جب لکھنے کاموڈ بنتا ہے اور کاغذ قلم اٹھا کر بیٹھ جاتا ہوں، تو اندر سے ایک آواز آتی ہے: ’’یہ تم کیا لکھتے ہو، یوں ہی لوگوں کا وقت کیوں برباد کرتے ہو، تم اپنی تحاریر سے معاشرے کو کیا پیغام دینا چاہتے ہو؟‘‘
قارئین کرام! یہ محض آج کی بات نہیں ہے۔ اس احساس کا دورانیہ کئی سالوں پر محیط ہے۔ میں کبھی اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہوتا۔ میں نے ہمیشہ خود کو طفل مکتب تصور کیا ہے۔ بالکل ایک نالائق اسکول طالب علم کی طرح۔ ہاں اتنا ضرور کیا ہے کہ میں نے اپنی انا کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ میں ہر انسانوں کو خود سے بہتر تصور کرتا ہوں۔ خود کو اک ادنیٰ انسان سمجھتا ہوں۔ خود کو بار بار یہ احساس دلاتا ہوں کہ مجھ میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ ہاں، اگر کچھ ہے، تو وہ ہے صرف اور صرف ’’اخلاص‘‘۔ ملنے جلنے والے سے پیار سے ملتا ہوں۔ انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ پہلے میری زندگی خوب گزرتی تھی۔ میں خوش تھا۔ رنج و غم سے کم کم ہی پالا پڑتا تھا۔ جس طرح میں خود ایک بھولا بھالا انسان تھا، دوسروں کو بھی ویسا ہی تصور کرتا تھا۔ اس لیے میری زندگی ایک خواب کی مانند گزر رہی تھی اور میں سہانا خواب مسلسل دیکھتا رہتا تھا۔ پھر اچانک مجھے زندگی میں انجانی آواز کے سائے محسوس ہوئے۔ میں اب بھی انھیں محسوس کرتا ہوں۔ مجھے بیش تر انسانوں کے قول و فعل میں تضاد نظر آیا۔ میں نے دیکھا کہ یہ انسان جو مجھے بہ ظاہر کچھ کہتا ہے اور جو میں اپنے کانوں سے سنتا ہوں، دراصل یہ اصل بات چھپا رہا ہے۔ اس کے اندر تو کوئی اور بات ہے۔ پس اس بات نے میری زندگی غیر متوازن کی اور میرا سامنا ایک ایسے زلزلے سے ہوا جو صرف میرے اندر برپا تھی۔ پھر یوں ہوا کہ میں نے گھپ اندھیرے میں بھی انسان کے سائے کو دیکھا۔ اُس سائے میں، میں نے انسان کو دیکھا۔ وہ انسان بالکل ویسا نہیں تھا جو بہ ظاہر مجھے نظر آتا تھا۔ میں زندگی کے پر شور سمندر کے کنارے چلا گیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ وہاں میں نے سمندر کو دیکھا جس کی لہریں بار بار کناروں سے ہم آغوش ہو رہی تھیں۔ بہ ظاہر طلاطم خیز موجوں میں شور بہت تھا لیکن ان میں مجھے کہیں بھی آواز کے سائے محسوس نہیں ہوئے۔ میں خوش ہوا کہ یہاں مجھے یک رنگی دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن کب تک؟ میں ساری زندگی توسمندر کے کنارے نہیں گزار سکتا۔ اس لیے بہ امر مجبوری مجھے پھر انسانوں کے درمیان آنا پڑا۔ کیوں کہ انسان ایک معاشرتی جانور ہے۔ تنہائی سے ڈرتا ہے اور انسانوں میں رہ کر ہی خوش ہوتا ہے۔ لیکن یہاں آتے ہی ایک بار پھر مجھے آواز کے سائے محسوس ہوئے۔ میں ایک بار پھر وہ کچھ محسوس کرنے لگا جو انسان چھپا رہا تھا۔ میں انسانوں کو اُن کے اصل روپ میں دیکھنے لگا۔ مجھ پر ہر انسان کی مختلف شکل عیاں ہونے لگی۔ یہ شکل خوب صورت نہیں تھی۔ بہت بد اور ڈراونی شکل۔ اس وجہ سے میں نے سمندر کنارے جانا اور وہاں بیٹھنا اپنا معمول بنالیا۔ طاقت ور لہروں کو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے اور ان سے اٹھنے والے شور نے مجھے سکون سا دیا کہ یہاں دورنگی نہیں تھی۔ ساحل میرے لیے جائے پناہ ثابت ہوا۔ ہربار میری مجبوری مجھے انسانوں کے پاس لے آتی۔ میں انسانوں کو دیکھتا رہتا اور ایک طرح سے کڑھتا رہتا۔ مجھے نظر آنے والے بڑے بڑے انسان، بونے محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ سب دولت کے پجاری تھے۔ ہر ایک انسان کا مطمع نظرصرف دولت کمانا تھا۔ پیسے کی دوڑ میں ہر کوئی شامل تھا۔ انسان کی قدر نہیں تھی۔ بہ ظاہر انسان، انسان کے آگے اٹھتا بیٹھتا تھا مگر مجھے دولت، دولت کے آگئے اٹھتی بیٹھتی نظر آتی۔ انسانی اقدار دولت کے آگے ہیچ تھیں۔ پیسے کمانے کی دوڑ میں کیا بچہ اور کیا بوڑھا، سب ہی شامل تھے۔ اگر بات صرف پیسے کمانے کی ہوتی، تو پھر بھی ٹھیک تھا۔ کیوں کہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے پیسہ کمانا لازمی ہے۔ لیکن یہاں تو اس دوڑ دھوپ نے سب کو اندھا کر رکھا تھا۔ یہاں تک کہ پیسے کے لیے اجرتی قاتل دندناتے پھرنے لگے۔ انسانی رشتوں کی جگہ پیسے کے رشتے بننے لگے۔ اس لیے مجھے پھر سمندر کے کنارے جانا پڑا کہ ایک دن مجھے سمندر کنارے ایک اللہ والا ملا جنھوں نے روحانی طور پر میرا علاج کیا اور میں صحت یاب ہونے لگا۔ اُس اللہ والے نے مستقل صحت یاب ہونے کے لیے مجھے وظائف دیے اور کہا کہ ’’صبح و شام ان کا اہتمام کرتے رہو۔ ان میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔‘‘
736 total views, no views today


