ نہیں جانتا کہ وہاں طالبان ہیں یا غیر ملکی، بس لاکھوں لوگ گھروں سے بے گھر کیے گئے ہیں۔ حکومت جو کرنا چاہتی ہے بس ایک بار کرلے اور علاقہ کلیئر کر کے یہ آنکھ مچولی ختم کردے۔ تاکہ بار بار ہمیں تکلیف اور اذیت کا سامنا نہ ہو۔ میری علی کے اس متاثرہ شخص سے گفت گو کے دورا ن میں میری نظر ایک معمر خاتوں پر پڑی، جس کے چہرے پر تھکاوٹ او ر مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔ میں اس سے بات نہیں کر پایا، مگر اس کے چہرے سے ایسا لگ رہاتھا کہ وہ بھی اپنے گھر جانے کو بیتاب ہے ۔

1,117 total views, no views today



